مندرجہ زیل میں ایک تمثیلی تحریر ہے جو غالبا یکم اگست 2026 کو میں نے کورکمیٹی میں لکھی تھی۔
**دیگر سیاسی پارٹیوں اور تحریک انصاف کی تنظیمی میٹنگز میں فرق**:
1۔دیگر سیاسی پارٹیوں میں عام طورپرماہانہ 2 میٹنگز مہینےکی پہلی اور سولویں تاریخ کو ہوتی ہیں۔
2۔ مہینے کی 27 تاریخ کو جنرل سیکریٹری اپنی کابینہ سے ایجنڈا پوائنٹس کےلیے تجاویز مانگتے ہیں۔ مثال کے طور پر
الف: روف حسن: پارٹی جھنڈے خریدنےکےلیے 20ہزارروپےاکھٹےکریں۔
ب: نقوی صاحب: شہر میں وال چاکنگ کریں
ت: کنول شوزب: ایک جلسہ کریں
ث: شیخ صاحب: لوڈشیڈنگ کےخلاف پریس کانفرنس کریں
ٹ: علی امین: پریس کانفرنس نہیں احتجاج کریں
سمجھیں کوئی 8 ایجنڈے آگئے۔ باقی 32 لوگ اس پر ووٹنگ کرلیتے۔
3۔ سیکریٹری جنرل 30 تاریخ کو تین ایجنڈے جنکوزیادہ ووٹ پڑیں وہ لکھ دیتے اورتائید کرتے کہ تیارہوکر آئیں۔
4۔ یکم تاریخ اگست 2026: السلام علیکم۔۔۔سب خیریت سے ہیں۔ ایجنڈا نمبر 1 : پارٹی جھنڈوں کےلیے فنڈ ریزنگ
پہلا مبصر: روف حسن۔۔۔جی اس کےحق میں ہوں۔ 4،3،2،1 یہ دلائل ہیں۔
دوسرا مبصر: نقوی صاحب۔۔۔حق میں ہوں۔۔۔دوتین دلائل
اس طرح ٹوٹل 40 میں سے کوئی 7 یا 8 بندے حق میں بول گئے۔ جنرل سیکریٹری پوچھتے کوئی مخالف ہے؟ جی سالارکاکڑمخالف ہے۔ اور سب حق میں ہیں۔ جی یہ ایجنڈا پاس ہوگیا۔ فائنانس سیکریٹری اگلے 3 دن میں ارکان سے پیسے اکھٹے کریں۔ فلانے تین ارکان جھنڈے خرید کرمہیا کرینگے۔
ایجنڈا نمبر 2 : وال چاکنگ
جی سب حق میں ہیں۔ پاس ہوگیا۔ تحصیل تنظیم کو سرکولر کےزریعے ہدایات دے دیں۔
ایجنڈا نمبر 3: لوڈشیڈنگ کےخلاف احتجاج ہو یا پریس کانفرنس۔
5 بندوں نے احتجاج کے حق میں دلائل دیے۔ 8 نے خلاف۔ فیصلہ ووٹنگ سے ہو۔
25 ووٹ پریس کانفرنس کے حق میں۔ 15 ووٹ احتجاج کے حق میں۔ اس لیے پریس کانفرنس ہوگا۔ سیکریٹری انفارمیشن صاحب دن مختص کریں، پریس کلب والوں کو بول دیں اور ہمیں مطلعہ کریں۔ فلاں فلاں صاحب پریس کانفرنس کرینگے۔
آج کےتینوں ایجنڈوں پر فیصلہ سازی ہوگئی۔ ٹیمیں مختص ہوگہیں عمل درآمد کےلیے۔نقوی صاحب منٹس محفوظ کرلیں تاکہ سند رہے۔ اور پچھلی میٹنگ کی پروگریس ریپورٹ پیش کریں کہ گزشتہ ایجنڈوں پر کتنا کام ہوگیا کتنا نہیں ہوا۔ جنہوں نے اپنی زمہ داریاں پوری نہیں کی ہوتی وہ وجوہات بتا دیتے۔ تنبیہ ہوتی، یا جو کام پورے ہوں انکو سراہا جاتاہے۔ پھر اعلان ہوا کہ اگلی میٹنگ 16 اگست کو ہوگی۔
سالار کاکڑ 6 مہینے بعد کہتا ہے کہ پارٹی بیکار ہے۔ تنظیم نااہل ہے۔ شہر میں ایک جھنڈا نہیں پارٹی کا۔ نقوی صاحب یکم اگست 2026 کے میٹنگ کے منٹس نکال کرکہتے ہیں کہ سالار تم دوغلے بندے ہو۔ یہاں دیکھو تم ہی جھنڈے خریدنے اور لگانے کےخلاف تھے۔ سالار آئندہ 6 مہینے منہ نا کھول سکےگا۔
