یہ اپریل 2018 کی بات ہے ،میجر جنرل فیض حمید لیفٹیننٹ جنرل کے رینک میں پروموٹ نہیں ہوئے تھے اور دو ستارہ جرنیل کے طور پر آئی ایس آئی میں بطور ڈی جی سی خدمات سرانجام دے رہے تھے تاہم سیاسی بندوبست کا نظام انہوں نے ہی سنبھال رکھا تھا۔میڈیا ہی نہیں سیاستدان بھی ان کا نام لینے کی جرات نہیں کرسکتے تھے۔ میں نے 12اپریل 2018 کو ایک کالم لکھا “سیاسی بندوبست اور مقام فیض“ جس میں ان کے سیاسی کارناموں کی نشاندہی کی گئی۔واضح رہے کہ میاں نواز شریف نے اس کالم کی اشاعت کے تین ماہ بعد11 جولائی 2018 کو لندن میں میڈیا کے ��مائندوں سے بات کرتے ہوئے پہلی بار جنرل فیض حمید کا نام لیا۔
میرا یہ کالم چھپ تو گیا مگر فیض حمید کے جبر سے روزنامہ جنگ کے آن لائن ایڈیشن سے لاپتہ ہوگیا۔آج بھی اگر آپ اس دن کا ای پیپر نکالیں تو میرے کالم کی جگہ حسن نثار کا کالم دکھائی دے گا۔بعد ازاں فیض حمید کو لیفٹیننٹ جنرل کے رینک میں ترقی مل گئی اور وہ چند ماہ ایڈجوٹیننٹ جنرل کے طور پر جی ایچ کیو گزارنے کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی بن گئے تو مجھ پر پابندی لگ گئی اور روزنامہ جنگ میں میرے کالم “ترازو“ کا سلسلہ تب بحال ہوا جب فوج نے نیوٹرل ہونے کا فیصلہ کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر)فیض حمید کو کورٹ مارشل کے بعد سزا سنائے جانے کی حقیقی وجوہات جو بھی ہوں ،ان کا انجام کو پہنچنا ہم جیسے قلمی مزدوروں کے لیئے خوشگوار ہوا کا تازہ جھونکا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ جو سارے جسٹس فائز عیسیٰ کے لئے زہر اگل رہے ہیں
اصل میں یہ فیض کے فیض یافتہ ہیں۔
جسٹس فائز عیسیٰ وہ بہادر سپوت تھا جس نے سب سے پہلے باوردی فیض کے خلاف فیصلہ دیا۔۔
پی ٹی آئی کے اسٹیبلشمنٹی والد فیض کو سزا سنانے کے جرم میں حکومت نے فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بنایا۔
یوتھ سوشل میڈیا نے کردار کشی مہم چلائی۔
ابھی ابھی SSP آپریشن اسلام آباد پولیس قاضی علی رضا صاحب کے آفس سے آ رہا ہوں، بیٹے کو ساتھ لے کر گیا تھا، SSP صاحب نے ناکے والوں کو بلایا تھا، بیٹے نے دو سیکنڈ سے پہلے ان دونوں جوانوں کو پہچان لیا جنہوں نے اس دن گاڑی سے چرس برآمد کرنے کا ڈرامہ کیا تھا اور پیسے بٹورے تھے، SSP آپریشن نے خود بھی ان کا انٹرویو کیا اور ہمارے سامنے بولا کہ بس سب کچھ کلیئر ہو گیا ہے، ہم ان کالی بھیڑوں کو نہیں چھوڑیں گے، میں پوری ٹائم لائن کل سے اس لئے بتا رہا ہوں تاکہ یہ ریکارڈ رہے، ان دونوں پولیس کے جوانوں کے نام مجھے معلوم ہیں آج بھی ان کے سینے پر name plate لگی تھی لیکن میں ابھی ان کے نام ظاہر کر کے کسی غیرذمہ دارانہ فعل کا ارتکاب نہیں کرنا چاہتا، لیکن کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تاکہ کل کو کوئی اور اس کی بھینٹ نہ چڑھے، میں امید کرتا ہوں قانون کیمطابق ان کالی بھیڑوں کیخلاف کارروائی ہو گی، میں انتظار کروں گا، اسلام آباد کے پولیس افسران سے مجھے ابھی تک اچھے کی امید ہے
جنرل فیض تاریخ کا بدترین، بے حس اور بے رحم شخص تھا
میرا بیٹا 9 سال کا تھا جب جنرل فیض نے میرے گھر چک شہزاد پر حملہ کرایا اور خاص طور اس کے حکم پر کرنل بٹ نے میرے 9 سالہ بیٹے کو گن پوائنٹ پر کہا تھا
We will kill you and your horses.
