🚨محمد عمیر کا پیغام🚨
براہِ کرم میرے 17 ماہ کے معصوم بیٹے محمد صالح بن عمیر کے انصاف کے لیے اپنی آواز بلند کریں
18 جولائی کو صبح تقریباً 5:00 بجے ہم اپنے 17 ماہ کے بیٹے کو سول ہسپتال مری لے گئے کیونکہ اسے الٹی اور اسہال کی شکایت تھی۔
ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے نہ اس کا بخار چیک کیا اور نہ ہی اس کی دیگر اہم علامات (Vital Signs) کا معائنہ کیا۔ اس کے بجائے اس نے پرچی پر پانچ انجیکشن لکھ دیے۔
یہ پانچوں انجیکشن پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں لگا دیے گئے۔ حتیٰ کہ رنگر لیکٹیٹ (Ringer Lactate)، جو عام طور پر ڈرِپ کے ذریعے دیا جاتا ہے، اسے بھی ڈرِپ لگانے کے بجائے براہِ راست انجیکٹ کر دیا گیا۔ میں نے مرد نرس سے پوچھا:
“کیا رنگر لیکٹیٹ ڈرِپ کے ذریعے نہیں دینا چاہیے؟”
اس نے جواب دیا:
“ اب ہو گیا ہے۔”
اور باقی انجیکشن لگاتا رہا۔
اس کے فوراً بعد ڈاکٹر نے ہمیں بچے کو گھر لے جانے کے لیے کہہ دیا۔
اس کے بعد ہم اسے قریبی سی ایم ایچ مری (CMH Murree) لے گئے۔
وہاں عملے نے پہلے دیے گئے علاج کا جائزہ لینے کے بعد شدید تشویش کا اظہار کیا اور ہمیں دوبارہ سول ہسپتال جانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ فوری طور پر بچے کو داخل نہیں کر سکتے، اور اگر تقریباً 10 گھنٹے بعد اس کی حالت سنبھل جائے تو دوبارہ لے آئیں۔
صبح تقریباً 10:00 بجے ہم دوبارہ اپنے بیٹے کو سول ہسپتال مری کے ماہرِ اطفال کے پاس لے گئے اور ان سے التجا کی کہ ہمارے بچے کو داخل کر لیں کیونکہ اس کی حالت مسلسل بگڑ رہی تھی۔ ہم نے انہیں یہ بھی بتایا کہ پانچوں انجیکشن صرف پانچ منٹ کے اندر لگا دیے گئے تھے۔
ان کا جواب تھا:
“بی بی، یہ گورنمنٹ ہسپتال ہے۔ یہاں یہی ہوتا ہے۔ آپ کیا کہتی ہیں ہم اسے ایڈمٹ کر لیں؟ ایسا نہیں ہوتا۔”
بچے کو داخل کرنے کے بجائے انہوں نے ایک اور انجیکشن (Onset) لکھ دیا۔ نرس نے اس انجیکشن کا تقریباً آدھا حصہ لگایا۔ اس وقت تک ہمارے بیٹے کا جسم کانپ رہا تھا، اس کے ہاتھ اور پاؤں نیلے پڑ چکے تھے، لیکن کسی نے بھی اس کی حالت پر توجہ نہ دی، اور ہمیں دوبارہ گھر بھیج دیا گیا۔
گھر جاتے ہوئے اس کا بخار 105°F تک پہنچ گیا۔ ہم فوراً اسے ایک دوسرے ہسپتال لے گئے، جہاں اسے فوری طور پر داخل کر لیا گیا۔ ڈاکٹرز کی ہر ممکن کوشش کے باوجود ہمارا 17 ماہ کا معصوم بیٹا اسی دن شام تقریباً 5:00 بجے انتقال کر گیا۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سول ہسپتال مری میں ہمارے بیٹے کو دیے گئے علاج کی منصفانہ، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔ ہم جواب چاہتے ہیں، ذمہ داروں کا احتساب چاہتے ہیں، اور انصاف چاہتے ہیں تاکہ آئندہ کسی اور خاندان کو اس ناقابلِ تصور سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ایک معصوم کی جان سول ہسپتال مری میں ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث چلی گئی۔ ایک معصوم جان کا اس طرح ضائع ہو جانا ناقابلِ برداشت سانحہ ہے، اور اس معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کا قانون کے مطابق احتساب انتہائی ضروری ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل کسی اور معصوم کی جان بھی اسی غفلت کی نذر ہو سکتی ہے۔
میں اپنے تمام میڈیا فیلوز، صحافی دوستوں، سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور انصاف پسند لوگوں سے مؤدبانہ گزارش کرتی ہوں کہ براہِ کرم اس معاملے پر آواز اٹھائیں، اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، اور ہماری آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں۔
براہِ کرم ہماری آواز بنیں۔ ایک معصوم جان واپس نہیں آ سکتی، لیکن انصاف ضرور ہونا چاہیے۔
#JusticeForMuhammadSualehBinUmair #JusticeForSualeh #MedicalNegligence #CivilHospitalMurree #VoiceForJustice #THQHospitalMurree
Maryam Nawaz Sharif Raja Osama Sarwar Punjab Healthcare Commission - PHC PML-N Punjab