-----------× ---------× ---------×-------
**تحریک انصاف کی میٹنگ**
1۔ جنرل سیکریٹری صاحب 3 مہینے بعد: کل رات 9 بجے سیاسی و کورکمیٹی کی میٹنگ ہے۔ نعمان لنک جنریٹ کرو۔
روف حسن: ایجنڈا کیا ہے؟
جواب: خاموشی
میٹنگ کا دن:
سلام دعا
تلاوت
جی موسم بہت خراب ہے۔ اس بارے میں جو بات کرنا چاہتا ہے ہاتھ کھڑا کریں
1۔ روف حسن : آفس کے لڑکوں کو تنخواء نہیں ملی۔ آپ لوگ کیوں اسکا حل نہیں نکالتے؟
گوہر صاحب: جی نوٹ کرلیا
2۔ نقوی صاحب: تین مہینے بعد میٹنگ ہورہی ہے۔ یہ میٹنگ تسلسل سے ہونی چاہیے۔ کسی کو معلوم نہیں کیا ہورہاہے۔
گوہر صاحب: جی نوٹ کرلیا۔
3۔ کنول شوزب : پچاس پچاس سال کی سزائیں لےکر آپکی پارٹی کی لیڈرشپ بیٹھی ہے اور الٹا سوشل میڈیا پر انکے خلاف پروپگنڈا ہورہاہے۔
گوہر صاحب: جی نوٹ کرلیا
علی امین: آپ لوگ فیصلہ کریں۔ ہم پر جو بوجھ ڈالینگے ہم حاضر ہیں۔
گوہر صاحب: جی نوٹ کرلیا
سالار : بلوچستان کے مسئلے، فلانے کی غیبت
گوہر صاحب: جی نوٹ کرلیا
داود: بلوچستان کی تعریف، زبردست جوابی حملے
گوہر صاحب: جی نوٹ کرلیا
شیخ صاحب اعلامیہ بناو کہ موسم کی سختیاں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہورہی ہیں اور حکومت اس بارے میں کچھ نہیں کررہی۔ نعمان میٹنگ ختم کردو۔
نا ایجنڈا، نا اس سے منسلک تبصرہ، نا ووٹنگ، نا فیصلے، نا منٹس اور نا عمل درآمد۔
نوٹ: کوئی دوست ناراض نا ہو۔ سب قابل احترام ہے۔ یہ صرف ایک تمثیل ہے کہ ہماری میٹنگز کیسی ہوتی ہیں۔ کیوں بلا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ایک بہت عاجزانہ گزارش ہے کہ اس کو طریقے سے کریں۔ تاکہ نتائج نکل سکیں۔ کام ہوسکے۔ اہداف حاصل ہوسکے۔ کوئی یہاں عقل کل نہیں بن رہا۔ سیاسی پارٹیوں کے یونٹ لیول کی میٹنگز اس طریقے سے ہوتی ہیں اور نتیجہ خیز ہوتی ہیں۔ ہمیں سیکھنے کے عمل سے گریزاں نہیں ہونا چاہیے 🙏
ہماری تین چار گھنٹوں کی مسلسل مغز ماری والی بےنتیجہ میٹنگز کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ۔۔۔
بٹھا کے یار کو پہلو میں رات بھر غالب
جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں۔
وہ ایک بندے پر کسی کا قرض ہوتا ہے تو وہ اسکو فون کرتا ہے۔ یہ کہتا ہے آواز نہیں آرہی۔ جس نےادھاردیاہوتاہےوہ بیچارہ کہتا ہے رکو میں چھت پر چڑھتا ہوں شاید آواز آجائے۔ اگلا کہتا ہے آسمان پر چڑھ جاو پھر بھی نہیں آئیگی۔
تو ہم نے کان میں بھی بات کی، محفل میں بھی بات کی، چھت پر چڑھ کر بھی آواز دی۔ آسمان پر چڑھ کر بھی آواز لگائی۔ کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ میں دو مثالیں دیتا ہوں آپ سمجھ جائینگے۔
