She came to Madinah and found an unexpected friend _ a stray cat. Feeding her, sitting with her, building a silent bond. But saying goodbye before leaving the city broke her heart.... Some friendship happens without words
🚨 WTF?! Prominent journalist Mehdi Hasan reveals a UN report confirming a Zionist quadcopter sniper intentionally shot a 10-day-old baby in the head.
The infant was being breastfed.
The UN confirms the Israeli operator clearly saw the mother and baby. Pure evil!
Fatima, a beloved teacher in Luxembourg, was fired for speaking out against the kiIIing of children in Gaza.
Her students and their families organized a peaceful demonstration demanding justice and her immediate return to the classroom. ✊
یہ دونوں بہن بھائی ہیں
بھائی کا نام علی اور بہن کا نام ثناء ہے۔
علی اور ثناء سال 2002 میں اپنے چچا کے ہاتھوں لاہور کے ایک شیلٹر میں داخل ہوئے تھے۔
دونوں بہت ننھے منے سے تھے۔ اب یہ جوان ہوچکے ہیں۔
علی کہتا ہے کہ میں جب بھی ثناء سے ملنے جاتا ہوں تو اسکا ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ ہمارا گھر کب ملےگا؟
علی کی فائل کے مطابق انکو انکے چچا محمد نیاز ولد ابراہیم نے سال 2002 میں یتیم کہہ کر داخل کیا تھا۔ چچا کے شناختی کارڈ کی کاپی بھی لگی ہے جسمیں انکا ایڈریس لاہور کا علاقہ غازی آباد مغل پورہ مکان نمر 32 گلی نمبر 32 لکھا ہوا ہے۔
انکے والد کا نام عبدالملک لکھا ہوا ہے۔
دونوں بہن بھائی چاہتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کو ضرور ایک بار دیکھ لیں۔ دونوں شادی کی عمر ہوچکی ہے ان شاءاللہ انکا گھر بھی بس جائےگا لیکن اگر ماں کہیں موجود ہو تو وہ ضرور ماں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ یا ماں کے خاندان والے مل جائیں ۔ زندگی میں ضرور ایک بار اپنوں کی محبت دیکھنا چاہتے ہیں۔
علی اپنی بہن ثناء کے لئے ایک مضبوط چٹان بن کر بھائی ہونے کی ذمہ داری بنھا رہا ہے۔ لیکن کہیں نا کہیں اپنوں کی کمی انکو ضرور اداس کردیتی ہے۔
لاہور کے تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ 2002 سے آج تک جو چہرے مرجھائے ہوئے ہیں ان چہروں پر مسکراہٹ لوٹ آئے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
30 june 2026
#waliullahmaroof #lahore #PakistanZindabad
🔴شاب روسي اعتنق الإسلام وتعلّم العربيّة: «لم يُسلم أحدٌ من أهلي غيري .. والدي لم أرهُ في حياتي ولا أعلم أينَ هو .. بينما أمّي الحنونة فقد ربتني تربية لا تليق إلاّ بمُسلم .. لكنها لم تقبل دعوتي لها بدخول الإسـ ـلام .. فأرجو من الجميع أن يدعو لها بالهداية».
An elderly father sitting silently beside the grave of his martyred son.
Salaam to every martyr And to every family who carries their absence for a lifetime.
سیالکوٹ کے زندہ دل لوگ اس بچے کو اپنوں سے ملانے میں مدد کریں
اس بچے کا نام گھر میں کیا تھا اور والدین کے کیا نام تھے یہ اسے یاد نہیں ہے۔
ابھی اسکا نام کاشف ہے۔
کاشف کا کہنا ہے کہ وہ پانچ سال کی عمر میں گھر سے بچھڑ گیا تھا آج تک نہیں معلوم کہاں سے اور کیسے بچھڑا تھا۔
بس بچپن کی تصویر موجود ہے۔
ہم نے انکے ڈاکومںٹس چیک کئے تو اسمیں بازیابی کا شہر ڈسکہ سیالکوٹ لکھا تھا۔ اور سال 2016 لکھا تھا۔ ڈسکہ سے لاوارث ملا تھا۔ لاہور کے ایک شیلٹر پہنچا اور پھر وہاں سے کراچی منتقل ہوا۔
اور یہ بھی ممکن ہے کسی دوسرے شہر کا ہو۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو اتنا عام کریں کہ اگر انکا خاندان پاکستان سے باہر بھی کہیں ہو تو ان تک بات پہنچ جائے۔
آپکا ایک شئیر کسی دکھی ماں کو اسکا لخت جگر دلوا سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
29 june 2026
+923162529829
#waliullahmaroof
یہ بچہ اپنا نام مصطفٰی بتاتا ہے
تعلق چارسدہ سے ہے۔ بچے کا کہنا ہے والدین فوت ہوچکے ہیں۔ تقریبا دو سال سے کسی خاتون نے اپنے گھر رکھا ہے۔ بچے نے شاید وہاں سے بھاگنے کی کوشش بھی کی ہے۔
چارسدہ کے تمام دوست اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ ورثاء تک ہماری آواز پہنچے تو نیچے دئیے گئے نمبر پر رابطہ کریں۔
03162529829
29 june 2026
#waliullahmaroof
جیو میں یہ قابل اعتراض ڈاکیومنٹری کس نے بنائی یہ پروڈکشن کس کی تھی اور پھر کس نے فائنل approval دی کم از کم ان کے خلاف تو مقدمات درج ہونے چاہیں یہ عام معاملہ نہی ہے
جیو نیوز نے دس محرم پر چلائی جانے والی ڈاکومینٹری سفرِ عشق میں شامل مواد پر غلطی تسلیم کرتے ہوئے معذرت کرلی اور معافی بھی مانگی لیکن اس کے باوجود پندرہ دن کے لئے لائسنس کینسل اور نشریات معطل۔
آواز اٹھائیں 🚨
سرگودھا کے اس غریب بچے کے ساتھ بااثر افراد نے زیادتی کی اور پھر کھڈے میں پھینک کر اوپر مٹی ڈال دی لیکن یہ بچہ معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا۔
Portekizli bir Papaz İslam'ı kabul etti.
Müslüman olduktan sonra köyündeki bu kiliseyi satın aldı ve camiye dönüştürdü.
İlk ezanı da kendi sesiyle okudu. Ezanı bitirdikten sonra, ezanı duyan Portekizliler onu alkışladı.