ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور سبغت اللہ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا اب ایک سنگین جرم بن چکا ہے۔
آج بلوچ سیاسی کارکنوں کے خلاف سنائے گئے عدالتی فیصلے نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک کا عدالتی نظام غیرشفافیت اور عدم تشدد پر یقین رکھنے والے بلوچ سیاسی کارکنوں کے خلاف جانبدارانہ طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
بلوچستان میں پُرامن اور آئینی جدوجہد کرنے والی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے ریاستی ادارے ہر ممکن ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی بلوچ اور دیگر بلوچ سیاسی کارکنوں کو ایک غیرشفاف اور متنازع عدالتی عمل کے ذریعے سزائیں سنانا نہ صرف انصاف کے بنیادی اصولوں سے انحراف ہے ��لکہ آئین و قانون کی روح اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کے بھی منافی ہے۔
ہم اس فیصلے کو سیاسی کارکنوں کی آواز دبانے اور بلوچستان میں اختلافِ رائے کو جرم قرار دینے کی ایک اور کڑی سمجھتے ہیں اور اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
میں پاکستان اور انٹرنشنل وکلا برادری،انسانی حقوق کے کارکنوں سے دست بستہ اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس عدالتی اور حکومتی جبر کے خلاف اپنی آواز بلند کریں انصاف اور آئین کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں، تاکہ بلوچ قوم کو جاری سیاسی انتقام، ناانصافی اور جبر سے نجات مل سکے۔میں اپنی بلوچ قوم سے بھی اپیل کرتی ہوں کہ اس ظلم و جبر کے خلاف متحد ہو کر اپنی آواز بلند کریں۔
Fehmida Baloch, medical student from Mirphur Khas has reportedly committed su$ide after being harassed & blackmailed by her teachers. These incidents witness the worst educational system and corrupt mindset of the society.
The harassment in any sense must be stopped.
مجھے نہیں معلوم آپ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں مگر ایک بات دل سے سن لیں ہم نے آپ کو کبھی نہیں بھلایا۔ ہر دن آپ کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔آپ کی والدہ روز آپ کے بارے میں پوچھتی ہیں ان کی آنکھوں میں انتظار ہے مگر میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ پر میں ریاست کو ہر وقت آپ کو یاد دلاؤں گا۔
Tikhda Bahdihani is a remote area located in Barkhan, lacks basic educational facilities.
Tikhda Bahdihani is an isolated and underdeveloped locality where a school building was constructed long ago. However, it appears that the government has abandoned or neglected the institution after completing the physical structure. A school cannot be considered functional or effective unless it is equipped with essential human resources particularly qualified teachers, as well as fundamental educational materials such as blackboards, books, desks, and chairs. Unfortunately, these basic necessities are entirely absent, resulting in a severely compromised and deteriorating educational environment.
Reports indicate that approximately 40 to 50 children are currently out of school, while others are compelled to travel to distant and inconvenient areas to access primary education. Such circumstances foster frustration, hopelessness, and disillusionment within the community, ultimately jeopardizing the future of young students.
The local population is deeply concerned about this issue and strongly urges the authorities to take immediate action by ensuring the following:
1. The existing school building in Tahdda Bahdihani should be officially recognized and operationalized as a government school without further delay.
2. Essential facilities—including clean drinking water, a secure main gate, proper furniture, and other basic amenities—must be provided to create a conducive learning environment.
3. The Department of Education should ensure regular monitoring, supervision, and accountability to maintain the quality and continuity of education in the area.
Baloch Student Action Committee.
میرے بیٹے کبیر بلوچ، عطاء اللہ بلوچ اور مشتاق بلوچ گزشتہ 17 سالوں ��ے جبری گمشدگی کا شکار ہیں اور تاحال لاپتہ ہیں۔ براہ کرم کل شام 6 بجے سے رات 12 تک ان کی بازیابی کے لیے سوشل میڈیا پر آواز اٹھائیں۔
#EndEnforcedDisappearances
A media campaign for the safe release of Saifullah Baloch is being launched tomorrow by his family. We believe that the ongoing heightening trend of enforced disappearances are complete violation of human rights. Such acts need to be denounced unequivocally. Saifullah Baloch has been subjected to enforced disappearances in the holy month of Ramazan. I urge people from all walks of life to participate in this campaign to ensure justice to victims’ families. This isn’t a case or matter of only some specific individuals, however, have affected the wholesome.
