اینٹی اسٹیٹ بندے کو فوج بناتی ھے فوج کوئی ماں کے پیٹ سے اینٹی اسٹیٹ پیدا نہیں ھوتا ۔۔، اے صبح شرم سار گواہی مری تو دے
میں لڑ رہا تھا' میرا سالار بک گیا
“Asim Munir is a mentally unstable person whose moral degradation has led to the complete collapse of the Constitution and the rule of law in Pakistan, leaving the fundamental human rights of every Pakistani unprotected.
My wife and I have been imprisoned on fabricated charges at his command, and we are being subjected to severe psychological torment. I have been completely isolated in a cell, placed in solitary confinement. For four weeks I was not permitted to see a single human being, and I was kept entirely cut off from the outside world. Even the basic necessities guaranteed under the jail manual have been denied to us.
Despite the orders of the High Court, first my meetings with my political colleagues were prohibited, and now even my meetings with my lawyers and family have been stopped. Any human rights charter will show that psychological torture is classified as 'torture', and it is regarded as even more severe than physical abuse.
My sister Noreen Niazi was dragged on the road simply because she demanded her rightful meeting with me. Only a man like Asim Munir could sanction such conduct. He has imprisoned Dr. Yasmin Rashid, an elderly cancer survivor, purely out of political vengeance. My wife, Bushra Begum, has been imprisoned only to exert pressure on me. Even her children are not allowed to meet her, and she has been deprived of all facilities. These examples reveal the character and mental disposition of this man.
Enduring solitary confinement is extremely painful, but I am bearing it only for the sake of my nation. Until the nation itself breaks the chains of slavery, the mafias imposed on Pakistan will continue to exploit it. The extension mafia, land mafia, sugar mafia, and mandate-thief mafia will keep this nation enslaved until the people themselves rise. Today you are their slaves; your future generations will be slaves to their generations. If you want to break this cycle, the nation must break the chains of enslavement itself and stand up for Haqeeqi Azadi (genuine freedom).
There is no place in my party for those who play on both sides of the wicket. Such people are the ‘Mir Sadiq’ and ‘Mir Jafar’ of Pakistan Tehreek-e-Insaf. The participation of PTI individuals in the NDU workshop is shameful. On one hand, we are enduring all kinds of hardships, and on the other hand, when our own people socialise with those who oppress us, it causes me deep pain.
I have always stated that drone attacks and military operations on our own people only fuels terrorism. Asim Munir’s policies are disastrous for this country. It is because of his policies that the scourge of terrorism has spiraled out of control, which deeply grieves me. He has no regard for the interests of his own nation. Whatever he is doing is merely to please the Western world. He deliberately ignited tensions with Afghanistan seeking to portray himself internationally as a ‘mujahid’ (warrior). He first threatened Afghans, then expelled refugees by force, and conducted drone strikes on them; the consequences of which came in the form of rising terrorism inside Pakistan. This man has sacrificed the country to terrorism for his own personal interests.
Sohail Afridi is commendable because he chose resistance over reconciliation during repressive times. My message to Sohail Afridi is to continue playing on the front foot. There is no law or constitution in this country. The law is invoked only against Pakistan Tehreek-e-Insaf; everyone else remains exempt. Whatever Sohail Afridi is doing, he should continue. He has my full support.
As for those issuing threats of Governor’s Rule: impose it right away instead of waiting, and then see consequences for themselves!
