سونے چاندی سے نہیں بھروسے اور پیار سے چمکتا ہے
اور جسے مل گیا ہو من پسند دولہا
اسکا بنا گہنوں کے بھی چہرہ چمکتا ہے
مجھے یہ سونگ اس جوڑے پر پرفیکٹ لگا۔ جیسے ان کے لیے ہی بنا ہو۔👇🏻
کشمیر میں بچوں کو بلیک میل کیا جا رہا ہے کہ آپکو پیپر نہیں دینے دیں گے۔ مختلف ہتھکنڈے استعمال کیا جا رہے ہیں پوری سرکاری مشینری یوز کی جا رہی ہے۔ اس سب کے باوجود عوام کے حوصلے بلند ہیں
#RightsMovementAJK#BoycottAJKelection2026
آزاد کشمیر مہاجر نشستیں تین ووٹ اور دھاندلی کی پرانی روایت۔
آزاد کشمیر اسمبلی کی ایل اے 6 جموں سیٹ کے حلقہ 39 کا معاملہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے نام پر ہونے والا انتخابی عمل کس قدر کھوکھلا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے 24 اضلاع پر مشتمل اس ایک حلقے میں کُل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد محض 37 ہزار ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ تعداد گھٹ کر صرف 680 رہ جاتی ہے۔سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ کرک، مہمند اور کولائی پلاس جیسے اضلاع میں مہاجرین کے کُل تین تین ووٹ ہیں، اور انہی تین ووٹوں کے لیے باقاعدہ تین پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں جہاں 20 افراد پر مشتمل پولنگ عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ اپر دیر اور بونیر میں دو دو، چارسدہ میں تین ووٹ درج ہیں۔ ذرا سوچیں یہی چند افراد کرک، مہمند یا کولائی پلاس کے صرف تین تین ووٹر کسی جماعت کی نشست جتوا کر آزاد کشمیر اسمبلی میں لاکھوں کشمیریوں کے مستقبل کے فیصلوں میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ایک طرف پوری قوم کے مسائل، دوسری طرف تین ووٹوں پر منحصر ایک منتخب نمائندہ یہی تضاد پورے نظام کی ساکھ کو سوالیہ نشان بنا دیتا ہے۔