MRI روم میں قوانین کی پابندی کوئی اختیار نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ ایک چھوٹی سی غلطی بھی چند لمحوں میں جان لیوا اور انتہائی خطرناک صورتحال کا سبب بن سکتی ہے۔
حیرت ہے کہ
نا ہی حکومت کو
نا ہی IMF کو
نا ہی وزارت خزانہ کو
نا ہی ایف بی آر کو
نا ہی وزارت پانی و بجلی کو
11 ارب ڈالر سالانہ کپیسٹی چارجز لینے والے کرائے کے بجلی گھر نظر آتے
مگر 200 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والے صارفین نظر بھی آتے ہیں اور چبھ بھی رہے ہیں
یہ سردار بولتا ھے کہ زیادہ تر پاکستانیوں نے سولر لگوا لیا ھے اور وہ واپڈا کے میٹر کی ریڈنگ 200 یونٹ سے اوپر نہیں جانے دے رھے اور سستی بجلی کے مزے لے رھے ہیں سردار صاحب آپکو عوام کے سولر تو نظر آگئے
مگر وہ جو آئی پیپیز کے بند پڑے پاور پلانٹ جن کی کیپسٹی پیمنٹ لے رھے ہیں وہ آپکو نظر نہیں آۓ
آپ کو ملک میں اداروں کی ملی بھگت سے چوری ہوتی بجلی بھی نظر نہیں آئی بلکہ اپنے بچوں کو بھوکا سلا کر ایمانداری سے بجلی کا بل ادا کرنے والی غریب عوام جلدی یاد آگئی تاکہ ان کا آخری نوالہ بھی تم چھین لو
افسوس صد افسوس
اس سبسڈی سے بڑا فراڈ دنیا کی بلنگ کی تاریخ میں کوئی نہیں ہے۔
ایسے کرو سبسڈی ختم ویسے کرو سبسڈی ختم۔
ائی پی پیز کی کیپیسٹی پیمنٹس کا خاتمہ اور لامتناہی ٹیکسز کا سلسلہ روکے بغیر غریب کو ریلیف دینا نا ممکن ہے۔
بجلی کے بلوں نے ہم جیسے قدرے متمول افراد کی بھی چیخیں نکلوا دی ہیں۔
پنجاب کے تمام وسنیک بغیر کسی سیاسی وابستگی کے، پنجاب کی چیف منسٹر سے گذارش کرتے ہیں کہ پنجاب کی تقسیم کی قرارداد جو جناب شہباز شریف نے سیاسی ضروریات کے تحت منظور کروائی تھی اسے واپس لیا جائے۔
پنجاب کی تقسیم نا منظور
پنجاب میں پی پی کے جو حالات اگلے پچاس سال بھی پی پی کو پنجاب سے ووٹ نہی مل سکتا ہے اور بلاول وزیراعظم تبھی بن سکتا جب پنجاب کے ووٹ ہوں اس لئے پی پی سمجھتی پنجاب توڑ کر بلاول کی وزارت اعظمی کا راستہ نکالا جائے بالکل ویسے ہی جیسے متحدہ پاکستان میں بھٹو صاحب وزیراعظم نہی بن سکتے تھے اکثریت شیخ مجیب کی تھی
جن سے سترہ سالوں سے صرف کراچی کی حالت بہتر نہیں ہوئی وہ بھی پنجاب کی تقسیم پر گندی نظریں جمائے بیٹھے ہیں
جوں جوں بجٹ پاس آتا ہے بلیک میلروں کے مطالبات بڑھ جاتے ہیں
بلاول نے پنجاب توڑ کر دو صوبے لسانی بنیاد پر بنانے کی بات کی ہے اگر تو پاکستان بھر میں نئے صوبے بن رہے تو اعتراض نہی مگر صرف پنجاب کو تقسیم کرنے کی بات غلط ہے کراچی کا صوبہ بننا زیادہ ضروری ہے وہاں مسائل کے انبار ہیں
