@iqrarulhassan عمر صاحب کے بیان کردہ تاثر کی تصدیق کے لیے یہی کافی ہے کے ان کے سوال میں سہیل آفریدی، بلاول اور مریم تینوں کا ذکر ہے اور آپ نے جواب اور ٹویٹ دونوں کو صرف سہیل آفریدی تک محدود رکھا۔ جواد احمد پرو میکس مارکیٹ میں لانچ کر دیا گیا ہے۔
ماڑے دی مر گئی ماں تے کوئی نئیں لیندا ناں
چوہدری دا مرگیا کتا تے پنڈ سارا نہ ستا
بے آئین، لاقانونیت کی جنت، اخلاقیات سے مکمل عاری قوم حارث روف کے ساتھ ہوئے واقعے پر اچانک سے قانون اور اخلاقیات کی باتیں کرنے لگی؟ کمال نہیں ہوگیا؟؟؟
حارث روف کے ساتھ جو ہوا برا ہوا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ بیوی کے سامنے بدتمیزی پر سب مذمتیں کررہے ہیں۔ لیکن پھر خیال آیا کہ جب اسلام آباد پولیس لوگوں کے گھر پھلانگ کر چھوٹے بچوں کے سامنے انکے باپ اور ماں سے بدتمیزی، ماں بہن کی گالیاں اور تشدد کرتی رہی، جیلوں میں پھینک دیا۔ سال بھر سے زائد مائیں بہنیں بیٹیاں بزرگ عورتیں اور مرد جیلوں میں، ہر حد پار کر دی گئی۔ انسانیت کو شرما دیا گیا۔عورتیں مردوں کے ہاتھوں گھسیٹیں گئیں ابھی بھی یہی چل رہا ہے۔ تب ردعمل ایسا نہ آیا۔ بلکہ حارث اور شاداب اسی فاشسٹ پولیس کی وردی پہن کر اعزازی عہدے لے رہے تھے دو حرف مذمت تو ان سے توقع بھی غلط تھی۔ کیا اس صورتحال پر پنجابی کا یہ شعر صادر نہیں آتا؟
تمیز اور بدتمیزی، مذمتیں، اخلاقیات، فیملی اور ذاتی عزتیں بھی یہاں مخصوص لوگوں کے پاس ہیں، کاپی رائٹس مخصوص ہیں۔
Imran Khan: “All that's left for them now is to murder me – but I'm not afraid to die”
Former Prime Minister Imran Khan writes exclusively for The Telegraph @Telegraph from the prison.
https://t.co/LcY4AU5AOm