جنگل میں شدید قحط پڑ گیا تو شیر نے بکری سے کہا کہ اس مشکل وقت میں قربانی دینی چاہئے اس لئے تم چارہ ایک وقت کھاو گی اور دودھ تین مرتبہ دو گی .
بکری بولی کہ بادشاہ سلامت ہمیشہ میں کمزور غریب ہی قربانی دیتی ہوں اس مرتبہ طاقتور بھی قربانی دیں.
شیر نے 1/1
رزق حلال عین عبادت ہے
چھوٹا سا واقعی پڑھنے میں دل کو چھو گیا تو کیا ہم حقیقت میں ایسے محنتی اور جفاکش لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق نہیں رکھتے ؟؟؟
Read this 👇
چند دن پہلے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ کروڑ پکا گیا تھا۔ واپسی پر لودھراں کی طرف آتے ہوئے بستی درزی والا کے قریب دو درختوں کے نیچے ایک چھوٹی سی ریڑھی، ساتھ ایک کمرے کی سادہ سی دکان اور تندور سے نکلتی ہوئی گرم گرم روٹیوں کی خوشبو نے ہمیں روک لیا۔
بھائی کافی پریشان تھے۔ باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ کروڑ پکا سے تازہ چکن خرید کر لاتے ہیں، خود اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے ہیں، پھر اپنی والدہ کو دیتے ہیں، جو کئی گھنٹے محنت سے گھر میں دیگی چکن قورمہ تیار کرتی ہیں۔
بھائی نے افسوس سے کہا، “لوگ بڑے بڑے ریسٹورنٹس میں 1500 سے 1700 روپے کلو قورمہ خوشی سے کھا لیتے ہیں، لیکن میری والدہ کے ہاتھ کا بنا ہوا خالص دیگی چکن قورمہ، جو صرف 700 روپے فی کلو ہے، اسے چکھنے کے لیے بھی نہیں رکتے۔”
یہ بات سن کر دل اداس ہو گیا۔ ہم نے فوراً آدھا کلو دیگی چکن قورمہ لیا، صرف 350 روپے کا، اور ساتھ تندور کی فریش گرم گرم روٹیاں، صرف 15 روپے فی روٹی۔
پہلا نوالہ کھاتے ہی ایسا لگا جیسے برسوں بعد گاؤں میں ماں کے ہاتھ کا کھانا کھایا ہو۔ ایسا خالص ذائقہ کہ ہم دونوں انگلیاں چاٹتے رہ گئے۔
اگر آپ کبھی کروڑ پکا سے لودھراں کی طرف سفر کریں اور بستی درزی والا سے گزریں، تو دو درختوں کے نیچے کھڑے ان محنتی بھائی کے ہاتھ کا دیگی چکن قورمہ ضرور آزمائیں۔
کبھی کبھی بہترین ذائقہ کسی مہنگے ریسٹورنٹ میں نہیں، بلکہ ایک چھوٹی سی ریڑھی پر، ایک ماں کی محبت اور ایک بیٹے کی محنت میں ملتا ہے۔ ❤
انڈین اداکارہ Sushmita Sen کہتی ہیں کہ:
“کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ ہمیشہ یاد رکھنا! آپ سے سوال جتنی بھی بدتمیزی سے کیا جائے، آپ تمیز سے جواب دینا کیونکہ
History will not record that question, they’ll record your answer.
ذہن میں بیٹھ گیا کہ کچھ ہوجائے، مجھے میری بات رکھنی ہے اور تمیز سے رکھنی ہے تاکہ جو سامنے سن رہا ہے اسے سمجھ میں نہیں بھی آئے تو بعد میں
When history records it
کسی اور کو سمجھ میں آجائے۔”
اور یہ بات پلے سے باندھ لینے والی ہے۔اور میرا تو اب ہر روز اس چیز سے واسطہ پڑ رہا ہے۔
لوگ ایکشن کو یاد نہیں رکھتے، وہ ہمیشہ تمہارے ری ایکشن کو یاد رکھتے ہیں۔
People try to provoke you, but it is up to you to protect your own legacy.
