💥 فجر کے وقت جب میں نے دروازہ کھولا تو میری شادی شدہ بیٹی ہمارے برآمدے میں نیم مردہ پڑی تھی۔ اُس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، چوڑیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، اور ماتھے سے بہتا خون اُس کے بالوں میں جم چکا تھا۔ 🥹💔
پہ��ے مجھے لگا شاید کسی نے پرانے کپڑوں کی گٹھڑی دروازے کے پاس پھینک دی ہے۔
پھر وہ گٹھڑی ہلی۔
اور میری چیخ نکل گئی۔
“حناااا!”
وہ میری بیٹی تھی۔
میری حنا۔
میرے دروازے کے باہر سرد فرش پر پڑی ہوئی۔
ایک پاؤں ننگا۔
دوپٹہ غائب۔
ہونٹ پھٹے ہوئے۔
اور سانسیں ایسے چل رہی تھیں جیسے زندگی اُس کے اندر رہنے سے انکار کر رہی ہو۔
میں گھٹنوں کے بل اُس کے پاس گری۔
“حنا… میری بچی… آنکھیں کھولو…”
میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
میں نے اُس کی نبض ٹٹولی۔
بہت کمزور۔
مگر زندہ تھی۔
الحمدللہ… ابھی زندہ تھی۔
اُس نے بڑی مشکل سے آنکھیں کھولیں۔
پھر میرا کپڑا پکڑ لیا۔
“امی…”
“میں یہیں ہوں… میری جان…”
وہ بمشکل بول پائی۔
“سعد…”
میرا دل دھڑکنا بھول گیا۔
“اور اُس کی ماں…”
اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
“انہوں نے مجھے بہت مارا…”
فجر کی اذان شروع ہو چکی تھی۔
گلی میں دودھ والا گزر رہا تھا۔
لوگ اپنے دن کا آغاز کر رہے تھے۔
اور میری پوری زندگی میرے دروازے پر ٹوٹ رہی تھی۔
میں نے فوراً ایمبولینس کو فون کیا۔
مگر اُس دوران ایک لمحے کے لیے بھی اُس کا ہاتھ نہیں چھوڑا۔
“سوتی نہیں… میری آواز سنتی رہو… دیکھو میری طرف…”
ہر سانس کے ساتھ مجھے لگتا وہ واپس آ رہی ہے۔
اور ہر خاموش وقفے پر لگتا جیسے وہ مجھ سے دور جا رہی ہے۔
میرا نام صائمہ اختر ہے۔
پینتیس سال کی عمر میں بیوہ ہو گئی تھی۔
تب حنا صرف سات برس کی تھی۔
میں نے لوگوں کے کپڑے سی کر اُسے پالا۔
بچوں کو ��یوشن پڑھا کر اُس کی فیسیں دیں۔
اپنی چوڑیاں بیچ کر اُس کے کالج کے اخراجات پورے کیے۔
اور جب سعد ملک رشتہ لے کر آیا تو مجھے لگا شاید اللہ نے آخرکار میری بچی کے نصیب میں سکون لکھ دیا ہے۔
وہ نرم لہجے والا لڑکا تھا۔
نمازی۔
پڑھا لکھا۔
پہلی بار گھر آیا تو میرے پاؤں چھوئے۔
“آنٹی… حنا کو کبھی تکلیف نہیں ہونے دوں گا…”
اُس کی ماں شگفتہ ہر بات بڑی شرافت سے کرتی تھیں۔
“ہمیں جہیز نہیں چاہیے بہن… بس اچھی بچی چاہیے…”
میں نے یقین کر لیا۔
یہ میری پہلی غلطی تھی۔
شادی کے چند ماہ بعد حنا بدلنے لگی۔
فون کم ہو گئے۔
ہنسی محتاط ہو گئی۔
گرمیوں میں بھی پورے بازو پہننے لگی۔
میں پوچھتی:
“سب ٹھیک ہے نا؟”
وہ فوراً کہتی:
“جی امی… بس تھکن ہے…”
مگر ماں جھوٹ سن لیتی ہے۔
چاہے بیٹی کتنی ہی اچھی اداکاری کیوں نہ کرے۔
ایک دن اُس کی کلائی پر نیل دیکھا۔
کہنے لگی:
“دروازے سے لگ گیا…”
ایک رات فون کیا تو پیچھے شگفتہ کی آواز آئی:
“اپنی ماں کو ہر بات بتانے کی عادت ختم کرو…”
اور حنا فوراً خاموش ہو گئی۔
تب بھی میرے دل نے خطرہ محسوس کیا تھا۔
مگر ہم مائیں عجیب ہوتی ہیں۔
ہم سچ جان کر بھی دعا کرتی رہتی ہیں کہ ��اید ہم غلط ہوں۔
ہسپتال میں ڈاکٹر نے کہا:
“پسلیاں متاثر ہوئی ہیں… اندرونی چوٹیں بھی ہیں… خون کافی بہہ چکا ہے…”
میں نے صرف ایک سوال پوچھا۔
“بچ جائے گی؟”
وہ خاموش ہو گیا۔
اور اُس خاموشی نے میری روح تک زخمی کر دی۔
“ہم پوری کوشش کر رہے ہیں…”
میں ICU کے باہر بیٹھ گئی۔
دوپٹے پر لگا خون خشک ہو رہا تھا۔
تبھی فون بجا۔
سعد کا پیغام تھا۔
