کہاں چار مارشل لاء لگانے والی فوج ، کہاں گورنر راج لگا کر ملک توڑ دینے والی فوج اب تیسرا ہفتہ ہے چوتھے درجے کے خچروں سے ایمرجنسی کی دھمکیاں لگوائے جارہی ہے لگوائے جارہی ہے۔ ہک ہا کیسی پستی آگئی ہے۔
میرے پاکستانیوں، خصوصاً پنجاب کے لوگوں، اگر ہم نہ نکلے تو سہیل آفریدی کی ساری محنت اور یہ موقع ضائع ہو جائے گا۔
میں کل ملتان سے لاہور جاؤں گا اور وہاں سے اسلام آباد۔
میں اپنے بوڑھے جسم کے ساتھ جتنی وفا جمہوریت اور اس ملک کے ساتھ کر سکتا ہوں، میں کروں گا۔ اگر میرا بازو کمزور ہے تو مجھے یقین ہے کہ میرے نوجوان میرا بازو بنیں گے۔
یہ افضل جہاد ہے۔ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ اپنی آخری سانس تک لڑوں گا۔
تسلی رکھیں! یہ فوجی حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔
تسلی رکھیں! عمران خان جلد ہمارے بیچ ہوگا۔
مسلح لوگ وہ ہیں جو تمہاری لاشیں کھوتوں پر لاد کر بھجواتے ہیں یا وہ ہیں جن کے ہاتھوں مرنے والوں کی لاشیں بھی چھپاتے ہو اور خبریں بھی۔ ہم پرامن ہیں۔ پچھلے چار سال میں ہمارے کئی درجن لوگ شہید کرچکے ہو۔ تمہارا ہمارے ہاتھوں ایک نہیں مرا۔ بے غیرت مت بنو اور ان نہتے معصوموں کو دہشتگرد اور مسلح جتھے کہنا بند کرو۔
لکی بنوں کرک ساٹھ ستر ہزار آبادیوں کے علاقے ہیں۔ کوہاٹ تین چار لاکھ آبادی کا پہلا بڑا شہر تھا۔ جلد آرہا ہے بیس لاکھ آبادی کا شہر پشاور۔ محبت کرنے والے دلوں کو تھام لیں نفرت کرنے والے زبانوں کو لگام دیں۔ آرہا ہے وہ شاہکار ، جس کا تھا انتظار۔ کھڑکی توڑ لانگ مارچ۔ روزانہ دو شو لگاتار دو شو۔
لانگ مارچ نے جو ڈیمج کرنا تھا کردیا۔ جنوبی پختونخواہ سے لیکر پشاور تک اور اگلے کچھ دنوں میں پنجاب کے بارڈر تک پورے پختونخواہ میں جو موبلائزیشن ہوئی ہے یا ہوگی وہ کسی بھی گورنر راج یا فوجی آپریشن کا رستہ بند کردے گی۔ لیکن اب اس کے اثرات لامحالہ پنجاب سندھ اور کراچی پر بھی ہوں گے۔ ممکن نہیں کہ ایک صوبہ پورے ملک کی کاز لیکر باہر نکلا رہے اور باقی سوئے پڑے رہیں۔ لگاتار کی کوریج ، ہر وقت کا ہیجان بالآخر کم یا زیادہ کسی نا کسی حرکت کا سبب بنے گا۔
یہ مارچ جتنا آہستہ اور سست چلے گا فوج کو اسکی تکلیف بڑھتی جائے گی۔ اس تکلیف کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوگی کہ فوج کے منہ سے ٹپکتی ہوئی رالیں چیخیں گی کہ اٹک آؤ اٹک آؤ۔ نہیں آئیں گے بھائی۔ دل کیا تو آئیں گے۔ نہیں کیا تو نہیں آئیں گے۔ ہفتے بعد آئیں گے یا مہینے بعد۔ یہ ہم تمہیں کیوں بتائیں کہ کب آئیں گے۔
وڑو زیادہ تکلیف ہے تو گورنر راج لگاؤ۔
آپ اچھے جرنیلوں سے پرامید رہتے ہیں۔ مجھے سب سے زیادہ خطرہ اچھے جرنیلوں سے ہے۔ یہ عاصم منیر کے ہاتھوں عمران خان کو ختم کروا کے عوامی ردعمل کے نتیجے میں اسے ٹھکانے لگا کر اچھے جرنیل خود اقتدار میں آجائیں گے اور آپ کو ٹھنڈا کرلیں گے۔
لانگ مارچ دو تین دن پشاور قیام کرے اور تسلی سے تھکان اتار کے اگلی منزل پر روانہ ہو تو کیسا رہے گا؟ پشاور میں لانگ مارچ کے شرکاء کے لئے بہتر انتظامات ہوجائیں ، شہری انکے کھانے وغیرہ کا خیال رکھیں۔ کیسا؟
🚨🇵🇰 Imran Khan’s sisters have now been on HUNGER STRIKE for 48 hours!!!