تو اگر کوئی تم پر بلاوجہ کی تنقید کررہا ہے یا پھر بلاوجہ تم سے ایسی بات کہہ رہا ہے جو مناسب نہیں تو اس کے پیچھے ان کا مقصد صرف تمہیں اکسانا ہوتا ہے، تمہیں provoke کرنا ہوتا ہے۔
کیونکہ یہ دنیا تماشا دیکھنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔تو تم نے ان کے لیے تماشے کا کھیل نہیں بننا۔
کیونکہ لوگ ان کے الفاظ کو یاد نہیں رکھیں گے، لوگ اس بات کو یاد رکھیں گے کہ تم نے اپنی بات کیسے سامنے رکھی تھی۔
قد میں “بونا” ہونا عیب نہیں ہے، سوچ میں “بونا” ہونا بہت بڑا عیب ہے اور تمہیں ان کی طرح “بونا انسان” نہیں بننا۔
مسکان احزم
کل رات مجھے
نیند میں بار بار جھٹکے لگ رہے تھے… دل گھبرا رہا تھا
کیوں کہ میں ڈر گئی تھی
میں نے موبائل پر سورہ بقرہ کی تلاوت لگا لی اور دوبارہ سونے لگی ابھی تھوڑی دیر گزری
دروازہ بجا میری دو تین ہمسائی آگئی
رات کے نو بجے میری طبیعت میں عجیب چڑ چڑا پن تھا
لیکن اُن کے سامنے خود کو نارمل ظاہر کیا میں اُنکو کبھی نہیں کہہ سکتی تھی آپ اس وقت کیوں آئی مہمان تو اللّٰہ پاک کی طرف سے رحمت ہوتے ہیں خیر
کچھ دیر بیٹھ کر وہ چلی گئی میں بے چین تھی اس کے بعد مجھے نیند نہیں آرہی تھی
سوچا ایسا کیا کروں جو نیند میں جھٹکے نہ لگیں
پھر یاد آیا آقا ﷺ کا فرمان کہ _لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ_ جنت کا خزانہ ہے اور 99 بیماریوں کی دوا ہے۔
بس تیسرے کلمے کی تسبیح شروع کی…
*سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ*
واللہ! چند منٹ میں ایسا سکون آیا تسبیح کرتے ہوئے مجھے ایسا نیند نے گھیرا کہ پوری رات سکون کی نیند سوئی
تیسرے کلمے کی فضیلت:
1. گناہ جھڑتے ہیں جیسے درخت سے پتے
2. جنت میں درخت لگتا ہے ہر بار پڑھنے پر
3. میزان میں سب سے بھاری ہے یہ کلام
4. غم، خوف، ڈپریشن کی دوا ہے
یہ "باقیات صالحات" میں سے ہے… یعنی وہ نیکی جو قیامت تک ساتھ جائے گی۔
کبھی آپ لوگوں کو نیند میں جھٹکے لگتے ہیں اس کلمے کی تسبیح کرتے ہوئے سو جائیں
شیطان تنگ نہیں کرے گا ان شاء اللہ۔
ایک ایسا ولن جس کی شاندار اداکاری کی وجہ سے "فلم فیئر ایوارڈ" میں بیسٹ ولن
کی کیٹیگری کو شامل کرنا پڑا ۔۔۔
انڈین فلموں کے مشہور ولن "سداشو امراپورکر" جنہوں نے فلم "سڑک" میں "مہارانی" کا ایسا خوفناک اور شاندار کردار نبھایا تھا اور وہ اس قدر جاندار اور اثر انگیز تھا کہ فلم فیئر کی انتظامیہ کو اپنی دہائیوں پرانی روایت بدلنی پڑی۔۔۔۔
اس سے پہلے فلم فیئر ایوارڈز میں بہترین ولن کے لیے کوئی الگ کیٹیگری نہیں ہوتی تھی بلکہ منفی کردار نبھانے والے اداکاروں کو بھی بیسٹ سپورٹنگ ایکٹر کی کیٹیگری میں ہی نامزد کیا جاتا تھا۔ لیکن "مہارانی" کے کردار کی مقبولیت اور سداشو کی بے مثال اداکاری کو دیکھ کر فلم فیئر نے باقاعدہ طور پر بیسٹ ولن جسے بعد میں بیسٹ نیگیٹو رول کہا گیا کی ایک نئی کیٹیگری متعارف کروائی۔