المیہ یہ پنجاب کی جماعت نون لیگ جس نے ہمیشہ پنجاب کے وسائل سرنڈر کیے ہیں این ایف سی میں شہاز شریف نے پنجاب کا حصہ کم لیا تھا اب بھی شہباز شریف کے ہوتے امید رکھیں پنجاب تقسیم ہو جائے گا جبکہ باقی صوبے ویسے ہی رہیں گے
تعلیم کا بجٹ کم کر دیا گیا ہے سکولز پرائیویٹ کر دیے گئے ہیں یہ ایم سی ہائی سکول اسلام نگر فیصل آباد ہے ایسے ماحول میں بچوں نے کیا تعلیم حاصل کرنی ہے بہتر ہے سکولز مستقل بند کر دیے جائیں
دنیا کے مہنگے ترین بیگ اور جوتے استعمال کرنے والی پیپلز پارٹی کی ایک وزیر کے خاوند کی فیصل آباد میں واقع فیکٹری میں 20 کروڑ سے زائد کی گیس چوری کرنے کی 2016 میں درج ھو نے والی ایف آئی آر کا کیا بنا؟
مجھے تو مقدمہ درج ہونے کے چند دن بعد وزیراعظم کی ہدایت پر تبدیل کر دیا گیا تھا کیونکہ بجلی بنانے والی کمپنیاں مجھ سے ناراض ھو گئی تھیں
یہ حکومت کیا کررہی ہے؟ ہم لوگ مراعات کے خاتمے کیلئے کمپین چلا رہےہیں، اور انہوں نےجوڈیشل افسران کیلئےسالانہ اربوں کی مزیدمراعات کا اعلان کردیا ہے.
فاقوں اورخوکشیوں پہ مجبور عوام کی طرف سےہم شدید احتجاج کرتےہیں. یہ سب افسوسناک اور تباہ کن ہے. نہ کریں ایسا. یہ سیاسی رشوت سےکم نہیں.
زین شاہ اور محسود پٹھان کا جھگڑا ذاتی لین دین تھا، اور پنڈی میں ہوا لیکن کے پی کے کا گورنر،ایم این اے،عوامی نمایندے ، صحافی، اور سوشل ایکٹوسٹ مداخلت کرتے رہے اور اسکو پختون پنجابی مسئلہ بنادیا ،
جبکہ مقامی پنجابی سیاستدان، صحافی، ایم این ایز اور ایکٹوسٹ بغیرتی کے باعث خاموش رہے۔
تمام پنجابی اس تصویر نوں اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس تے لگاون۔ قوم نوں متحد کرن لئ اے ہندسےامر ہونڑے ضروری نے۔ *1066* دا ہندسہ پنجابی قوم دی تریخ دا حصہ بن جانڑا چاہیدا ہے۔
اس ظلم دےخلاف انصاف تے آئندہ اس ظلم توں بچن لئ قوم 1066 دا ہندسہ شئیر کرے۔ تاکہ تمام پنجابی قوم نوں پتا چل جائے
تین بزنس کلاس ٹکٹ ، مفت رہائش ، بلو پاسپورٹ کے بعد اراکین اسمبلی کا دل نہی بھرتا تو علاج کے لیے ایک کروڑ اور پچاس لاکھ بھی سرکار سے مانگ لیتے ہیں
جبکہ غریب کی کھال مہنگے ترین بجلی بلوں اور 415 روپے لیٹر پیٹرول سے اتار رہے ہیں
ماہانہ 4 لاکھ روپے تنخواہ لینے والے ایک ایم پی اے کے بیٹے کے پرائیویٹ ہسپتال میں علاج پر آنے والے 50 لاکھ 87 ہزار روپے کے اخراجات کی فوری منظوری، جبکہ عام آدمی آج بھی سرکاری اسپتالوں میں ایک بستر اور دوا کے لیے دھکے کھا رہا ہے۔
#punjab
اس میں پنجاب کے وزیروں کی 800فیصد تنخواہ اضافے کا ذکر نہی اس میں ریٹارڈ ججوں کی دس لاکھ پینشن بڑھانے کا ذکر نہی ہے اس میں چور مین سینٹ اور سپیکر کی تنخواہ دو لاکھ سے چوبیس لاکھ کئ اس کا ذکر نہی ہے گیارہ ارب کے پنجاب کے لگژری جہاز کا ذکر نہی ہے
اس سب کی منظوری کس نے دی تھی ؟