میرا بیٹا کئی سال جس ٹراما سے گزرا وہ میں جانتا ہوں اور وہ زیر علاج رہا وہ پہلے ہی ایگریسیو تھا مگر اس واقعہ کے بعد اور میرے اوپر ��ین بار قاتلانہ حملوں کے اکلوتے بیٹے کی حالت دیکھ کر جس میں ہر وقت ایک ہی سیچیوشن کہ مجھے بدلہ لینا ہے اور ہر حال میں بدلہ لینا ہے کوئی بھی حساس شخص بطور باپ سمجھ سکتا ہے کہ میں اور میری بیوی کن حالات سے گزرے ہوں گے۔
جنرل فیض کی ان معاملات کے باوجود بات چیت ہوتی تھی لیکن میرے بیٹے نے تمام تر کوششوں کے باوجود کبھی اس سے بات نہ کی
اپنی تو گزر گئی لیکن آج جنرل فیض کی زندگی اور اسکے خاندان کی زندگی تمام تر طاقت کے باوجود خراب ہو گئی
طاقت کا نشہ انسان کو پاگل بنا دیتا ہے
ابھی ابھی مجھ سے SP ڈولفن، خالد محمود صاحب اور SP صدر، کاظم نقوی صاحب نے رابطہ کیا، پوری تفصیل پوچھی اور بھر پور کارروائی کا یقین دلایا، میں نے کہا جناب ہم انکوائری میں ہر قسم کا تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن مجھے یہ سن کر انتہائی افسوس ہوا کہ SP ڈولفن پہلے بھی بہت سارے لوگوں کو انکوائری کے نتیجے میں اسی طرح کی کرپشن اور رشوت لینے کے الزام میں suspend کر چکے ہیں، لیکن پھر بھی یہ بیشرمی جاری ہے، مجھے(ظفر نقوی) اس سے پہلے خیبرپختونخوا اور پنجاب سے بہت سے نوجوانوں نے اسی طرح کی شکایت کی ہے لیکن میں نے سوچا شاید وہ کسی ضد میں کہہ رہے ہوں لیکن ��ب میرے اپنے گھر کیساتھ ہوا تو تب میں سمجھ گیا کہ یہ عادی مجرم ہیں، ہمارا کسی سے کوئی ذاتی عناد نہیں لیکن جو لوگ سیکورٹی کے نام پر پاکستان کے شہریوں کو لوٹ رہے ہیں ان کا احتساب ضرور ہونا چاہیے
12 اگست 2024 کو سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع ہوا، جو 15 ماہ تک جاری رہا۔
ملزم پر چار الزامات میں مقدمہ چلایا گیا جن میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنا جو ریاست کی سلامتی اور مفاد کے لیے نقصان دہ تھی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال، اور بعض افراد کو ناجائز نقصان پہنچانا شامل ہے۔
طویل اور محنت طلب قانونی کارروائی کے بعد ملزم کو تمام الزامات میں قصوروار قرار دیا گیا اور 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ یہ فیصلہ 11 دسمبر 2025 کو باضابطہ طور پر جاری کیا گیا۔
فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے۔ ملزم کو اپنی پسند کی دفاعی ٹیم سمیت تمام قانونی حقوق دیے گئے۔ مجرم کو متعلقہ فورم پر اپیل کا حق حاصل ہے۔
سیاسی عناصر کے ساتھ ملی بھگت کرکے سیاسی انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنے میں ملزم کی مبینہ شمولیت سمیت کچھ دیگر معاملات پر الگ سے کارروائی جاری ہے۔
آئی ایس پی آر
راولپنڈی، 11 دسمبر 2025
@a__bd26@ahsan_butt گندی نسل نے اولاد کی بھی گندی تربیت کی ہے ۔
حرام خوروں کی اولاد حرامی ، بدتمیز اور نشے میں مبتلا ہو کر ایسے ماں باپ کو گلی گلی زلیل کرواتی ہے
احساس کمتری کے مارے ججز بڑی گاڑی دیکھ کےقانون تو چھوڑیں ضمیر ہی بیچ دیتے۔
