یہ نوجوان اپنوں سے بچھڑا ہوا ہے۔۔!!
اپنے متعلق کچھ یاد نہیں ہے۔ سال 2009 میں ملتان کے شیلٹر سے کراچی کے شیلٹر میں منتقل ہوا۔
فائل کے مطابق نام غلام صادق اور والد کا نام غلام حسین ہے۔
اس وقت جو بیان دیا تھا اسکے مطابق دو بھائی اور ایک بہن تھی۔ نام یاد نہیں ہیں۔
سب سے پہلے ملتان کے شیلٹر میں جمع ہوا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے غلام صادق ملتان یا اسکے آس پاس کسی شہر کا ہوسکتا ہے۔
غلام صادق اس وقت لاوارث اور بے یارو مددگار ہے۔
ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے اور وہیں راتیں گزارتا ہے۔ کسی قسم کی سماجی زندگی نہیں ہے۔
یہ بھی امکان ہوسکتا ہے اصل نام غلام صادق نا ہو۔ بچپن کی تصویر دیکھ کر ورثاء پہچان لیں گے۔
برائے مہربانی انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
ملک بھر کے کونے کونے میں اس پوسٹ کو عام کریں اور ایک دکھی انسان کے چہرے پر خوشیاں لوٹائیں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
4 Aug 2026
#waliullahmaroof
Five-year-old Mohammed Fasfous has been suffering from a severe and persistent enlargement of the liver and kidneys for two years, causing severe swelling in his small body and a rapid deterioration of his health condition amid the harsh conditions in Gaza and the inability of local hospitals to provide the necessary treatment for his critical condition.
We appeal to international health organizations for urgent intervention and to help him receive treatment outside the strip before it is too late.
Contact/WhatsApp: +970597649287
الطفل محمد فسفوس، البالغ من العمر خمس سنوات، يعاني من تضخم حاد ومستمر في الكبد والكليتين منذ عامين، مما أدى إلى تورم شديد في جسده وتدهور سريع في حالته الصحية في ظل الظروف القاسية بغزة وعجز المستشفيات المحلية عن تقديم العلاج اللازم لحالته الحرجة.
نناشد المنظمات الصحية العالمية للتدخل العاجل ومساعدته لتلقي العلاج خارج القطاع قبل فوات الأوان.
للتواصل/واتساب: 0597649287
ہری پور کے دوست مدد کریں۔۔!!
ان باباجی کا ننام مطلوب خان ہے ، انکے والد کا نام بوستان خان ہے۔ وہ تقریباً پچاس سال پہلے اپنے گاؤں اندرا ڈوگا، ہری پور، پاکستان سے یوکے آئے اور ابھی یوکے میں رہتے ہیں۔ وہ ایک عراقی فیملی کے ساتھ آئے تھے، جن کے ساتھ انہوں نے یہاں کام شروع کیا۔ بعد میں وہ الگ ہو گئے، اور مطلوب خان یہی یوکے میں رہ گئے۔ جب وہ پاکستان سے آئے، تو ان کے آنے کے بعد ان کی ایک بیٹی پیدا ہوئی، جو پاکستان میں ہی تھی۔ شروع میں ان سے رابطہ تھا، لیکن بعد میں پتا چلا کہ ان کی بیٹی کا نکاح انکے ماموں زمان خان کے بیٹے سے لاہور میں ہوا، اور وہ لاہور میں رہتی ہے۔ لیکن میرا اپنے خاندان والوں سے کوئی تعلق نہیں رہا، کیونکہ انہوں نے مجھ سے رابطہ نہیں رکھا، اور میں نے بھی نہیں رکھا۔ بس اسی طرح میری زندگی گزری، اور آج میری حالت بہت زیادہ خراب ہے۔ ابھی میں ہسپتال میں ہوں، اور یہی دعا کر رہا ہوں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ میری بیٹی کو میرے ساتھ ملا دیں، تاکہ میں اپنی بیٹی سے مل سکوں یا اس سے فون پر رابطہ کر سکوں، کسی بھی طرح، تاکہ میرے دل کا بوجھ ہلکا ہو سکے۔
ہری پور کے دوست اس پوسٹ کو ارجنٹ شئیر کریں ۔ فی الحال صرف ایک باپ کو بیٹی سے ملانے میں مدد کریں بقیہ باتیں بعد میں ان شاءاللہ۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں
+923162529829
4 aug 2026
#waliullahmaroof
اس نوجوان کو اپنوں سے ملائیں۔۔۔!!