Conversation with his sister by the unjustly imprisoned former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, after one month of solitary confinement in Adiala Jail (December 2, 2025) 1/2
27 ستمبر کو پشاور جلسہ جمہوریت کی بحالی اور قانون کی بالادستی کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے امن اور انسانی حقوق کی تکریم بحال کروانے کے لیے ہو گا۔
میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے جھیل رہا ہوں تاکہ میری قوم کو حقیقی آزادی مل سکے۔ ملک بھر سے شہری ہفتے کے دن پشاور جلسے میں شرکت کریں اور ظلم کے خلاف اعلان بغاوت کریں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
(25 ستمبر، 2025)
“وادی تیراہ میں بمباری سے معصوم بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کے جانی نقصان پر میں شدید رنجیدہ ہوں۔ میں ایک سال سے بارہا اس بارے میں پیغام بھیج رہا ہوں کہ ان علاقوں میں آپریشن نہ کیا جائے اور نہ ہی collateral damage کے نام پر معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیاع ہونا چاہیئے، کیونکہ اس سے دہشتگردی میں مزید اضافہ ہوتا ہے- افسوس کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کے ٹریپ میں آگئی ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ہمارے دور میں اشرف غنی نے ہمیں بتایا کہ آپریشن سے دہشتگردی میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ معصوم لوگ مارے جاتے ہیں اس سے پہلے حامد کرزئی نے امریکیوں کو بتایا تھا کہ جب بھی آپریشن ہوتا ہے بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں اور ان میں سے 90 فیصد طالبان کے ساتھ اس لیے شامل ہوتے ہیں تاکہ اپنے غم و غصے کا اظہار کر سکیں۔
ہم نے اپنے دور میں افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر کیے جس سے ہمارے قبائلی علاقوں میں بھی امن آیا، مگر عاصم منیر نے آتے ہی اس ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ افغانستان کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دئیے گئے، دہائیوں سے مقیم افغان مہاجرین کو خوش اسلوبی سے نہیں بلکہ دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا اور وہاں ڈرون حملے کیے گئے جس سے تعلقات مزید خراب ہوئے۔
عاصم منیر کے یہ سب کرنے کے پیچھے یہ مقاصد ہیں
1) خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو غیر مقبول کرنا
2) مغرب میں اینٹی طالبان لابیز کو خوش کرنا اور یہ ظاہر کرنا کہ عاصم منیر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے
عاصم منیر ساری دنیا میں پھر رہا ہے لیکن اگر تدبر سے کام لے تو سب سے پہلے افغانستان جا کر ان سے بات کرنی چاہیے، جو ہمارا برادر اسلامی ملک بھی ہے اور جن کے ساتھ ہم ڈھائی ہزار کلو میٹر کی سرحد رکھتے ہیں۔ قبائلی علاقوں اور خطے کے امن کے لیے ضروری ہے کہ چار فریقین افغانستان کی حکومت، پاکستانی حکومت، قبائلی اور افغانی عوام مل کر بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں تاکہ امن کا راستہ نکلے اور مزید نقصان سے بچا جا سکے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو (24 ستمبر، 2025)
1/2
پاکستان میں اس وقت ہائبرڈ نظام نہیں بلکہ “مارشل لأ” اور مکمل ڈکٹیٹر شپ نافذ ہے۔ اس کی واضح مثال صدر ٹرمپ کا شہباز شریف اور زرداری کی بجائے عاصم منیر سے ملاقات کرنا ہے کیونکہ انہیں بھی پتہ ہے کہ تمام اختیارات عاصم منیر کے پاس ہی ہیں- اسی لیے میں بھی کہتا ہوں کہ مذاکرات ان سے ہی ہونے چاہییں جن کے پاس اختیارات ہیں۔
