As the new ownership has officially taken over, we understand that the trust of a nation isn't transferred on a document.
It's earned, mile by mile, smile by smile, year by year. We know this. And we accept the challenge.
یه ایک ننگی آمریت ہے ، بلوچستان ایک کھلا جیلخانہ ہے، پریس کلبوں میں داخلہ سابقہ مارشل لاؤں میں بھی بند نہیں تھا ، مجھے ۱۹۷۹ میں کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے سے نہیں روکا گیا ، بعد میں گرفتاری اور فوجی عدالت سے سزا ضرور ہوئ
یہ کراچی کی وہ خاتون ہیں جن کے شوہر کو ان کی آنکھوں کے سامنے بی ایل اے کے سورمچاروں نے شہید کردیا ۔ دو معصوم بچیوں کے سامنے ان کے والد کو گولیاں ماری گئیں ۔ ان خاتون کو بھی گالیاں ماری گئیں یہ شدید زخمی ہیں ۔ بچیاں معجزانہ طور پر محفوظ رہیں ۔
اختر مینگل خاموش ہے ۔ بی وائی سی خاموش ہے ۔ بی بی سی اس کو شدت پسند مسلحہ تنظیم کی کاروائی قرار دے رہا ہے ۔ حالانکہ بی ایل اے عالمی سطح پر ڈکلیئرڈ دہشتگرد تنظیم ہے ۔
یہ دوہرا معیار بتارہا ہے کہ بی بی سی کا معیار صحافت کیا ہے ۔ اختر مینگل کی سیاست کی اصل کیا ہے ۔ بی وائی سی کتنی انسانی حقوق کی تنظیم ہے اور اس کا کتنا تعلق ہے انسانی حقوق سے ۔
جعفر ایکسپریس ہائی جیک ہو تو بی بی سی اسے شدت پسند یا آزادی پسند تنظیم کی کاروائی کہتا ہے ۔ اختر مینگل جو پورے بلوچستان کے لیڈر ہونے کا دعویدار ہے وہ ایسے خاموش رہتے ہیں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اور بی وائی سی جس کا دعویٰ ہے کہ وہ پورے بلوچستان کے حقوق کا مقدمہ لڑ رہی ہے ۔ وہ ایسے غائب ہوتی ہے جیسے کچھ نہیں ہوا ۔
بی ایل اے ، اختر مینگل اور بی وائی سی میں کیا فرق ہے
ایک دہشتگردی کرتا ہے ۔ دوسرے خاموش رہ کر اس کی سہولتکاری کرتے ہیں ۔
اور جب ان دہشتگردوں کے خلاف کاروائی ہو ۔ اختر مینگل بھی بولتا ہے ۔ اور ماہرنگ بلوچ کوئٹہ کے سول اسپتال پر حملہ کرکے دہشتگردوں کی لاشیں تک چھین لیتی ہے
اور پھر بھی بدنام ہمیں کیا جاتا ہے !