ایک معاملہ تھا جس پر ہم طویل عرصہ پوچھتے رہے کیا کرنا ہے؟ کدھر کرنا ہے؟ کیسے کرنا ہے؟ کس کی کیا زمہ داری ہے؟ جواب خاموشی۔ عرصہ بعد اس معاملے میں زبردست نقصان ہوا۔ پھرمیٹنگ ہوئی تو محترم بزرگو نےکہا ہمیں تو خود کچھ نہیں پتہ تھا۔ یہ تو اظہر نے یہ کیا، لالیکا نے یہ بتایا۔ فلانے نے یہ کہا۔ دو دن 8 گھنٹے زبردست میٹنگز ہوئی۔ سب کے دماغ ہلےہوئےتھے۔ سب نے اپنی دانست میں اپنے تجربے کے حساب سے بہترین آراء دی۔ دو دن اور 8 گھنٹے کی مغزماری کےبعد جب فیصلہ سازی کا وقت آیا تو ایک محترم بزرگ نے سب کے مائیک بند کرکے اعلان کیا کہ کچھ بھی نہیں کرنا۔ سب سوجاو۔ او بھائی، او چچا، او بزرگو بات سنو۔۔۔کیا کہہ رہے ہو؟ کیسے؟ کیوں؟ وجہ؟ دلیل؟ ووٹنگ؟ اکثریت آسمان پر چڑھ گئی لیکن میٹنگ ختم اور وٹس ایپ گروپ میں کسی کا جواب نا دیں۔ بتائیں یہ کونسی شرافت ہے؟
دوسری مثال۔۔۔ ایک کیس ڈیڈھ سال چلا۔ ہماری عدم شرکت پر عدالت نے خارج کردیا۔ میٹنگ بلائی گئی۔ سب نے پوچھا کہ یہ ظلم کیوں ہوا۔ بزرگ نے صفائی دی کہ 1 سے 20 تک یہ ہوا۔ 20 سے 50 تک یہ ہوا۔ 50 سے 100 تک یہ ہوا۔ میں نے سوال کیا کہ آپ مطمئن ہو؟ فرماتے 100 فیصد۔ میں نے گزارش کی کہ یہی سب کچھ لکھ کر ہمیں ایمیل کردیں۔ کہتے آپ نے ایمیل میں کیا کرنا ہے؟ میں نے کہا آپ مطمئن ہو تو پھر لکھ کر دینے میں کیا حرج ہے؟ اور ایمیل میں اس لیے کہ کل میرا لیڈر باہر آئے تو اس معاملے پر میں نے بات کرنی ہے۔ بزرگ غائب۔۔۔میں دنوں تک ایمیل مانگتا رہا۔ اسکے بعد میں نے کہا نہیں دیتے ہو ایمیل تو نا دو۔ کم از کم میٹنگ کے من��س تو دے دو۔ وہ تو یہاں موجود ہر میمبر کا حق ہیں۔ اس سے تو پتہ چلتا ہے کہ کب میٹنگ ہوئی، کون حاضر تھا، کون غیر حاضر، کس نے کیا بولا، کون کسی فیصلے کے حق میں تھا کون مخالف، کتنے ووٹوں سے کونسا ایجنڈا پاس یا ریجیکٹ ہوا۔ اس ایجنڈے پر آگے کتنا کام ہوا۔ یہ آپکی پارٹی بلکہ ہر تنظیم کی بنیاد بنتی ہے۔ پوچھیں اگر پچھلے تین سال میں آج کے دن تک باو��ود باربارمانگنے کے ہمیں ایک میٹنگ کے منٹس ملے ہوں۔
یہ پارٹی امانت ہے خان اور عوام کی، یہ تحریک امانت ہے۔ یہ عہدے اور کمیٹیاں امانت ہیں۔ یہ صرف ٹائٹل نہیں بہت بڑی زمہ داری ہے۔ اور ہر زمہ داری کا سوال جواب ہوتا ہے۔ آج ہمارا لیڈر جیل میں ہےتین سال سے، انکی منکوحہ جیل میں ہے دو سال سے۔ اسکی بہنیں جیل میں ہیں۔ سینئیر لیڈرشپ جیل میں ہے۔ خواتین جیل میں ہیں۔ ڈیڈھ دو ہزار کارکن جیل میں ہیں۔ آپکے ایک صوبے کا وزیراعلی اغواء ہے، صوبائی صدر اغواء ہے، اسپیکر اغواء ہے۔ کون کس حال میں ہے کسی کو نہیں معلوم۔ خان کی بہن کو رات میں ہسپتال لے جاتے، اگلی رات کو واپس لے آتے۔ انکی بیٹیاں ساری رات ہسپتالوں کے برآمدوں میں ایک سرے سے دوسرے سرے بھاگتی رہتی، کوئی ظالم اتنی شرم نہیں کرتا کہ بچیوں کو والدہ سے ملنے دے۔ خان کے بلڈ پریشر کا مسلسل مسئلہ چلا آرہا ہے۔ ہم میٹنگوں پر میٹنگیں کرتے، باتیں کرتے، پھر فلاں فلانے سے ملتا ہے۔ توفلاں میڈیا ٹاک کرتا ہے، فلاں فون کرتا ہے۔ بس ان دائروں میں گول گول گھوم رہے ہیں۔ بتائیں پچھلے تین سال میں تین سو محاظوں میں سے ہم ایک بھی جیتے ہوں؟ بس ہے یہ آنیاں جانیاں ختم ہوں۔ جو نہیں کرسکے اتنے وقت میں کچھ وہ آگے بھی نہیں کرسکینگے۔ استعفے دیں سب مجھ سمیت۔۔۔نیا نیشنل کونسل بنائیں، نئی کورکمیٹی بنائیں، نئی لیڈرشپ لائیں۔ جو زمہ دار ہوں، جنہوں نے تنظیمیں چلائی ہوں، جو اہداف کی نشاندہی کریں اور اہداف حاصل کرکے دیں۔ نہیں ہے زیادہ وقت ہمارے پاس۔ خان کےبیٹےباربارکہہ چکےیہ ہمارے والدکومرسی کی طرح مارناچاہتے۔ خان خود کہہ چکاہے یہ۔ اتنے برگزیدہ نہیں ہیں ہم کہ ہماری تمکنت خان کی زندگی یا انکے خاندان کی قربانیوں سے زیادہ ہو۔ سب سے سوال ہونگے۔ سب نے جواب دینا ہے۔
میرا نہیں خیال کے ان حالات میں استعفے دینے چاہییں
عمران خان نے آپ سب پر اعتماد کر کے کمیٹیوں کا حصہ بنایا
عمران خان کی غیر موجودگی میں سب کو اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہنی چاہییں - اور انٹرنل فورمز پر اختلاف رائے کرتے رہنا چاہییے
اگر سب ہی ناراض ہو کر ��ھوڑتے رہے تو پھر پیچھے کیا بچے گا
مجھے استعفی کےباوجودکل کورکمیٹی میٹنگ کابلاوا آیاتھا۔ جس نےبھی بھجوایاتھاانکاشکریہ۔ لیکن میری گزارش ہوگی میرے استعفی پر فیصلہ کریں۔ میرا استعفی میری گزارش اور مودبانہ لیکن پرزور احتجاج ہےکہ پارٹی کےاہم ترین پلیٹ فارم درکارفیصلہ سازی کی بجائے گپ شپ، باہمی تحسین اورڈیمیج کنٹرول کےلیےاستعمال ہوتے۔ وہاں موجودقابل دوستوں کی مفید آراء کوپس پشت ڈال کرچند اشخاص فیصلےکرتےجوبعدمیں اپنےہی فیصلوں سےناصرف مکرجاتےبلکہ بہانہ سازی اور الزام تراشیاں شروع ہوجاتی۔ کوئی خاندان ہو، کرکٹ ٹیم ہو، کارپوریٹ بزنس ہو یا سیاسی جماعت۔۔۔جو اختیار رکھتے وہ ��مہ دار ہوتے تمام فیصلوں اور انکےنتائج کے۔ اور ان فیصلوں کی ستائش یا سوال جواب انہی بااختیار حضرات سے ہوتی ہے۔ ملک گیر جماعتیں تمام صوبوں اور انتظامی اکائیوں کوساتھ لےکرچلتی۔ یونٹ لیول سے کورکمیٹی/سیاسی کمیٹی تک معلومات آتی اور اوپر بیٹھے دوست فیصلے کرتے۔ میں نے ایک بار نہیں ہزار بار، اور بلامبالغہ ہزار بار گزارش کی کہ یا تو فیصلہ ساز فورم پر موجود تمام دوستوں کی آراء کااحترام ہو، مشکل فیصلے ووٹنگ سے ہوں اور ان اجتماعی فیصلوں کا بوجھ پھر تمام تنظیم اٹھائے۔ یا پھر اگر صرف چند دوست فیصلے کرتے تو ہم یہ حقیقت سامنے رکھنے میں حق بجانب ہونگے کہ ہر اچھے فیصلے کی ستائش ان محدود دوستوں کا حق ٹہرے اور ہر غلط نتیجے کا بار بھی انکے کندھے پر ہو۔ حقیقی لیڈرشپ کا فرض ہے کہ وہ مضبوط ٹیم بنائے، مشکل فیصلے کرے، پھر ان فیصلوں پر عمل درآمد کرائے اور انکے اچھے یا برے نتائج کو سینہ تان کر اپنائیں۔ ورنہ ہماری جماعت کی مثال بھی اس ریجیم کی طرح ہے جو دنوں کے حساب سے اربوں کے قرضے ��یتی اور ان قرضوں کا بوجھ مظلوم عوام اٹھاتی ہے۔ جو پھر اظہار اختلاف، تنقید یا احتجاج کو انتشار اور غداری سے تعبیر دیتی اور ایسی جرات کرنے والوں کو قانون یا ڈسپلن کے نام پر برے نتائج کی دھمکیاں دیتی۔ حقیقی لیڈرشپ ناکامیوں کے وقت خود کو آگے کرکے الزام اپنے سر لیتی ہے اور کامیابی کو ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ اس کے برعکس، اسکے متضاد جب الٹی گنگا بہنے لگے تو آپکی ٹیم سکڑتی جاتی ہے۔ اور آخر میں قوالوں کےساتھ صرف تالیاں بجانے والے ہمنواء ہی رہ جاتے ہیں۔ حقیقی لیڈرشپ اپنی ٹیم، اپنے رفقاء اور اپنی سپورٹ بیس کو مسلسل جیت کی امید دلاتی ہے اور فرنٹ سے لیڈ کرتی ہے۔ یہ غلط ہے کہ ہم الٹا انکو مایوس کریں کہ قوم نہیں نکلتی یا کہ پارلیمینٹیرینز چندہ نہیں دیتے یا فلاں دھوکہ دےگیا اور میں تو محنت کررہاتھا۔ اس سے لوگوں کے حوصلے مزید پست ہوتے۔ اور کوئی کیوں آپکے ساتھ کھڑا ہوگا جب آپ پہلے دن خود ہی مایوس ہونگے؟ حقیقی لیڈرشپ اپنی ٹیم کے ہر لفظ کو غور سے سنتی ہے اور معیار میں مسلسل بہتری لاتی ہے۔ کورکمیٹی کے میٹنگز کو Psychological venting session نا بنائیں کہ محترم میمبرز آئینگے، بولینگے بولینگے، بھڑاس نکالینگے اور بس ہم نے انکا غصہ ٹھنڈا کردیا اب بات ختم۔ یہ آپکی اچھائی نہیں ہے کہ آپ انکو سن لیتے ہیں اور اس پر خاموش رہ لیتے ہیں۔ اور آگے رات گئی بات گئی۔ ہر مسئلے ہر ناکامی پر "مٹی پاو دن مکاو" پروگرام لاگو کرتے جائیں۔ یہ آپکی شرافت نہیں ہے نا اچھی بات ہے۔ نا یہ احترام ہے۔ یہ تصحیک ہے ان تمام 66 میمبران کی جنکا شاید مجموعی سیاسی تجربہ 500 سال سے زیادہ ہو۔ جو اپنے علاقوں، قبائل اور عوام کے بڑے ہیں۔ جن کی خدمات اور مفید سیاسی، معاشی اور معاشرتی تجربہ ہے۔ آپ انکو پانچ سال کا بچہ سمجھ کر، اسکی ہائی لے لے سن کر، تھپکی دے کر، انکو سلاکر اگر آپ سمجھتے آپ کوئی اچھا کام کررہے ہیں تو آپ محترم متنبہ ہو کہ یہ آپ انکو، اپنے آپ کو، اس پارٹی کو، عمران خان کی تیس سالہ محنت کو اور اس تحریک کو جواس ملک کو بچاسکتی ہے؛ ان سبکو دھوکہ دےرہے ہیں۔ عمران خان کی صحت خراب ہے۔ انکا خاندان جیل میں ہے۔ انکی زندگی کو خطرہ ہے۔ میرا دعا اور گزارش ہے اب آپ سنجیدہ ہوجائیں۔ اب آپ پارٹی کو پارٹی کی طرح چلائیں ناکہ فین کلب کی طرح۔ آمین۔ اور میری آواز بری لگےتوپیغام دیجیےگا۔ اگرہماری خاموشی سےتحریک کودوام ملتاہےتوہم حاضر۔ لیکن کسی ایسے مسند کےخواہاں نا ہونگے جس سےعمران خان، تحریک انصاف یا عزیز رفقاء مضبوط ہونےکےبجائےمزید کمزورہوں۔ یا ہمارے لیڈر اور اس قوم کا مزید قیمتی وقت ضائع ہو۔
اللہ عمران خان اور پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔
صاحبزادہ صاحب کو اللہ صحت، صبر و استقامت عطا کرے اور انکو پابند سلاسل رکھنے والوں کو احساس شرم! ایسے لوگ کم ہیں اس ملک میں جو فرقہ پرستانہ منافرت کے راستے میں کھڑے ہوئے۔ جنکی موجودگی خرابے کی بجائے خیر کا باعث ہواور جومخلق کی خدمت میں خوشی پاتے ہوں۔ گرفتاری سے پچھلی رات کو میری انسے بات ہوئی تھی۔وہ بہادر شخص اپنے اہل خانہ، ساتھیوں اور رفقاء کو آزمائش میں ڈالنے کےبجائے خود ان آزمائشوں کا سامنا کرنے کو بہتر سمجھتا تھا۔ اللہ انکو جلد رہائی نصیب کرے اور ہمارے لیڈر اور ملک پر اپنا کرم فرمائے۔ آمین۔
اللہ ایڈوکیٹ چوہدری اویس یونس صاحب کے والد محترم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور انکے اہل خانہ کو صبر عطا کرے۔ چوہدری صاحب مشکل وقت میں بلا لالچ و غرض خان صاحب، انکے اہ�� خانہ، پارٹی لیڈرشپ اور عام ورکرز کے لیے دن رات چٹان بن کر کھڑے رہے ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں تمام پی ٹی آئی فیملی انکے ساتھ کھڑی ہے اور انکے مرحوم والد کی بخشش کے لیے دعاگوں ہیں۔ 🤲
@ChaudhaaryAwais
امریکہ ہم سے بہت پیچھے ہے بھائی۔ ہم ٹیکنالوجی میں اتنے آگے ہیں کہ 1 پولنگ اسٹیشن جیتنے والے کو سیٹ دے دیتے ہیں اور 231 پولنگ اسٹیشنز جیتنے والے کو جیل بھیج دیتے ہیں۔
ٹرمپ ایران جنگ کیوجہ سے نہیں ہارا۔ وہ اس لیے ہارا کہ اس نے ہماری قدر نہیں کی۔ ہم جو شہباز شریف میں سے نیوٹن نکال دیتے ہیں۔ الیکشن ہمیں دیتا تو السید بےشک 51فیصد ووٹ لےلیتا۔ لیکن روجرز 144 فیصد سے جیت جاتا۔ سالےبےقدرے، اسکو تو ہم 300 سال کی جیل بھی دلواچکےہوتے۔ سالار سلطان زئی
@WhySalar
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
@HarmeetSinghPk یہ جوتے والا معاملہ عموما فراڈ ہوتا ��ے۔ اسلام آباد ایف 10 مرکز میں ایک بندہ جوتے ہاتھ میں اٹھاکر ننگے پیر چل کر لوگوں کو کہتا کہ یہ جوتے بیچنے ہیں۔ ظاہر ہے لوگ متاثر ہوکر مدد کردیتے۔ وہ بندہ میں نے دو تین مہینوں میں مختلف جگہ دیکھا۔ وہی جوتے، وہی معاملہ۔ باقی واللہ عالم۔