#ReleaseSaifullahBaloch
Congrats on securing an MBBS seat at JMC Khuzdar
BSAC Khuzdar Zone (JMC Unit) warmly welcomes you!
We’re here to help with admissions & hostel allotment.
BSAC Khuzdar zone
Contact us for guidance 👇🏻👇🏻
بلوچستان میں تعلیمی اداروں کی بلاجواز اور طویل مدتی بندش نے طلبہ کے تعلیمی کیریئر کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ بلوچستان میں جاری غیر یقینی تعلیمی صورتحال پر گہری تشویش ہے۔
مرکزی ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچستان میں برسوں سے تعلیمی اداروں کو وقفے وقفے سے ایسی بندشوں کا سامنا ہے جن کا کوئی منطقی یا قابل یقین جواز آج تک سامنے نہیں آ سکا ہے۔ کبھی جامعات کو فنڈز کی عدم فراہمی اور اساتذہ کی تنخواہوں کے مسائل کا عذر بنا کر تالے لگا دیے جاتے ہیں، تو کبھی مرمت و تزئین کے نام پر مہینوں تدریسی عمل معطل رکھا جاتا ہے۔ جس سے طلبہ کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کیا جاتا رہا ہے۔ ان سطحی بہانوں سے کوئی بھی ذی شعور طبقہ بھی مطمئن نہیں ہے، کیونکہ یہ اقدامات تعلیم دوستی کے بجائے تعلیمی دشمنی کی عکاسی کرتے ہیں۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ سمر زون کے تعلیمی ادارے ایک ماہ سے زائد عرصے سے بند ہیں، جبکہ ونٹر زون میں پچھلے چار ماہ سے تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔ تعلیمی کیلنڈر کی اس سنگین خلاف ورزی سے طلبہ کا نصاب ادھورا رہ گیا ہے۔ بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی کے بلند و بانگ دعوے تو کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ بدعنوانی اور اقربا پروری نے تعلیمی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ جہاں ایک جانب ڈیجیٹل دور کی باتیں ہو رہی ہیں، وہیں دوسری جانب بلوچستان کے ہزاروں اسکولز یا تو کاغذات تک محدود ہیں یا بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث بھوت بنگلوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
اب تو حال یہ ہے کہ پچھلے ایک ماہ سے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے با�� بار بندش کے نوٹیفیکیشن جاری کیے جا رہے ہیں، جس سے طلبہ شدید ذہنی اضطراب اور غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام فیصلے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیے جا رہے ہیں تاکہ بلوچستان کے نوجوانوں کو ذہنی پسماندگی کا شکار رکھا جائے اور تعلیمی نظام کو جان بوجھ کر مفلوج کر دیا جائے۔
بطور طلبہ تنظیم، ہم تعلیمی اداروں کی اس بلاجواز بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اعلیٰ حکام، محکمہ تعلیم سے اپیل کرتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کو فی الفور کھول کر تدریسی عمل کا آغاز کرکے طلبہ کے کیریئر کو مزید داؤ پر لگانا بند کیا جائے۔
مرکزی ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
لمہ کریمہ تینا کڑد ئٹ دا کلہؤ ءِ الا کے راج آک راہشون آتا کہنگ آن کسپسہ بلکن پین ترند و مہکمی ئٹ جک سلرہ۔ ادب نا پڑ آ بلوچستان ئٹ نیاڑی تا کڑد ڈکوک اف کہ طاہرہ احساس جتک و پین کیہیک دا میدان ئٹ تینا قلم ءِ بڑز کریسہ شرف دوئی کرینو و سلہہ بندغ زرمبش ئٹی لمہ ایڑھ تا جہد و قربانی تا حساب کچ و کساس آن گیشتر و لووز اتیٹی بفروک ءُ احساس ئسے ہرادے بیان کننگ کنا نزور آ قلم نا وس آن سفا پیشن ءِ۔
تیوہ غا نوشتہ ءِ خواننگ کن ننا ویبسائیٹ ءِ ہُننگ کیرے🔗⬇️
https://t.co/npQsQ46Cdo