اس نوجوان کو اپنا نام راشد یاد ہے اور والد کا نام محمد صدیق۔
مادری زبان سرائیکی ہے۔
راشد کا کہنا ہے کہ آج سے بیس بائیس سال قبل مجھے میرے والد نے کسی گھر میں کام پر رکھا تھا۔ میں کام سے بھاگ جایا کرتا تھا۔ ایک دن میں بس میں بیٹھ کر کہیں دور نکل گیا۔ شاید کراچی سے سکھر پہنچ گیا۔ ہم کراچی میں ہی رہتے تھے۔
سکھر میں مجھے ایک شیلٹر میں جمع کیا گیا۔ پھر وہاں سے کراچی شیلٹر منتقل ہوا۔ اور یہیں میں بڑا ہوکر جوان ہوا ۔ اور اب لاوارثی کی زندگی بسر کررہا ہوں۔ لاوارثی کی زندگی بہت اذیت ناک ہے ۔ برائے مہربانی مجھے اپنوں سے ملائیں۔
راشد کو صرف اپنا اور والد کا نام یاد ہے ۔ شیلٹر کی فائل سے بچپن کی فوٹو ملی ہے جو ورثاء تک پہنچنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔ فائل میں ایک جگہ ایڈریس بھٹو کالونی نیو کراچی لکھا ہے اور دوسری طرف نارتھ کراچی لکھا ہے۔ شاید بچپن میں ان دو جگہوں کے نام راشد کو یاد ہونگے جو فائل میں لکھے گئے ہیں۔
سرائیکی وسیب کے دوست بالخصوص اور ملک بھر کے تمام دوست بالعموم اس پوسٹ کو دل کھول کر شئیر کریں۔
راشد کو اسکے خاندان سے ملانے میں مدد کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
3 اگست 2026
#waliullahmaroof
🚨🇮🇱 A Palestinian mother says she found her missing child through a selfie posted by IDF soldiers. This is so heartbreaking.
Repost this, the world needs to see this.
آج یکم اگست ہے ۔۔ یہ بچہ ایک اگست 2024 کو پاکستان ریلوے پولیس کو لودھراں ٹرین اسٹیشن پر لاوارث حالت میں ملا تھا۔
آج دو سال ہوگئے اسکو لاوارث ہوئے۔
بچہ بہت ننھا سا تھا بات نہیں کرسکتا تھا۔ ورثاء کو ڈھونڈنے کی بہت کوششیں کی گئی ہیں۔ ہم نے بھی دو بار پوسٹ لگائی تھی لیکن گھر والوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
بچے کو ایک سرکاری شیلٹر میں دے دیا گیا تھا۔
راتوں کو بچہ اٹھ کر زور زور سے روتا تھا۔ ماں کی آغوش میں جس بچے کو ہونا چاہئے تھا وہ شیلٹر میں ہے۔ راتوں کو اٹھ کر کمرے سے باہر نکل کر دیکھتا کہ شاید امی سوئی ہوئی ہوگی انکے پاس سر رکھ کر سوجائےگا۔ لیکن آج تین سال مکمل ہوگئے کسی نے اس کے لئے رابطہ نہیں کیا۔
بائیں طرف پرانی تصویر ہے اور دائیں طرف حالیہ
برائے مہربانی انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو پاکستان کی گلی گلی میں عام کریں۔ جس کونے میں بھی والدین موجود ہوں ان تک ہماری پوسٹ پہنچ جائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
1 Aug 2026
#waliullahmaroof
محمد گل صاحب ہمارے عزیز ہیں پنڈی میں ریائش پذیر ہیں شاعر ہیں مصنف ہیں 70 سال کے ہیں رٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں گزشتہ دنوں زیر علاج رہے ذھنی طور پہ متوازن نہیں ہیں گھر سے نکلے اور غائب ہوگئے احباب سے درخواست ھیکہ انکی تلاش میں مدد دیں پنڈی اور اطراف کے دوستوں سے خصوصی توجہ کی اپیل ہے
مجھے میرے ماں باپ سے ملائیں۔۔!!