پہلے ایک جج کے بیٹے نے جعلی نمبر پلیٹ والی لینڈ کروزر کے نیچے دو بچیوں کو کُچل کے مار دیا
اب یوٹیوبر بغیر نمبر پلیٹ گاڑی میں ان کے مُنہ پر کالک مل کر چلا گیا
قانون صرف غریب کے لئے
پاکستان الیٹ اور طاقتور وں کی جنت ہے رجب بٹ کی گاڑی بغیر پروسیجر فالو کیے بغیر ضمانت لیے ہائی کورٹ میں داخل ہو رہی کیس کے باوجود پہلے اسے خصوصی اجازت سے بیرون ملک فرار کروایا گیا
چند دن پہلے ایک جج کے کم عمر بیٹے نے دو لڑکیاں کچل دیں
باقی عام لوگوں کے سکول جاتے بچوں کو ہتھکڑیاں لگا کر قانون پر عمل ہو گا کی بھڑکیں ماری جاتی ہیں غریب تو پہلے جکڑا ہوا قانون طاقتور سے شروع ہوتا تب معاشرے میں قانون کی حکمرانی ممکن ہوتی ہے
جج کے نابالغ بیٹے نے دو معصوم لڑکیوں کو موت کے گھاٹ اتار ��یا۔
اس لئے کہ جج صاحب کی لاپروائی ، عدم توجہی اور بے جا لاڈ نے اس بگڑے نواب کو گاڑی چلانے کی اجازت دی۔
پ��ر اس رات بچے کا میڈیکل نہیں ہوسکا۔
گاڑی میں کون کون تھا۔ چھپایا گیا۔
جج صاحب کے خلاف دیگر جج نہیں بولیں گے؟؟
خواجہ صاحب آپ دونوں فریقوں کو جانتے ہیں ، ایک کمزور، غریب اور مظلوم ہے ، اور دوسرا طاقتور اور ظالم ، جو آپکی حکومت کے زیر سایہ جج کی سیٹ پہ بیٹھا لوگوں کو نام نہاد انصاف مہیا کررہا ہے
سارے شہر میں جج آصف کے بچے کے ہاتھوں مقتول بچیوں کے معاملے پر مٹی ڈالنے پ�� شور مچا ہے اور خواجہ آصف عمار مسعود صاحب کے کالم کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے بزدلانہ نوٹ لکھتے ہیں کہ وہ فریقین کو قطعی طور پر نہیں جانتے مگر وہ سمجھتے ہیں جو ہوا غلط ہوا وغیرہ
جناب خواجہ آپ سب جانتے ہیں. آپ جانتے ہیں کہ قاتل ہائی کورٹ کے جج کا بچہ تھا. آپ جج کے بچے کو جس طرح اس معاملے سے نکالا گیا اس اذیت ناک تفصیل سے بھی خوب آگاہ ہیں. آپ جانتے ہیں قاتل طاقتور ہے اور اسی لیے اپنی جان بچانے کے لیے اس وقوعے کی ہومیو پیتھک مذمت سے پہلے یہ گرہ لگانا ضروری سمجھتے ہیں کہ آپ تو قطعی طور پر فریقین کو نہیں جانتے.
انہی رویوں نے ہمارا یہ حال کیا ہے خواجہ صاحب. سالوں بعد کسی واقعے پر پارلیمان میں کھڑے ہو کر داد شجاعت دینے سے بہتر ہوتا ہے بندہ وقت پر بات کرے.
___
آصف محمود
شاہراہِ دستور پر دو نمبر این سی پی، نان کسٹم پیڈ گاڑیاں چل رہی ہیں، کم عمر ڈرائیور بنا لائسنس چلا رہے ہیں ، مجرمانہ غفلت کے ساتھ، دورانِ ڈرائیونگ موبائل استعمال کرتے ہوئے
دو بچیوں کا قتل کرتے ہیں
اور چار دن میں چھوٹ کر گھر واپس آجاتے ہیں
جج صاحب کی عدالت میں آج بھی کیس لگے تھے
1) نان کسٹم پیڈ
2) جعلی نمبر پلیٹ پر
3) بغیر لائیسنس کے گاڑی چلاتا انڈر ایج لڑکا
4) حد رفتار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے
5) دو افراد کی جان لے لیتا ہے۔
6) گاڑی جج صاحب کے ایسٹس میں نان ڈکلئیرڈ
7) گاڑی کی قیمت جج صاحب کے ذرائع آمدن سے تقابل نہ رکھنے کے باوجود
چیف جسٹس آف پاکستان کو جج آصف کے کنڈکٹ میں ابھی تک کوئی نقص نظر نہیں آیا تو سمجھ لیں آوے کا آوے ہی بگڑا ہوا ہے، اور آگر آپ اس ایلیٹ کلاس کا حصہ نہیں ہیں ت�� آپ اور آپکی نسلیں یدے گئے ہیں۔
اسلام وعلیکم۔۔۔