دہشت گردوں کی وکالت کرنا اور ریاستی اداروں کی مخالفت کرنا —
یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
جنید اکبر صاحب، آپ کا یہ کھیل اب عوام سمجھ چکے ہیں۔
جب ملک مشکل حالات سے گزر رہا تھا، آپ اور آپ کی پارٹی نے ہمیشہ نازک موڑ پر ملک دشمن عناصر کا ساتھ دیا۔
فوج، عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف زہر اگلنا آپ کا معمول بن چکا ہے۔
کیا یہ "ریاست مدینہ" والا پاکستان ہے یا دہشت گردوں کا پاکستان؟
اب وقت آ گیا ہے کہ شر پسندوں کے جگانسے میں آنے والے اپنی آنکھیں کھولیں۔
جو لوگ دہشت گردوں کی آواز بنتے ہیں، وہ کبھی بھی عوام کے بھلے کے لیے نہیں سوچتے۔
شیخ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت پر مفتی طارق مسعود کا بیان،
اس ملک میں فوج کے خلاف بھونکنے والوں کو کوئ خطرہ نہیں اس اصل خطرہ ان لوگوں کو ہے جو اس ملک کی اور اس ملک کی فوج کی حمایت کرتے ہیں
اور یہ ہی حقیقت ہے۔۔۔