They are REFUSING food inside prison to protest their ILLEGAL DETENTION and the reported mistreatment of female inmates.
Authorities are already under fire over the handling of Khan’s relatives and supporters...
They're NOT going to make it easy on them.
Source: @ShazadAkbar / Writer: Samuel
طوائف اور دلال کے لیے طوائف اور دلال کہلانا گالی نہیں ہوتی۔ یہ ان کا پیشہ ہے۔ کیونکہ وہ عزت کے بدلے پیسے لیتے ہیں۔ انہیں برا لگے بھی تو خاموش رہنا ہوتا ہے۔
عزت کے بدلے پیسے یا اقتدار یا اختیار لے لیا جائے تو کچھ برا لگے بھی تو خاموش رہنا ہوتا ہے۔ جی ہاں !خاموش رہنا ہوتا ہے۔
لانگ مارچ کے حوالے سے اسپیشل ڈیوٹی پر تعینات کانسٹیبل نہر میں ڈوب گیا
لانگ مارچ ہورہاہوتا تو یہ کیس تحریک انصاف کارکنوں پر بننا تھا کہ اسے اٹھا کر دریا میں پھینک دیا۔
کیا آپ جانتے ہیں ؟
قبائلی علاقوں اور سوات میں ٹی ٹی پی کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ کیا تھی ؟ متوازی عدالتیں اور انصاف کا نظام قائم کرنا۔ اس سسٹم پر لوگوں کا اعتماد اس قدر بڑھ گیا تھا کہ عام عوام اپنے تصفیے وہاں سے کرواتے اور وہاں “ فوری انصاف “ کی سہولت بھی میسر تھی۔
بارہ جماعت پاس پھدو دماغ چھاپوں ، گرفتاریوں اور توڑ پھوڑ کی مدد سے عوام کو ایک بار پھر انصاف اور تحفظ کے متبادل سیٹ اپ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اس ساری صورتحال کا نتیجہ کچھ خاص اچھا نہیں گا۔ پھر کہتے پھریں گے فاصلہ بہت تھا، مسئلہ سیاسی تھا اور وغیرہ وغیرہ ۔
ساٹھ ہزار زندہ لاشیں ٹرکوں میں جانوروں کی طرح لاد کر اسلام آباد و گرد و نواح میں پہنچائی گئی ہیں۔ ان کو جانوروں کی طرح مختلف باڑوں میں رکھا گیا ہے۔ ان کو گندہ بدبودار کھانا دیا جارہا ہے۔ یہ فرشوں پر سو رہے ہیں۔ انکی ویسے بھی کوئی زندگیاں نہیں۔ کوئی عزت نہیں۔ یہ کسی ملزم سے ، کسی مافیا سے حرام پکڑتے ہیں۔ یہ کسی اپنے سے زیادہ گھٹیا سیاستدان کے سامنے یئیں یئیں کرکے کسی تھانے میں بدلی کرواتے ہیں کہیں محرر لگ جاتے ہیں۔ یہ زندہ لاشیں اگر حرکت کرتی ہوتیں تو کوئی انہیں یوں نا جانوروں کا طرح لاد کر لاتا نا رکھتا نا بدبودار کھانا کھلاتا۔ مجھے ان تھڑے ہوئے لوگوں سے ہمدردی ہے۔
سول سیکریٹریٹ پشاور میں ہائی سیکیورٹی تھریٹ کی اطلاعات انتظامیہ نے سب بند کروا دیا تو سہیل آفریدی نے خود سول سیکریٹریٹ کا دورہ کیا اور مسجد جا کر جمعہ کی نماز ادا کی، ایسا کسی دوسرے صوبے کا وزیر اعلی کیا وزیر نہیں کر سکتا، بہادر تو ہے آفریدی۔۔۔
عمران خان جیل میں سے بھی جیت چکا ہے، یہ نظام، دنیا جہان کی غلامی کر کے بھی ہار چکا ہے۔ صرف اعلان باقی ہے۔
ڈٹ جاو
جب پوری قوم متحد ہو جائے تو اسے کوئی نہیں ہرا سکتا
#ڈگی_والا کسطرح چھپ کر جاتا تھا، یہ جنوری میں بتایا تھا
اب اعجاز الحق کو دباؤ ڈال کر بیان واپس لینے کا کہا گیا- خفیہ ملاقاتوں کے بعد یہ خود بتاتے تھے کہ ملاقات میں کیا طے پایا- #NRO2 انہی وجہ سے ہوا-
#ڈگی_والا_وزیراعظم 👇🏽👇🏽👇🏽