سداشو امراپورکر اس نئی کیٹیگری کا پہلا ایوارڈ جیتنے والے فلم فیئر ایوارڈ کی تاریخ کے پہلے اداکار بنے ۔ جہاں انہوں نے امریش پوری (فلم سوداگر) اور ڈینی ڈینزونگپا (فلم ہم) جیسے مایہ ناز ولنز کو پیچھے چھوڑ کر یہ اعزاز اپنے نام کیا تھا۔۔۔
سداشو امراپورکر کا اصل نام گنیش کمار مودی تھا۔ وہ 11 مئی 1950 کو احمد نگر ۔ میں پیدا ہوئے۔ کالج کے دنوں میں ایک ڈرامے میں کاتل کا کردار نبھانے پر انہیں پہلا انعام ملا ۔ جس کے بعد ان کا رجحان تھیٹر کی طرف ہو گیا۔ شروع میں والد کی طرف سے سخت مخالفت اور پٹائی کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔لیکن انہوں نے اداکاری چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا
پہلی ہندی فلم اردھہ ستیا میں راما شیٹی نامی منفی کردار کے لیے کاسٹ ہوئے ۔ اور اس فلم میں ان کی کارکردگی اتنی لاجواب تھی کہ ہیرو اوم پوری نے بھی اعتراف کیا کہ انہیں سداشو کی اداکاری دیکھ کر حسد ہونے لگا تھا۔۔۔۔
انہوں نے بہت سی یادگار فلموں میں چالاک ۔ ہوشیار ۔شاطر دماغ اور ظالم ولن کے کردار کئیے ۔ مگر ساتھ ہی ساتھ کچھ فلموں میں مزاحیہ اداکاری کر کے ثابت کیا کہ وہ ہر قسم کا رول کر سکتے ہیں۔۔۔
سداشو امراپورکر 3 نومبر 2014 کو پھیپھڑوں کے انفیکشن کی وجہ سے وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور بھارتی فلم انڈسٹری کا ایک کڑوا سچ یہ بھی سامنے آیا کہ جس اداکار نے زندگی بھر تمام بڑے سپر اسٹارز کے ساتھ کام کیا ۔ ان کے آخری وقت میں گووند نہلانی اور رضا مراد کے علاوہ کوئی بھی بڑا فلمی ستارہ انہیں الوداع کہنے نہیں پہنچا۔۔۔
سڑک فلم کا نام جب بھی ذہن میں آئے گا تو مہارانی کا کردار ادا کرنے والے سداشو بھی لازمی یاد آئیں گے ۔۔۔۔
ایک ملک دو قانون
الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی کو مخصوصی سیٹوں کو اہل قرار دیتے ہوئے پیپلزپارٹی کی درخواست مسترد کردی۔
سنی اتحاد کونسل کو اس بنیاد پر آئینی بینچ نے سیٹیں دینے سے انکار کیا تھا کہ تھا کہ انہوں نے عام انتخابات میں خود کوئی سیٹ نہیں جیتی، استحکام پاکستان پارٹی نے بھی کوئی سیٹ نہیں جیتی مگر ان کو مخصوص سیٹوں کے اہل قرار دیدیا گیا ہے۔
گہرا بور ،
زیادہ پانی، یہ غلط فہمی ہے! 150-200 فٹ تک کا پانی بارش سے ری چارج ہوتا ہے۔ اس سے نیچے پانی کم، کھارا اور بجلی مہنگی۔ اگر ایسے پانی سے کھیتی کی تو زمین بنجر ہو جائے گی۔ پانی بچائیں، بارش کا پانی زمین میں اتاریں۔ یہ ہماری نسلوں کی امانت ہے۔ 💧
سولر پینل کی اصل پاور (واٹ) جانچنے کا طریقہ کار ایک انتہائی مفید مہارت ہے، خاص طور پر جب آپ سیکنڈ ہینڈ پینل خرید رہے ہوں یا یہ دیکھنا چاہ رہے ہوں کہ کیا آپ کے پینل اپنی کارکردگی کے مطابق بجلی پیدا کر رہے ہیں۔
سولر پینل کی پاور معلوم کرنے کے لیے ہم طبیعیات کا بنیادی اصول استعمال کرتے ہیں: **پاور (واٹ) = وولٹیج × کرنٹ**۔
**چیک کرنے کا بہترین طریقہ:**
اس مقصد کے لیے صبح 11 بجے سے سہ پہر 3 بجے کے درمیان کا وقت سب سے بہتر ہے جب سورج بالکل سر پر ہو اور دھوپ تیز ہو۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ موسم صاف ہو، کیونکہ بادل یا گرد و غبار ریڈنگ کو متاثر کر سکتے ہیں۔
