آزاد کشمیر میں مظاہرین کی لاشوں کا سوال پوچھنے پر آئی جی لیاقت ملک آپے سے باہر ہو گئے اور حیدر شیرازی سے مائیک چھین لیا۔
سوال تک برداشت نہیں ہوتا تو جواب کیا دیں گے؟
#آزاد_کشمیر#حیدر_شیرازی
کلین پنجاب ملتان 86 لوڈر رکشے اور 48 ہزار لیٹر پٹرول
آڈٹ رپورٹ کیا کہتی ہے؟
ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے مالی سال 2022-23 کے حسابات پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ایک اہم اعتراض اٹھایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی نے صفائی کے کاموں کے لیے استعمال ہونے والی مشینری اور گاڑیوں پر 18 کروڑ 18 لاکھ روپے سے زیادہ POL خرچ کیا۔ اس خرچ میں سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ صرف 86 لوڈر رکشاؤں پر 48,428 لیٹر پٹرول کلیم کیا گیا۔
آڈٹ نے اس خرچ کو مشکوک قرار دیا کیونکہ اس کے ساتھ فیول کنزمپشن سرٹیفکیٹ موجود نہیں تھا۔ یعنی یہ ثابت نہیں کیا جا سکا کہ اتنا پٹرول واقعی ان رکشاؤں نے استعمال کیا۔
2017 میں کمپنی نے 126 گاڑیوں پر ویہیکل ٹریکنگ سسٹم لگایا تھا۔ یہ سسٹم ایندھن کے استعمال اور گاڑیوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کرنے کے لیے تھا۔ تاہم اس کا معاہدہ مارچ 2021 میں ختم ہو گیا اور بروقت تجدید نہیں ہوئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لاگ بکس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ آڈٹ کے مطابق نگرانی کے اس خلا کی وجہ سے POL بغیر مکمل ریکارڈ کے نکالا گیا۔
اعداد و شمار کے حساب سے ہر لوڈر رکشے نے سال بھر میں اوسطاً 563 لیٹر پٹرول استعمال کیا۔ اگر رکشاؤں نے پورے سال کام کیا ہو تو یہ مقدار ممکن بھی ہو سکتی ہے، لیکن آڈٹ کا اعتراض مقدار پر نہیں بلکہ ثبوت کی عدم موجودگی پر ہے۔ جب سرکاری پیسہ خرچ ہو رہا ہو تو صرف کلیم کافی نہیں ہوتا، دستاویزی ثبوت بھی درکار ہوتا ہے۔
ڈی اے سی نے جنوری 2024 میں اس معاملے کی انکوائری کا حکم دیا۔ انکوائری LG&CD محکمہ لاہور کے ذریعے کرانے کی ہدایت کی گئی۔ رپورٹ جاری ہونے تک اس انکوائری کی کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
کلین پنجاب کے نام پر صفائی کے منصوبے چلائے جا رہے ہیں۔ عوام ان منصوبوں پر ٹیکس دیتی ہے اس امید پر کہ شہر صاف رہیں گے۔ جب ایندھن کا حساب ہی شفاف نہ ہو تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صفائی کا اصل کام کتنا ہوا اور پیسہ کہاں گیا۔
آڈٹ رپورٹ ایک دستاویز ہے۔ اس پر عمل درآمد اداروں کی ذمہ داری ہے۔ جب تک انکوائری مکمل نہ ہو اور ذمہ داران کا تعین نہ ہو، یہ معاملہ صرف کاغذوں تک محدود رہے گا۔ ملتان کے شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جان سکیں کہ ان کے شہر کی صفائی پر لگنے والا پیٹرول کہاں اور کیسے استعمال ہوا۔
جب فوج 9 مئی کے نام پر قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتی ہے تو پھر اصول ایک ہی ہونا چاہیے جس سے غلطی ہو، وہ معافی مانگے چاہے وہ عام شہری ہو یا وردی والا۔
ایک فوجی بریگیڈیئر نے یونیورسٹی میں وردی میں داخل ہو کر فائرنگ کی ہے تو سوال یہ ہے کہ اس واقعے پر معافی کون مانگے گا؟
یونیورسٹیاں قوم کے مستقبل کی تعمیر کی جگہ ہیں، انہیں طاقت کے مظاہرے اور گولیوں کی آواز سے خوفزدہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ فوج اگر قوم سے معافی کا مطالبہ کرتی ہے تو اسے بھی یہ اصول اپنے اوپر لاگو کرنا ہوگا۔
قانون سب کے لیے برابر ہے وردی کسی کو احتساب سے بالاتر نہیں کرتی۔
آج حکومت کے پاس ایک ہی راستہ ہے: سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد۔ 18 اگست کے واضح عدالتی احکامات کے باوجود اگر عمران خان کی فیملی ملاقات اور بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلی فونک رابطہ روکا گیا تو یہ محض انتظامی بددیانتی نہیں بلکہ عدالتی حکم کی کھلی توہین ہوگی۔
حکومت یاد رکھے، جیل کی دیواریں سپریم کورٹ کے احکامات سے بلند نہیں ہوتیں۔ اگر حکام نے عدالت کے فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کی کوشش کی تو ذمہ داروں کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہوگا۔
آج اصل امتحان عمران خان کا نہیں، ریاستِ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا ہے۔
@ahmedalikhan01 یہ چڑی گروپ کا بھڑوا نئی کہانی سنا رہا ہے ۔ پہلے بارسلونہ والے بلنڈر کا تو حساب دے دو ۔ وہاں ہمارے اپنے جانباز بیٹھے ہیں ۔ ایک ایک چیز نوٹ ہو رہی ہے اتنا بڑا بلنڈر ہوتا تو ابھ تک ان کے گریبان بھی پھٹ چکے ہوتے ۔ اور گاف بھی
We have been informed that my father, Imran Khan, has lost most of the vision in his right eye, with reports indicating only 15% eyesight remains. This is the direct consequence of 922 days of solitary confinement, medical neglect (denied blood tests) and the deliberate denial of proper treatment in jail.
The responsibility lies squarely with the regime in power, the Army Chief and the puppets enabling this cruelty. This physical deterioration is happening under their orders, their watch and their responsibility. They have manipulated and warped the justice system in order to keep my father in solitary confinement.
My brother and I are still being denied visas to see our father as his health deteriorates. History will record this injustice.
We urge human rights bodies, legal institutions and democratic nations to confront this persecution and ensure those responsible face consequences.
@realrazidada مروانیاں بنڈاں تے کھانے گٹکے ۔ قصائی کے پھٹے کے نئچے بیٹھا زبان نکال کر ہانپتا ہوا دانشوڑ۔ ایڈا تو سائیندان ہوندا تے ایتھے نا پین یوا ریا ہوندا
@RShahzaddk اچھا کھوتی کے بچے پٹواری ایک پوسٹ کر کے اور خود ہی اپنی ٹیم سے کمنٹ کروا کر یہ سمجھتے ہیں ہماری ٹویٹ ہٹ ہو گئی ہے اور لوگ ہماری بات سنتے ہیں ۔ تم لوگ سارے راتب خور کتے کہاں بے لوث پاکستانیوں کا مقابلہ کرو گے ۔