خیبرپختونخوا کے علاقوں میں ڈرون حملے اور معصوم جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔ میں نے پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج اور مارچ کیے اس معاملے پر میرا موقف دنیا کے سامنے ہے۔ بے گناہوں کا جب بھی قتل ہوتا ہے اس سے دہشتگردی بڑھتی ہے۔ ڈرون حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف خیبرپختونخوا کی حکومت ایف آئی آرز درج کروائے۔
خیبر پختونخوا کی عوام نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے ووٹ دیا- اسی لیے میں نے کہا تھا کہ بجٹ سے پہلے علی امین، مزمل اسلم، عمر ایوب، شبلی فراز اور تیمور جھگڑا آ کر مجھے بجٹ پر بریفنگ دیں- بجٹ پاس کرنے سے پہلے علی امین اور خبیرپختونخوا حکومت کو سپریم کورٹ جانا چاہیئے تھا اور بتانا چاہیئے تھا کہ خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت کا سربراہ عمران خان ہے اور ہم نے ان سے بجٹ کے حوالے سے ہدایات لینی ہیں جس کے بغیر IMF بھی بجٹ قبول نہیں کرے گا-
اب دوبارہ واضح ہدایت دیتا ہوں کہ خیبرپختونخوا کی حکومت سپریم کورٹ سے رجوع کرے۔ یہ کوئی حتمی بجٹ نہیں ہے۔ مجھ سے وہی مشاورتی ٹیم ملاقات کرے اور پھر جو ترامیم میں بتاؤں ان کو شامل کر کے بجٹ منظور کیا جائے۔
اس وقت جبکہ باقی صوبائی حکومتیں سرپلس بجٹ نہیں دے رہیں تو خیبرپختونخوا کی عوام کے فنڈز سے سرپلس دینا صرف ناجائز وفاقی حکومت کو فائدہ دینے کے مترادف ہے۔ میں خیبرپختونخوا کی عوام کا کسی صورت نقصان نہیں ہونے دوں گا۔
اس مشکل دور میں جب مین سٹریم میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے یا انہیں خرید لیا گیا ہے، ایسے میں سوشل میڈیا نے جس طرح حق کا علم بلند کر رکھا ہے میں ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے ہی عوام کی آواز زندہ ہے“
چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (24 جون، 2025)
کہا جاتا ہے کہ یہ درخت لنڈی کوتل کے ایک فوجی کیمپ کے اندر ہے، 1898ء میں ایک انگریز فوجی آفیسر جس کا نام جیمز سکویڈ بتایا گیا ہے، نشے کی حالت میں کسی روز کمرہ سے باہر نکلے تو انہیں یہ درخت اپنی طرف آتا ہوا دکھائی دی، جس پر انہوں نے فوراً یہ فوجی فرمان جاری کیا کہ
اُس (درخت) کو فوراً باندھ دیا جائے۔ واللہ اعلم درخت کی حد تک بات میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا افسانہ لیکن اپنے نظام پر اگر غور کیا جائے تو یہ بعید از عقل و قیاس نہیں کہ یہ سب کچھ ممکن ہے۔ پسِ نوشت یہ ہے کہ اگر 1898ء سے آج تک 126 سال گزر گئے لیکن یہ درخت آج بھی باندھا ہوا ہے تو
اسلام آباد میں انتہائی افسوسناک واقعہ، بلجیم سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ خاتون کو نامعلوم افراد 5 روز تک جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر سیکٹر جی 6 میں پھینک گئے، جب حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تمام توجہ پی ٹی آئی کو کرش کرنے پر ہو تو جرائم پیشہ افراد آزاد پھرتے ہیں۔
Congratulations to Pakistan's Olympic flag bearer Arshad Nadeem for an absolute brilliant javelin performance winning a gold medal for Pakistan.
His persistence & perseverance has done him & the nation proud. It is the first time any Pakistani has won an individual gold for athletics in the Olympics. He is an inspiration for our younger generation.
ارشد ندیم آج اس مقام پر ہیں کیونکہ ہم نے پنجاب یوتھ فیسٹیول کا انعقاد کیا 🤔😆😂
اس کو جلدی سے پاگل خانے لے جاؤ یا جنگل میں اپنے بھائیوں کے پاس چھوڑ آؤ اس نے نہیں بچنا۔
9 مئی 12 کیسوں میں عمران خان کو بغیر پیش کیے جسمانی ریمانڈ دیا گیا جس کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا اگر عدالت جسمانی ریمانڈ کینسل کر دیتی ہے تو ان بارہ مقدمات کا چیپٹر بھی کلوز ہو جائے گا۔۔۔
صدیق جان کا دعویٰ۔۔۔🔥