ایک کسان تھا جس نے بہترین کوالٹی کی مکئی اگائی۔ ہر سال اس نے بہترین مکئی کا ایوارڈ جیتا۔
ایک سال ایک اخبار کے رپورٹر نے اس کا انٹرویو کیا کہ اس نے کیسے پیداوار کو بڑھایا اس کے بارے میں اس نے کچھ دلچسپ سیکھا۔
کسان: میں نے اپنی مکئی کا بیج اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بانٹ دیا۔۔
رپورٹر: "آپ اپنے بہترین بیج مکئی کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کیسے بانٹ سکتے ہیں جب کہ وہ ہر سال آپ کے ساتھ مسابقت میں مکئی میں داخل ہو رہے ہوں؟"
کسان: "کیوں جناب" ، "کیا آپ نہیں جانتے کہ ہوا پکتی ہوئی مکئی سے پولن اٹھاتی ہے اور اسے کھیت سے دوسرے کھیت میں منتقل کرتی ہے۔ اگر میرے پڑوسی کمتر مکئی اگاتے ہیں تو کراس پولینیشن میری مکئی کے معیار کو مسلسل گرا دے گا۔ اگر مجھے اچھی مکئی اگانی ہے تو مجھے اپنے پڑوسیوں کی اچھی مکئی اگانے میں مدد کرنی چاہیے۔
یہی فلسفہ ہے زندگی کا کہ:
وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (حج: 77)
"اور نیکی کرو تاکہ تمہیں فلاح و کامرانی نصیب ہو۔"
ہماری زندگیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے... جو لوگ بامعنی اور اچھی طرح سے جینا چاہتے ہیں انہیں دوسروں کی زندگیوں کو سنوارنے میں مدد کرنی چاہیے، کیونکہ زندگی کی قدر ان زندگیوں سے ہوتی ہے جو اس کو چھوتی ہے۔ اور جو خوش رہنے کا انتخاب کرتے ہیں انہیں دوسروں کی خوشی تلاش کرنے میں مدد کرنی چاہیے، کیونکہ ہر ایک کی فلاح سب کی فلاح و بہبود سے وابستہ ہے۔
کیا خیال ہے آپ کا؟
#موناسکندر
مفت کھانا کھائیں
جگہ جگہ یہ لکھا دیکھ خیال آتا ہے، ایسا بینر کہیں نہیں نظر آتا جس پر لکھا ہو:
مفت ویلڈنگ سیکھیں
مفت پلمبرنگ سیکھیں
مفت گاڑی مستری بنیں
مفت انجینئرنگ سیکھیں
مفت کمپیوٹر سیکھیں
مفت چائینی، کورین، جاپانی، انگلش لینگویج کورس کریں
مفت درزی بنیں وغیرہ وغیرہ۔
يہ لوگ خیرات کرنے والے قوم کو نکما اور بھکاری بنا رہے ہیں۔
دو دیگوں پر جتنا خرچہ آتا ہے اتنے پیسوں میں ویلڈنگ کی مشین اور ضروری آلات آجاتے ہیں آپ تنخواہ پر ایک استاد رکھ لیں اور صرف ایک ہفتے کی ویلڈنگ لرننگ کلاس دیں اور آخر میں دس ہزار کی ایک ویلڈن مشین ہر سیکھنے والے کے حوالے کریں آئندہ کے لئے وہ خود کفیل ہو جائے گا۔ اور تاحیات عزت کی روزی روٹی کمائے گا۔
قوم کو بھکاری نہیں ہنر مند بنائیں.
استاد خالد
ریٹویٹ کرنے پر پیسہ نہیں لگتا !!