اس خاتون نے اپنی داستان سنائی تو سن کر کانپ گیا۔
کہتی ہے: میری عمر چار سے پانچ سال تھی،میرے والد کا ایک بہت ہی عزیز دوست جسکا نام *** تھا ۔اسکا ہمارے گھر آنا جانا بھی لگارہتا تھا۔
والد کے دوست نے ایک دن مجھے کہا چلو تمہیں جھولا جھلاتا ہوں۔میں خوشی خوشی ساتھ روانہ ہوگئی۔
وہ مجھے ٹرک میں بٹھاکر دور کہیں اپنے ایک رشتےدار کے ہاں لے گیا اور مجھے کہا یہ تمہارے ماں باپ ہیں۔
جیسے جیسے میرے والدین شاید ڈھونڈتے ڈھونڈتے قریب پہنچتے وہ شخص کسی دوسرے رشتے دار کے پاس منتقل کردیتا۔ میں تقریبا 8 سال انکی قید میں رہی چار سے پانچ جگہے تبدیل کئے انہوں نے۔
پھر آخری بار جس گھر میں تھی اس گھر میں ایک بزرگ موجود تھا۔ایک دن گھر میں کوئی نہیں تھا۔ بزرگ نے مجھے کہا بیٹا یہاں سے نکل کر تم بھاگ جاو۔ جہاں بھی جاوگی اللہ تمہارا بھلا کرےگا لیکن یہاں سے کسی صورت خود کو نکال دو۔
میں نکل کر ایسے بھاگی کہ پیچھے دیکھا ہی نہیں جاتی رہی جاتی رہی۔
کسی علاقے میں پہنچ کر ایک فیملی کے ہاتھ لگی۔ انہوں نے مجھ رکھ لیا۔ میں 13 سال کی ہوچکی تھی۔ 13 سال کی عمر میں میری شادی کرلی گئی۔
سال 2001 میں میری شادی ہوئی تھی۔8 سال قید اور چھبیس سال شادی کے ہوئے۔34 سال قبل کا واقعہ ہے یہ۔
میری دھندلی یادوں کے مطابق میرا نام گھر میں عندل حفیظ تھا والد کا نام انور تھا اور والدہ کا نام سکینہ تھا۔ اور ہمارے ایک ماموں کا نام نواز ڈوگر تھا۔
ہمارا گھر گاوں میں تھا۔کھیتوں کے درمیان گھر بنا ہوا تھا۔گھر کے باہر کنواں تھا۔قریب میں امرود کا درخت تھا۔اور ایک دربار بھی تھا۔
میں ابھی پانچ بچوں کی ماں ہوں لیکن میرے ماں باپ کی یاد آج تک مجھے چین سے جینے نہیں دے رہی۔
خدا کے لئے مجھے اپنوں سے ملائیں
تمام دوست انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
31 july 2026
#waliullahmaroof
کراچی شفیق کالونی کا ایک کاکروچ دو دن پہلے اس نالے میں گرنے والے اپنے کاکروچ بچے کو تلاش کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، حشرات الارض جیسی زندگی بسر کرتے کروڑوں پاکستانی کاکروچوں کا کرب اس ایک کاکروچ کے چہرے پہ دیکھا جاسکتا ہے
Mohammad Irfan admits: “I don’t keep Roza, I don’t pray Namaz.” Yet on camera he praises Hindu deities and chants Hindu slogans, just to please the majority.