میں نے سوچا شاید اُسے احساس ہو گیا ہو۔
شاید وہ پوچھے:
“حنا کیسی ہے؟”
مگر پیغام کھولتے ہی میرے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے مر گیا۔
“اپنی بیٹی کو سنبھال لیں۔ اب وہ ہمارے کسی کام کی نہیں رہی۔”
میں دیر تک اسکرین دیکھتی رہی۔
پھر حنا کے پرانے پیغامات کھولے۔
ایک voice note سنائی دیا۔
“امی میں ٹھیک ہوں…”
اور پیچھے شگفتہ کی آواز:
“کہہ دو اپنی ماں سے ہمارے گھر کے معاملات میں مداخلت نہ کرے…”
میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
یا اللہ…
بیٹیاں رخصت کرتے وقت ہم اُنہیں دعاؤں میں لپیٹ کر بھیجتے ہیں۔
پھر بعض گھر اُن کے لیے عذاب کیوں بن جاتے ہیں؟
میں نے سعد کو فون کیا۔
اُس نے دوسری bell پر اٹھا لیا۔
“جی آنٹی؟”
“تم نے حنا کو مارا ہے؟”
کچھ لمحے خاموشی رہی۔
پھر وہ ہنس دیا۔
وہ ہنسی…
آج تک میرے کانوں میں زندہ ہے۔
“آنٹی… میاں بیوی میں لڑائی ہو جاتی ہے…”
“تمہاری ماں نے بھی ہاتھ اٹھایا؟”
اُس کی آواز بدل گئی۔
“دیکھیں… امی کا نام احترام سے لیں…”
میں نے شیشے کے اُس پار ICU کی سرخ بتی دیکھی۔
“میری بیٹی مر سکتی ہے…”
اُس نے سرد لہجے میں کہا:
“تو دعا کریں مرنے سے پہلے عقل آ گئی ہو…”
میں نے فون بند کر دیا۔
کیونکہ اگر ایک لمحہ اور سنتی…
تو شاید قانون بھول جاتی۔
کچھ دیر بعد ش��فتہ کا فون آیا۔
میں نے recording on کر دی۔
اُس کی آواز میں عجیب سی نرمی تھی۔
🥀
میکڈونلڈز کی ڈرائیو تھرو کی قطار میں آدھے گھنٹے سے اپنی باری کے انتظار میں تھا. جب میری باری آئی تو آرڈر دینے میں مجھے کچھ زیادہ وقت لگ گیا.
پچھلی کار والی خاتون نے غصے میں ہارن بجانا شروع کردیا، جس کا مطلب تھا کہ میں جلدی کروں.
غصہ تو مجھے بہت آیا مگر میں نے جواب دینے کا منفرد طریقہ ڈھونڈا.
آرڈر دینے کے بعد میں اگلی کھڑکی پر پیمنٹ کیلئے پہنچا تو میں نے کہا کہ پچھلی کار والی خاتون کا بل بھی میں ہی دوں گا. کاونٹر گرل نے کیش لے کر د��نوں رسیدیں مجھے تھما دیں. جب وہ خاتون پیمنٹ کرنے آئی تو کاونٹر گرل نے بتایا کہ آپکی پیمنٹ اگلی کار والے صاحب نے کردی ہے.
میں اپنے ریر ویو مرر میں دیکھ رہا تھا. خاتون میری طرف شکرگزار آنکھوں سے دیکھتے ہوئے مسکرائی. میں نے ��ھی مسکرا کر ہاتھ ہلا دیا.
شرمندگی خاتون کے چہرے پر صاف نظر آرہی تھی.
مگر میرا مقصد انہیں شرمندہ کرنا نہیں تھا.
اگلے کاونٹر پر، جہاں مجھے آرڈر وصول کرنا تھا، میں نے دونوں رسیدیں دے کر اس خاتون کا آرڈر بھی وصول کرلیا اور چلا گیا.
اب خاتون کو دوبارہ آرڈر کرنے کیلئے پھر سے قطار میں لگنا تھا اور تب جاکر اسے اپنا آرڈر وصول ہوتا.
میں نے کہا نا کہ میرا مقصد انہیں شرمندہ کرنا نہیں تھا
منقول
جب آپ پھل کھاتے ہیں تو بیجوں کو ردی کی ٹوکری نہ پھینکیں، انہیں خشک کریں، ایک تھیلے میں ڈالیں اور اپنی گاڑی میں رکھ دیں ۔ جب آپ سڑک پر ہوں تو انہیں کھڑکی سے باہر ایسی جگہوں پر پھینک دیں جہاں درخت نہیں ہیں۔ قدرت ان کا خیال رکھے گی۔ تھائی لینڈ اور ملائیشیا جیسے ایشیائی ممالک میں، وہ برسوں سے یہ عمل کر رہے ہیں اور اب ان کے پاس ہر جگہ پھل ہیں۔
تو آئیے ہم سب طرح کے بیجوں کو اپنی سرزمینِ پاکستان پر پھیلا کر ماحول کو خوبصورت بنائیں، انہیں کوڑے دان میں نہ پھینکیں۔
@jeemmeme Oh bss bss.... you had three sehris at home and in all three days you had 3 parathas +full plate khicri + one huge bowl of lassi and ++++++++