میں چئیرمین اور جنرل سیکریٹری سے صرف پانچ سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔
1۔ 8 فروری سے اب تک کی کارکردگی ریپورٹ پیش کریں۔
2۔ اس وقت پارٹی کےفیصلےکون کررہاہے؟
3۔ آپکے اہداف کیاہیں؟
4۔ آپکےاقدارکیاہیں؟
5۔ اہداف کے حصول کالائحہ عمل کیاہ��؟
سالار کاکڑ، 5 نومبر بروز جمعرات، 2026۔
گزشتہ شب درگئی سے منتخب ایم پی اے پیر مصور غازی کے خاندان پر قیامت ڈھا دی گئی۔
پیر مصور غازی کی ضعیف العمر والدہ کینسر کی مریض ہیں اور دل میں 2سٹنٹ لگنے کے بعد اب اوپن ہارٹ سرجری ہونی والی ہے۔ انکو بچوں سمیت سردی میں بے گھر کرنا اور لاٹھیوں سے تشدد کرنا نا تو قانون اجازت دیتا ہے اور نہ ہی پشتون ولی؟
@PirMusavirPTI
وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کو ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کی خلاف درخواستیں سننے سے روک دیا
پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی رہنمائوں اور کارکنوں کی گرفتاری سے روکنے کا حکم بھی معطل کر دیا گیا
مسلط شدہ رجیم چاہتی ہے مہذب اور عزت دار لوگ سیاست نہ کریں، صرف انکے ٹاوٹس ہی سیاست کریں جو ہر جائز ناجائز حکم پر عمل کرے۔
پیر مصور خان جیسے شریف النفس لوگوں کی چادر چار دیوا��ی کے تقدس کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرتے، پاکستان میں شرافت سے سیاست کرنا گناہ ہے؟
یہ دھان پان سی خاتون بھی برہمن اشرافیہ کو 77 فیصد کی لیڈ سے ہرا رہی ہیں۔ تیرے تو کاغزات نامزدگی تین سال ریجیکٹ ہوتے رہتے۔ تھری ایم پی او میں اگلے تین سال مزید اندر رکھت��۔ ساتھ القاعدہ سے تعلقات بھی ثابت ہوتے۔ چودہ طبق روشن ہوجاتے۔
ٹرمپ ایران جنگ کیوجہ سے نہیں ہارا۔ وہ اس لیے ہارا کہ اس نے ہماری قدر نہیں کی۔ ہم جو شہباز شریف میں سے نیوٹن نکال دیتے ہیں۔ الیکشن ہمیں دیتا تو السید بےشک 51فیصد ووٹ لےلیتا۔ لیکن روجرز 144 فیصد سے جیت جاتا۔ سالےبےقدرے، اسکو تو ہم 300 سال کی جیل بھی دلواچکےہوتے۔
شاہ محمود قریشی کوٹ لکھپت جیل میں بیرک کے احاطے میں چہل قدمی کے دوران اچانک بے ہوش ہو کر گرے، جسم پر چوٹیں آئیں، وکیل تیمور ملک @taimur_malik کا ضروری ٹیسٹ کرانے کیلئے درخوا��ت دائر کرنے کا اعلان
نوٹ: شاہ محمود بغیر کسی سزا قید ہیں، پراسیکیویشن کے ریکارڈ پیش نہ کرنے پر ضمانت کی درخواستوں کی سماعت نہیں ہو پا رہی، کوئی 90 سے زیادہ سماعتوں پر ریکارڈ عدالت پیش نہیں کیا جا سکا
والدہ بستر مرگ پر تھیں، ہمیں مار مار کر جسم کالا کر دیا گیا، وہ صدمہ برداشت نہ کر سکیں اور جب میں لمبی جیل کے بعد ہسپتال پہنچا تو والدہ کومہ میں جا چکی تھیں، میں ان سے بات نہیں کر سکا، خواجہ سعد رفیق
@KhSaad_Rafique