Irfan claims he’s uneducated… yet somehow found enough YouTube and Google knowledge to know everything except the most basic tenet of his own faith.
Liberals love these soft, smiling, compromised Muslims. They promote them, platform them, and turn them into stars. Why? Because a Muslim who is ready to dilute Tawheed (absolute oneness) is useful.
A Muslim who holds firmly to his aqeedah is a problem for them. We are not interested in their approval.
We are not interested in their good Muslim certificates.
We have a serious problem with anyone who trades the pure oneness of Allah for temporary applause.
یہ نوجوان لاہور کا محمد صائم ہے،تین بچوں کا باپ ہے، آج زندگی اور موت کی کشمکش میں ریاض کے جگر ٹرانسپلانٹ سینٹر میں بے یارومددگار پڑاہے ۔ڈاکٹرز کے مطابق اس کی زندگی بچانے کا واحد طریقہ جگر کا ٹرانسپلانٹ ہے ۔سعودی عرب کے ڈاکٹرز نے مشورہ دیا ہے کہ اسے ائیر ایمبولینس کے ذریعے فورا پاکستان لے جائیں جہاں اس کی فیملی اسے جگر کا عطیہ کرے تو اس کی جان بچ سکتی ہے
حکومت سے درخواست ہے کہ اپنے شہری کی جان بچانے کے لیے فوری طور پر اپنا کردار ادا کرے اور صائم کو سعودی عرب سے PKLI لاہور منتقل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ ممکن ہے کہ تین معصوم بچوں کو ان کا باپ لوٹایا جا سکے
03044352009
یہ نوجوان بول اور سن نہیں سکتا
سال 2018 میں کہیں سے بھٹک کر شیخوپورہ کے ایک گاؤں میں کسی نیک دل گھرانے کے پاس پہنچا۔
اس گھرانے نے بہت کوششیں کیں لیکن اسکا خاندان نہیں ملا۔ اشتہارات چلواے لیکن سراغ نہیں ملا۔
جن کے پاس ہے انہوں نے اپنے گھر کے بچے کی طرح رکھا ہے۔لیکن اپنے تو اپنے ہوتے ہیں۔
لڑکا اپنوں کو بہت یاد کرتا ہے۔زبان نہیں ہے آنسوؤں سے اپنا درد بتاتا ہے۔
برائے مہربانی تمام دوست زیادہ سے زیادہ اس پوسٹ کو شئیر کریں تاکہ ایک بےبس معصوم انسان لاوارثی کی زبدگیبسے نکل کر اپنوں کو مل جائے۔
تصویر ان دنوں کی ہے جب گم ہوکر آیا تھا۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
30 july 2016
#waliullahmaroof
ملتان میں مبینہ فائرنگ سے 25 سالہ نوجوان جان سے گیا، مگر اس کے بوڑھے والدین آج بھی سڑک پر انصاف مانگ رہے ہیں۔ جب ایک ماں باپ کو اپنے بیٹے کے خون کا حساب لینے کے لیے دروازے نہیں بلکہ سڑکیں کھٹکھٹانا پڑیں، تو سوال صرف قاتل سے نہیں، انصاف کے نظام سے بھی اٹھتا ہے
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، کیا ملتان کے اس خاندان کو انصاف ملے گا یا یہ فریاد بھی فائلوں میں دفن ہو جائے گی؟
This is Sheikh Farouk Ramadan.
Yesterday afternoon, he and his family were attacked by settler-terrorists on their own land. Farouk managed to disarm one of the attackers. He took the settler's rifle and shot and killed two terrorists in a clear act of self-defence.
In response, Israeli soldiers murdered him and three of his family members. Israeli government and media portrays him as the terrorist, and the actual terrorists as the victims.
Don't let them push this narrative. Farouk had the full legal and moral right to resist against the genocidal terrorists who invaded his land.
