یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھا
اس رات کی تقدیرسنور جائے تو اچھا
جس طرح سےتھوڑی سی ترےساتھ کٹی ہے
باقی بھی اسی طرح گزر جائےتو اچھا
دنیا کی نگاہوں میں بھلا کیا ہےبرا کیا
یہ بوجھ اگر دل سے اتر جائےتو اچھا
ویسے تو تمہیں نےمجھے برباد کیاہے
الزام کسی اور کے سر جائےتو اچھا
دل کو مٹا کے داغ تمنا دیا ______مجھے
اے عشق تیری خیر ہو یہ کیا دیا مجھے
دعویٰ کیا تھا ضبط محبت کا اے جگرؔ
ظالم نے بات بات پہ تڑپا دیا ____مجھے
جگر مراد آبادی
پاؤں دیکھے گی نہ تاخیر کا دکھ سمجھے گی
کیسے منزل کسی رہ گیر کا دکھ سمجھے گی
کب سماعت پہ کوئی حرفِ صدا اترے گا
کب وہ دستک مری زنجیر کا دکھ سمجھے گی
#آزاد_حسین_آزاد#اردو_زبان