سب سے پہلے ملٹی میٹر کو 'DC Voltage' پر سیٹ کریں۔ پینل کی پازیٹو (+) اور نیگیٹو (-) تاروں کو میٹر کی پروبس (Probes) کے ساتھ لگائیں اور جو ریڈنگ میٹر پر آئے اسے نوٹ کر لیں۔ اب ملٹی میٹر کو 'Amps' (10A یا 20A کی پورٹ) پر سیٹ کریں اور میٹر کی پروبس کو پینل کی تاروں کے ساتھ براہ راست جوڑ کر کرنٹ کی ریڈنگ نوٹ کریں۔ (احتیاط: یہ عمل بہت تیزی سے کریں کیونکہ زیادہ دیر شارٹ سرکٹ رکھنے سے پینل یا میٹر کو نقصان پہنچ سکتا ہے)۔
اب حاصل کردہ وولٹیج اور کرنٹ کی ریڈنگ کو آپس میں ضرب (Multiply) دے دیں، جو جواب آئے گا اتنے واٹ کا آپ کا پینل ہوگا۔ مثال کے طور پر، اگر وولٹیج 20 ہیں اور کرنٹ 5 ایمپیئر ہے تو 20 کو 5 سے ضرب دینے پر 100 واٹ حاصل ہوں گے۔
یاد رکھیں کہ یہ ریڈنگ "پیک پاور" ہوتی ہے اور عملی طور پر پینل اپنے درج شدہ واٹ سے 10 سے 15 فیصد کم آؤٹ پٹ دے سکتے ہیں جو کہ نارمل ہے۔ ہمیشہ معیاری ملٹی میٹر کا استعمال کریں اور تاروں کو جوڑتے وقت مکمل احتیاط برتیں۔
اگر آپ سولر، انورٹر، وی ایف ڈی (VFD) کی سیٹنگز، کنکشن یا کسی بھی تکنیکی مسئلے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو نیچے کمنٹ کریں۔
#ElectricalSeriesPlusZKnowledge #SolarSystem
عید کا دن تھا۔ ہمارے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ میں نے دروازہ کھولا تو باہر تقریباً پانچ سال کی ایک ننھی سی بچی کھڑی تھی۔
میں نے پوچھا:
"جی بیٹا؟"
وہ بولی:
"بھائی، گوشت دے دیں۔"
میں نے کہا:
"بیٹا، ایک گھنٹے بعد آ جانا، ابھی گوشت کی کٹنگ ہو رہی ہے۔"
وہ بولی:
"ٹھیک ہے بھائی، پھر جانور کی سری ہی دے دیں۔"
میرے بھائی نے کہا:
"یہ سری ہم نے فلاں بندے کو دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔"
میں نے بچی سے کہا:
"بیٹا، یہ کسی کو دینی ہے۔"
وہ بڑی معصومیت سے پنجابی میں بولی:
"بھائی، ویکھ لو، مہربانی ہو جُو، مینوں دے دیو سری۔"
(اردو: بھائی، مہربانی کرکے مجھے دے دیں۔)
اس کے لہجے میں ایسی معصومیت تھی کہ میرا دل پگھل گیا۔ میں نے کہا:
"لے جاؤ بیٹا، کوئی بات نہیں۔"
اب وہ سری اٹھانے لگی، لیکن ظاہر ہے پانچ سال کی بچی سے اتنا وزن کہاں اٹھایا جاتا۔
میں نے کہا:
"بیٹا، اپنے کسی بھائی کو بلا لو، وہ لے جائے گا۔"
وہ بولی:
"میرا کوئی بھائی نہیں ہے۔"
میں نے کہا:
"پھر اپنے ابو کو بلا لو۔"
اس نے جواب دیا:
"میرے ابو بھی نہیں ہیں۔"
یہ سن کر دل عجیب سا اداس ہوگیا۔
میں نے کہا:
"اچھا، اپنی والدہ کو بلا لاؤ۔"
وہ بولی:
"میری والدہ بھی نہیں ہیں، میں اکیلی ہوں۔"
یہ سن کر واقعی میرا کلیجہ منہ کو آگیا۔ ایک پانچ سال کی بچی، جس عمر میں بچے کھلونوں اور کھیلوں کی فکر کرتے ہیں، وہ زندگی کے اتنے بڑے دکھ سہہ رہی تھی، اور شاید ابھی اسے خود بھی ان دکھوں کی پوری سمجھ نہ ہو۔
خیر، یہ مالک کا نظام ہے۔
میں کسی کام میں مصروف تھا، ورنہ خود اس کے ساتھ چلا جاتا۔
میں نے پوچھا:
