میڈیا کا سوال: D چوک کیوں گئے؟
درست سوال: گولی کیوں چلائی؟
میڈیا کا سوال: D چوک جانے کا فیصلہ کس کا تھا؟
درست سوال: گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟
میڈیا کا سوال: D چوک سے کیوں بھاگے؟
درست سوال: کتنے زخمی کتنے شہید ہوئے؟
میڈیا کا سوال: پارٹی میں کتنے اختلافات ہیں؟
درست سوال: احتجاج کا آئینی حق کیوں چھینا گیا؟
ایسے بے شمار غلط اور Victim blaming والے سوالات سے میڈیا اپنی رہی سہی حیثیت بھی کھو رہا ہے۔
بائیڈن انتظامیہ کے حمایتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ڈی چوک قتل عام کی حمایت میں جواز پیش کیے جا رہے ہیں۔ جو اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ ٹرمپ کے حلف اٹھانے سے قبل عمران خان کو قتل کیا جائے گا۔
اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کے ڈی چوک واقع پر امریکہ ، برطانیہ سمیت کئی ممالک کے سفارتکاروں نے تشویشناک صورتحال سے اپنے ممالک کو آگاہ کر دیا ہے۔ اس وقت سفارتی سطح پر عمران خان کے ممکنہ قتل سے پیدا ہونے والی خانہ جنگی صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے۔
@ImranRiazKhan عمران خان کو 25 جنوری سے قبل ہی قتل کرنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ ڈی چوک واقع کے بعد ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ نے اس بات کا اندازہ لگایا ہے کے عمران خان کے قتل کے بعد ردعمل کو طاقت سے کچلنا ممکن ہے۔ مریم صفدر منصوبے پر 25 جنوری سے قبل ہی عملدرآمد کی خواہشمند ہیں ۔
کیا وجہ ہے کے بائیڈن انتظامیہ عمران خان کو ٹرمپ کے حلف اٹھانے سے قبل قتل کروانا چاہتے ہیں۔ قتل کے الزام میں محسن نقوی کو قربانی کا بکرا بنایا جانے کا امکان ہے ؟
محسن نقوی کے احکامات ۔ تمام غیر ملکی سیاحوں کو اسلام آباد سے نکال دیا جائے۔ جس کے بعد پولیس کو غیر ملکی افراد کے خلاف سخت ترین کریک ڈاون شروع۔ کئی غیر ملکیوں کو مارا پیٹا گیا۔
@SdqJaan صرف 40 سے 50 طلباء نے پر امن احتجاج کرنا تھا لیکن پولیس نے ایک بار پھر جوتے کھانے کی روائیت قائم رکھی ۔ پورا شہر سڑکوں پر تھا۔ پھنس جانے والے پولیس اہلکاروں بے خود بتایا کے اگر سیدھی فائرنگ نا کرتے تو شاید 50 سے 60 پولیس والوں کی جان جاتی۔
@ArifRetd اس ملک میں تین کام دھٹرلے سے سرکاری افسران کر رہے ہیں ۔۔ یہ ایک نئی انڈسٹری شروع ہوئی ہے جہاں ریل اسٹیٹ سے زیادہ پیسا ہے۔ شریک جرم نا ہوں تو بتا دیتے۔۔۔۔ 🤣😁