کیا کوئی ہے جو اس معذور باپ کو اس کے بیٹے سے ملا دے؟
یہ نوجوان سمیع اللہ ہے، والد کا نام عبدالعزیز ہے، اور اس کا تعلق ژوب شیرانی سے ہے۔
تقریباً پانچ سال پہلے سمیع اللہ روزگار کی تلاش میں کراچی آیا تھا، جہاں وہ ایک ہوٹل پر کام کرتا تھا۔ والدہ کے انتقال کے بعد گھر میں صرف اس کے معذور والد اور معذور بھائی تھے، جن کی ذمہ داری بھی اسی کے کندھوں پر تھی۔ ذہنی پریشانیوں کے باعث نجانے اس کے ساتھ کیا پیش آیا کہ اس کا اپنے گھر والوں سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا۔
آج پانچ سال گزر چکے ہیں۔ اس کا معذور والد بسترِ علالت پر ہے اور ہر آنے جانے والے سے صرف ایک ہی بات کہتا ہے:
"مرنے سے پہلے ایک بار میرے سمیع اللہ کو میرے سامنے لے آؤ۔"
اگر آپ سمیع اللہ کو جانتے ہیں، کہیں دیکھا ہے، یا اس کے بارے میں کوئی بھی معلومات رکھتے ہیں تو براہِ کرم فوراً نیچے دیے گئے نمبر پر صرف واٹس ایپ کریں۔
0316-2529829
25 July 2026
#WaliullahMaroof
Today marks the 103th anniversary of Lausanne treaty
Turkish delegation gave up Mosul, Kirkuk, Erbil, Sulaimaniyah to the Brits
The absolute majority of Turkish parliament was against the treaty so they had to annul the parliament, go for new elections and surpass the opposition in order to ratify the treaty
Many of the major politicians and generals, Kurds and Turks alike, opposed the treaty but every single name who went against the treaty was either executed or put on trial for sham accusations
Major generals like Kazim Karabekir, Rauf Orbay, Ali Sabis, Fevzi Çakmak, Ali Fuat Cebesoy and many more who had fought the Brits opposed the treaty but in a few years several of them were framed in a sham trial where they were accused of planning to assassinate Mustafa Kemal
Lausanne marked the beginning of the path which ended up in the annulment of the caliphate and later the total sidelining of Islam
Many of Turkey’s and region’s problems of our day including the Kurdish issue are rooted in the Lausanne treaty
Some revisionist re-readings of history claim that Lausanne was a desperate attempt to attain Turkish sovereignty and that Turkey didn’t have the power to fight further but truth is that the Turkish delegation in Lausanne didn’t insist at all
We have now new documents which show that the Brits and French were ready to make major concessions to Turkey including on Mosul issue but the Turkish delegation surprised them by effectively giving the Europeans everything they wanted
Lausanne was also a betrayal of Kurds in Cenubi Kurdistan who had revolted against the Brits after clear promises from Ankara that they will be supported in their cause
Not only the Kurdish fighters led by Sheikh Mahmoud but also Turkish generals like Özdemir Bey who were in today’s Iraqi Kurdistan to support the anti-British armed revolution were shocked to have been abandoned so hastily
Today, as many of us are looking forward towards creating a new future, we have to admit the heavy baggage left by Lausanne and the mindset which gave birth to it
That mindset still continues to be the main obstacle in front of a real Muslim unity that is based on recognizing our differences and respecting what makes each community distinct
Chaudhary Farm Chowk, Sonipat, Haryana.
A Muslim cab driver was brutally beaten by police officers simply because a rosary with the name “Mohammad” was hanging in his car. While thrashing him, the officers allegedly shouted: “These are Muslims, they have ruined the country!”
The driver says police first demanded ₹1,100 as a challan. When he couldn’t pay immediately, they snatched ₹6,000 from him and then unleashed their hatred.
They checked his religious identity and turned into goons in uniform. How low have we sunk? #IndianMuslims