"پھر کس کے پاس رہتی ہو؟"
وہ بولی:
"اپنے تایا ابو کے پاس۔"
میں نے کہا:
"اچھا، انہیں ہی بلا لاؤ۔"
وہ بولی:
"بھائی، میں لے تو آؤں گی، لیکن آپ کسی اور کو سری دے دیں گے۔"
میں نے کہا:
"نہیں دوں گا۔"
وہ فوراً بولی:
"قسم کھاؤ! 😂"
اتنی پیاری اور معصوم لگی کہ میں ہنس پڑا اور کہا:
"ہاں، قسم کھاتا ہوں، کسی اور کو نہیں دوں گا۔"
پھر وہ اپنے تایا ابو کو لے کر آئی اور وہ سری لے گئے۔
اس واقعے کے بعد میں کافی دیر تک سوچتا رہا کہ زندگی ایک انسان کو کن کن حالات سے گزارتی ہے۔
تقریباً ایک گھنٹہ گزرا تھا کہ دوبارہ دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔
میں نے باہر جا کر دیکھا تو وہی ننھی سی بچی کھڑی تھی۔
میں نے پوچھا:
"جی بیٹا؟"
وہ مسکراتے ہوئے بولی:
"بھائی، آپ نے کہا تھا نا کہ ایک گھنٹے بعد گوشت لینے آنا۔"
میں بے اختیار ہنس پڑا۔
میں نے اس شہزادی کو گوشت بھی دیا۔
مجھے نہیں معلوم میری قربانی اللہ تعالیٰ نے قبول کی یا نہیں، لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اس ننھی بچی کے چہرے پر جو مسکراہٹ تھی، شاید وہی میری قربانی کی سب سے خوبصورت قبولیت تھی۔
یہ واقعہ عید کے دن میرے ساتھ پیش آیا، اس لیے دل چاہا کہ آپ سب کے ساتھ بھی ضرور شیئر کروں۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ ہم کسی کی مدد کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت میں اللہ کسی کو ہمارے پاس بھیج کر ہماری آزمائش لے رہا ہوتا ہے۔
Copied
اُس رات میرے چودہ سالہ بیٹے نے صرف اتنا پوچھا تھا، “ابو… آپ پہلے والے ابو کیوں نہیں رہے؟
اُس رات میں بہت دیر سے گھر آیا تھا۔
سردیوں کی رات تھی۔ گلی تقریباً سنسان ہو چکی تھی۔ دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے آہستہ سے دروازہ کھولا تاکہ بچے نہ جاگ جائیں۔
مگر ڈرائنگ روم کی ہلکی زرد روشنی ابھی جل رہی تھی۔
اور صوفے پر میرا چودہ سالہ بیٹا حمزہ بیٹھا تھا۔
گھٹنوں پر کمبل، آنکھوں میں نیند، اور چہرے پر میرا انتظار۔
مجھے دیکھتے ہی فوراً کھڑا ہو گیا۔
“ابو… کھانا گرم کر دوں؟”
پتہ نہیں کیوں…
یہ ایک عام سا جملہ اُس دن سیدھا دل میں جا کر لگا تھا۔
میں نے ہنسنے کی کوشش کی۔
“نہیں یار… کھا لیا تھا۔”
وہ چند لمحے خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا۔
پھر آہستہ سے بولا،
“جھوٹ بول رہے ہیں نا؟”
میں رک گیا۔
کیونکہ بچے جب بڑے ہونے لگتے ہیں نا… تو وہ باتیں نہیں، انسان پڑھنے لگتے ہیں۔
سچ یہ تھا کہ صبح سے صرف دو کپ چائے پی تھی۔ دفتر میں اتنا دباؤ تھا کہ کھانے کا ہوش ہی نہیں رہا۔ اوپر سے مالک نے سب کے سامنے ذلیل کیا الگ۔
“اگر کام نہیں ہوتا تو گھر بیٹھ جاؤ… باہر لائن لگی ہوئی ہے نوکری کرنے والوں کی۔”
میں پوری واپسی راستے یہی سوچتا آیا تھا کہ اگر واقعی نوکری چلی گئی تو؟
کرایہ؟
بچوں کی فیس؟
امی کی دوائیاں؟
گھر کا خرچ؟
مرد عجیب مخلوق ہوتا ہے۔
سب کے لیے چھت بناتا رہتا ہے…
مگر اپنے اوپر گرتی ہوئی چھت کا ذکر نہیں کرتا۔