عمران خان سچا عاشق رسول (ص) ہے اور وہ مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے ۔یہی اسکا اصل قصور ہے ``
#آئین_کی_جنگ_خان_کے_سنگ
اسلام علیکم 🌷
صبح بخیر
یَا رَبِّ عَلِّقْ قَلْبِىْ بِمَا یُرْضِیْكَ○
"اے میرے رب! میرا دل ان چیزوں کی طرف مائل کر جن سے تو راضی ہوتا ہے"-
اور ان کاموں سے بچا جن سے تو ناراض ہوتا ہے
آمین
کلامِ اقبال اور قرآنِ کریم
علامہ محمد اقبالؒ برصغیر کے وہ مفکر، شاعر اور فلسفی ہیں جنہوں نے امتِ مسلمہ کے فکری و روحانی احیاء کا خواب دیکھا۔ ان کی شاعری محض الفاظ کا جادو نہیں، بلکہ قرآنِ حکیم کی روح سے سرشار ایک فکری پیغام ہے۔ ۔”
اقبال کا ہر شعر قرآنِ کریم کی روشنی میں فکر و عمل کی دعوت دیتا ہے۔ اُن کی شاعری دراصل قرآن کے ابدی پیغام کی عملی تعبیر ہے، جو انسان کو اپنے مقام، مقصد اور خالق کی پہچان کراتی ہے۔
اللہ کریم کی کبریائی اور تخلیقِ کائنات
اقبال کی شاعری میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، کبریائی اور تخلیقِ کائنات کے حیرت انگیز مظاہر کا ذکر جابجا ملتا ہے۔ اقبال کے نزدیک پوری کائنات خدا کی قدرت کا مظہر ہے، اور انسان اس کے حسن و نظام سے ایمان کی تازگی حاصل کرتا ہے۔
اقبال فرماتے ہیں:
> یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دما دم صدائے "کن فیکون"
یہ شعر سورۂ یٰسین (آیت 82) کی اس آیت کی ترجمانی کرتا ہے:
> “اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْـًٔا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ”
یعنی “جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف یہ کہتا ہے کہ ‘ہو جا’، پس وہ ہو جاتی ہے۔”
اقبال کے نزدیک یہ “کن فیکون” محض ایک لفظ نہیں، بلکہ خدا کی تخلیقی قوت کا تسلسل ہے جو ہر لمحہ کائنات میں جاری و ساری ہے۔
انسان کی فضیلت اور خودی کا تصور
اقبال کے فلسفے کی بنیاد قرآن کے اس اصول پر ہے کہ انسان کو اللہ نے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا۔
سورۂ بقرہ (آیت 30) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
> “اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً”
“میں زمین میں اپنا نائب (خلیفہ) بنانے والا ہوں۔”
اقبال اس قرآنی پیغام کو انسانی خودی کے تصور کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ وہ انسان کو اپنی باطنی قوت پہچاننے، اپنی روحانی عظمت اجاگر کرنے اور اپنی تقدیر خود رقم کرنے کی دعوت دیتے ہیں:
> خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
یہ شعر دراصل انسان کی اس بلندی کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے وہ اپنے ایمان، یقین اور کردار سے حاصل کر سکتا ہے۔
ایمان و یقین کا پیغام
اقبال کے نزدیک ایمان ایک زندہ قوت ہے، جو انسان کو حرکت، عمل اور کامیابی عطا کرتی ہے۔
قرآنِ کریم میں بھی ایمان کو محض اعتقاد نہیں بلکہ ایک فعال طرزِ حیات قرار دیا گیا ہے۔
سورۂ الحجرات (آیت 15) میں فرمایا گیا:
> “اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا”
“سچے مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر کسی شک میں نہ پڑے۔”
اسی مفہوم کو اقبال نے اپنے الفاظ میں یوں بیان کیا:
> یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
یہ ایمان ہی ہے جو انسان کو حوصلہ، یقین اور تسخیرِ کائنات کی جرات دیتا ہے۔
نماز اور دعا کی اہمیت
قرآن میں نماز اور دعا کو بندگی کی روح قرار دیا گیا ہے۔
سورۂ بقرہ (آیت 186) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> “اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ”
“میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔”
اقبال کے نزدیک دعا محض الفاظ نہیں بلکہ روح کی پرواز ہے۔ وہ انسان کو عمل کے ساتھ ساتھ دعا کی قوت پر بھی یقین رکھنے کی تلقین کرتے ہیں:
> گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں
وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے
یہ شعر اقبال کی اس فکر کی عکاسی کرتا ہے کہ دعا اور عمل مل کر انسان کو کامیابی کے بلند مقام تک پہنچاتے ہیں۔
فکر و عمل کی ترغیب
اقبال کی شاعری میں قرآنی فکر کے مطابق “تفکر” اور “عمل” دونوں بنیادی ستون ہیں۔
سورۂ آلِ عمران (آیت 191) میں ارشاد ہے:
> “یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ”
“جو آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں۔”
اسی حقیقت کو اقبال نے اپنے مشہور شعر میں یوں پیش کیا:
> تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اُڑانے کے لیے
یہی وہ پیغام ہے جو قرآن انسان کو دیتا ہے — کہ مشکلات دراصل ایمان کو مضبوط بنانے کے امتحان ہیں۔
آخرت اور جزا و سزا کا تصور
قرآنِ مجید میں آخرت کو ایمان کی اساس قرار دیا گیا ہے، اور اقبال نے بھی اس تصور کو اپنی شاعری میں نہایت گہرائی سے بیان کیا۔ ان کے نزدیک دنیا ایک عارضی مقام ہے جبکہ حقیقی زندگی آخرت کی ہے۔
> یہ جہاں چیز ہے کیا؟ لوح و قلم تیرے ہیں
یہ شعر دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کو اس دنیا کی فانی لذتوں میں نہیں الجھنا چاہیے بلکہ اپنے اعمال کی جواب دہی اور ابدی زندگی کی تیاری کرنی چاہیے۔
👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻
#درودوسلام_کی_فضیلت
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
درود پڑھیں دلوں کو منور کریں،
اللهم صل على محمد و ازواجه و ذريته كما صليت على آل إبراهيم، و بارك على محمد و ازواجه و ذريته كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد
البخاری 3369
#سرمایہ_زیست
@