کیا اس کھلی دہشتگردی پر ہم آنکھیں بند کرلیں
ایسا تو نہیں ہوسکتا
ہم ان معصوم بچیوں کے والد کے قاتلوں کو زمین کے نیچے سے بھی نکال کر لائیں گے اور انصاف ہوگا ۔
@AbsarAlamHaider@SammerAbbas Every so-called syed should be forced to get their DNA testing done. AND NOT FROM ANY SHITSHOW IN PAKISTAN. We'll believe only https://t.co/u7cmQRaj45
راولا کوٹ میں دھرنا دینے والوں کے بارے میں ایک وفاقی وزیر کے بیان پر اگر بلاول بھٹو معافی مانگنے کا کہتے ہیں تو ضرور معافی مانگ لینی چاہیے کیونکہ ریاست سے بڑا کوئی نہیں ہوتا۔مگر 2014 میں ماڈل ٹاؤن میں جو مسلح جتھہ تیار کیا گیا اسی طرح ڈی چوک میں بھی جو مسلح جتھے بٹھائے گئے ان جتھوں کے ذریعے دوتہائی اکثریت رکھنے والے منتخب وزیراعظم کو دباؤ میں لاکر استعفیٰ دینے کیلئے مجبور کیا جاتا تھا۔
ان مسلح جتھوں کی سرپرستی کرنے والوں کو بھی بے نقاب کیا جائے، اور ان کے متعلق بھی کچھ فیصلے کیے جائیں۔2025 میں آزاد کشمیر کے اندر یہی ایکشن کمیٹی عوامی مطالبے منظور کرواتی ہے بجلی کے بلوں سے لے کر دیگر عوامی ایشوز کو ایڈریس کیاجاتا ہے، اس وقت ایکشن کمیٹی کی سرپرستی کرنے والوں کو خیال آنا چاہیے تھا کہ جو کشمیر کی منتخب حکومت تھی اس کے ذریعے بجلی اور آٹے کے ریٹ اور باقی ایشوز کو دیکھا جاتا تاکہ منتخب حکومت کی کچھ عزت رہ جاتی۔
اُس وقت اس ایکشن کمیٹی کو عوامی سطح پر پاور فل کیا گیا، اس ایکشن کمیٹی کو طاقتور کون بنا رہا تھا یہ بھی آج سوچنے کا مقام ہے، ان کے نام پبلک ہونے چاہئیں۔ان کو آج سمجھ آنی چاہیے کہ اگر مسلح جتھوں کی سرپرستی ڈی چوک میں نہ کی جاتی تو 9/10 مئی نہ ہوتا اور 2025 میں اس ایکشن کمیٹی کی سرپرستی کرکے ان کو عوام میں طاقتور نہ بنایا جاتا تو پھر آج راولا کوٹ کا واقعہ نہ ہوتا۔
ان کی سرپرستی کرنے والوں کو سزا کیوں نہیں دی جاتی، ان کے نام پبلک کیوں نہیں کیے جاتے، ان کے بارے میں رائے کیوں نہیں بنائی جاتی؟ آج جو ایکشن کمیٹی کے لوگ ہیں وہ جب 2025 میں سب کچھ کر رہے تھے کیا اس وقت ہمارے اداروں کے علم میں نہیں تھا کہ ان کی قیادت کرنے والے کون ہیں؟ اور آج وہی لوگ جو بولی بول کر مطالبات رکھ رہے ہیں کیا کوئی حقیقی کشمیری اس طرح کی گفتگو کر سکتا ہے؟ کیا کبھی کوئی کشمیری پاکستان سے الگ ہونے کی بات کر سکتا ہے؟ جس کیلئے 75 سال پاکستانیوں نے اور کشمیریوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں، یہ کھیل کچھ اور ہے اور اس کھیل کو کھیلنے والے کوئی اور ہیں، ان تمام ایشوز کو ایڈریس کرنا چاہیے، صرف وفاقی وزیر کے معافی مانگنے سے بات نہیں بنے گی۔
میری اطلاعات کے مطابق گرومنگ گینگز سے تعلق رکھنے والے 80 فیصد لوگ راولاکوٹ میر پور سے ہیں وہاں بیٹھے چند لوگ جو کعلدم کمیٹی کو سپورٹ کرتے ہیں جو خود کو پاکستانی نہیں کہتے تو پھر وہاں لوگوں کو بتائیں یہ برٹش پاکستانی نہیں ہیں کشمیری ہیں کیونکہ پاکستان کے پاسپورٹ کی عزت خراب کرتے ہو اپنی قوم کی بات آتی ہے تو برٹش پاکستانی بن جاتے ہو کعلدم کمیٹی کی بات آتی ہے تو کشمیر بن جاتے ہو وہ کہ جو ممبر پارلیمنٹ (کشمیری ) ہیں کشمیر کے موضوع پہ تو بات کرتے ان لوگوں کے خلاف بات کیوں نہیں کرتے جو چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ریپ کرتے ہیں کیونکہ وہ تماری قوم سے ہیں ؟ میں چند کشمیریوں کی بات کرتے ہوں اکثریت کی نہیں ابصار عالم