حمزہ خاموشی سے کچن میں گیا اور دال گرم کرنے لگا۔
میں اُسے دیکھتا رہا۔
اُس کی شکل میں مجھے اپنا بچپن نظر آیا۔
وہی وقت سے پہلے سمجھدار ہو جانے والی خاموشی۔
وہ پلیٹ لے کر آیا اور میرے سامنے رکھ دی۔
“کھا لیں ابو…”
میں نے پہلا نوالہ توڑا ہی تھا کہ اُس نے اچانک پوچھ لیا،
“آپ خوش ہیں؟”
میرا ہاتھ وہیں رک گیا۔
بعض سوال انسان کے اندر ایسے گرتے ہیں جیسے بند کمرے میں اچانک شیشہ ٹوٹ جائے۔
میں نے بات ہلکی کرنے کی کوشش کی۔
“پاگل ہے؟ کیوں نہیں ہوں گا؟”
وہ آہستہ سے بولا،
“کیونکہ آپ پہلے والے ابو نہیں رہے…”
کمرے میں عجیب خاموشی پھیل گئی۔
وہ میری طرف دیکھے جا رہا تھا۔
“پہلے آپ گھر آتے تھے تو امی کے ساتھ بیٹھتے تھے… ہمیں باہر لے جاتے تھے… ہنستے تھے… اب آپ بس چپ رہتے ہیں۔”
میں خاموش رہا۔
کیونکہ وہ غلط نہیں تھا۔
میں واقعی آہستہ آہستہ ختم ہو رہا تھا۔
اور عجیب بات یہ تھی…
کسی نے محسوس بھی نہیں کیا۔
دفتر والوں کو صرف کام چاہیے تھا۔
رشتے داروں کو صرف مدد۔
گھر والوں کو صرف مضبوط باپ۔
اور میں؟
میں کب کا کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔
حمزہ میرے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
پھر اُس نے بہت آہستہ سے پوچھا،
“ابو… مرد تھک کیوں جاتے ہیں؟”
میں کافی دیر جواب نہیں دے سکا۔
پھر نہ جانے کیوں دل بھر آیا۔
میں نے پہلی بار اپنے بیٹے سے سچ بولا۔
“کیونکہ بیٹا… مردوں کو رونے نہیں دیا جاتا۔”
وہ خاموشی سے سنتا رہا۔
میں بولتا گیا۔
“جب مرد پریشان ہو تو لوگ کہتے ہیں مضبوط بنو… جب ٹوٹے تو کہتے ہیں مرد بنو… جب خاموش ہو جائے تو کہتے ہیں بدل گیا ہے…”
میری آواز بھاری ہو گئی۔
“اور ایک دن… وہ واقعی بدل جاتا ہے۔”
حمزہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
پھر اُس نے آہستہ سے میرا ہاتھ پکڑا اور بولا،
“آپ میرے سامنے رو سکتے ہیں ابو…”
بس…
یہ جملہ سن کر میں ٹوٹ گیا۔
پتہ نہیں کتنے سال بعد رویا تھا۔
ایسے جیسے اندر جمع ساری تھکن آنکھوں سے نکل رہی ہو۔
اور میرا بیٹا…
وہ خاموشی سے میرے پاس بیٹھا رہا۔
نہ نصیحت۔
نہ سوال۔
بس ساتھ۔
اُس رات مجھے پہلی بار سمجھ آیا…
مرد کو ہمیشہ حل نہیں چاہیے ہوتا۔
کبھی کبھی صرف ایک انسان چاہیے ہوتا ہے جو اُس سے پوچھ لے:
“تم واقعی ٹھیک ہو؟”
آج حمزہ یونیورسٹی میں ہے۔
کبھی کبھی رات کو میرے کمرے میں آتا ہے، چائے بناتا ہے اور بغیر کسی وجہ کے میرے پاس بیٹھ جاتا ہے۔
اور جاتے جاتے ہمیشہ ایک بات کہتا ہے:
“ابو… خود کا بھی خیال رکھا کریں۔”
پھر میں اُسے جاتا ہوا دیکھتا ہوں اور دل میں دعا کرتا ہوں:
یا اللہ…
میرے بیٹے کو اچھا مرد ضرور بنانا…
مگر ایسا مرد کبھی نہ بنانا جو ساری زندگی سب کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اندر سے خاموش ہو جائے۔
ویتنام میں ایک لڑکی شاپ میں داخل ہوئی، لیکن وہ اور سیلز گرل بار بار ایک دوسرے کے راستے میں ایک ہی انداز سے ہٹ رہی تھیں کافی دیر تک یہ مزے دار “سیم موومنٹ” چلتی رہی، پھر آخرکار دونوں آمنے سامنے آ ہی گئیں