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK
آٹھ ہزار ارب ہر سال قرضہ کے سود کی وجہ یہ ہے
یہ پنجاب میں تعلیم کی قائمہ کمیٹی کی کاروائی ہے اسے غور سے سنیں چیک کریں جب حکمران افسر شاہی کے پیچھے چلتے تو وہ کمشن اور کرپشن کے لئے سرکاری خزانہ کیسے لٹاتے ہیں
ایک پروگرام شروع ہوا کہ سرکاری سکول کا کمرہ بارہ لاکھ میں پرنسپل خود بنوا دے بہت کامیاب تھا مگر سیکٹری نے روک دیا اب وہی کمرہ چالیس لاکھ تک بن رہا ہے کام روکنے سے سیالکوٹ میں بچیاں سکول میں مر گئیں مگر سیکٹری نے پورا پلان بدل دیا بارہ لاکھ میں بننے والا کمرہ چالیس لاکھ تک پہنچا دیا اس طرح کمشن ٹھیکداری میں آٹھ سو ارب کا تعلیم کا بجٹ جا رہا جبکہ جاہل وزیر تعلیم ٹک ٹاک اور تماشوں میں مصروف رہتا ہے
مریم نواز کو افسر شاہی اس طرح بدنام کروا رہی ہے
راولپنڈی میں باپردہ خاتون کی دن دیہاڑے ڈکیتی کی فوٹیج اس ملک میں شدید سماجی اور معاشی بدحالی کو نمایاں کرتی ہے۔۔
یہ خاتون نہیں بلکہ ملک کا قانون لُٹ رہا ہے یہ جوباپردہ مظلوم عورت کو لات ماری گئی ہے یہ قانون کی عزت پر ماری گئی ہے اب جب قانون بے بس ہے تو عوام قانون پر فاتحہ پڑھ لے
بیل پتھر کا ہو گیا، مچھلی سانپ بن گئی، سانڈ نے دودھ دیا
بلی نے انڈے دیے، بھینس زندہ ہو گئی
فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور نئی مینو فکچرنگ کرنے والے اس بزرگ کو یار لوگوں نے امام بری سرکار کے نام سے مارکیٹ میں متعارف کرایا ہے
بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے کے اس بزرگ کی طرف
1/8
انتہا جب ہو جاتی ہے تو چیخ پکار شروع ہو جاتی ہے
آج انڈیا چیخنا شروع ہوا ہے کل پاکستان چیخے گا کیونکہ یہ وبا پھیل چکی ہے اتنی زیادہ کے اب دو بہن بھائ سیف نہیں تو عام انسان کیسے سنیے
جین ذی اس معاشرے کے ناسور بنتے جارہے ہیں انکو اپنا رویہ بدلنا ہوگا ورنہ یہ دنیا کا آخری سیشن ہے اسکے بعد دنیا فنا ہے 🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻
🚨عوام کی ڈیمانڈ پر ایچ ڈی کوالٹی میں مکمل ستلج فلم ۔🚨
ایچ ڈی کوالٹی میں مکمل دوبارہ دیکھیے ۔
وہ فلم جس کو مودی نے انڈیا میں بین کیا ۔جس کو نیٹ فلیکس سے اتار دیا ۔
کیونکہ رجیم چینج والے سارے لوگ چاہتے ہیں عوام کے ساتھ جو ناجائز سلوک ریاست اور حکومت کرتی ہے وہ کوئی نہ دیکھے ۔
دیکھا جائے تو اس وقت برصغیر کے تمام ممالک میں یہی حالات ہیں جو ستلج میں دیکھائے گے ہیں ۔
کیا ہمارے پنجاب یا باقی صوبوں میںُ بھی ایسے حالات ہیں جو انڈیا کی پنجاب میں دیکھائے گے ہیں ؟
اس کا حل کیا ہے ۔۔۔
یہ 12 منٹ کی ڈاکومینٹری ضرور دیکھیں آپ کے رونگھٹے کھڑے ہوجائیں گے،آپ پوری دیکھے بغیر رہ نہیں سکییں گے
کیسے ایک ایجوکیشنل ٹریپ تیار کرکے ہماری نئی نسل ایک جال میں پھنسائی جاتی ہے
اس وقت ایجوکیشن سسٹم بدلنا ناگزیر ہوچکا ہے تاکہ یہاں بھی نوجوان ENTREPRENEUR پیدا ہوسکیں
اندازہ کریں امپورٹڈ چپس ، نیوٹریلا اور بچوں کے کھانے کا سامان جعلی بنا کر امپوتٹڈ کہہ کر بیچتے ہیں
یہ بچوں کی جان سے کھیلنا ہے آپ بھی بچوں کو ان چیزوں سے دور کیجئے گھر میں بنا سادہ ناشتہ اور فروٹ وغیرہ پر لگائیں
یہ زہر بچوں کو مار رہا ہے
گڈ ورک 👏👏👏
امریکی انجینئر اور پاکستانی میکینک کا موازنہ 🔥
گاڑی کے اِس پارٹ کو اگر امریکہ میں Repair کرو گے تو 4K$ ہزار ہزار ڈالرز اور 6 ہفتے انتظار کرنا ہوگا, جبکہ پاکستان میں چند گھنٹوں میں تیار ہوجاتا ہے, وہ بھی چند سو ڈالرز میں!!
پاکستانی انتہائی ماہر ہے لیکن یہاں نظام ناکارہ ہے
جب PTI workers کے گھر پولیس داخل ہوتی رہی!
تو سارے ججز خاموش تماشائی بنی رہی, اب پنجاب پولیس ایک حاضر سروس مجسٹریٹ کے گھر رات کو داخل ہوکر کہہ رہا ہے, DIG سے بات کرو,
یاسر شامی نے PTI پر ظلم کو مثال بنا کر نظام کو ناکام ثابت کردیا!!
باری باری سب کی باری!!
لیں جی مریم نواز نے کمال کر دیا والے ڈوب کے مرجائیں سارے ۔ لعنت ہو آپ کی شکلوں پر۔ ابھی تو باس کا نام آئے گا جو تین طاقتوروں سے کنیکٹڈ ہے یہ یاد رکھیے گا
اپنا حفاظتی بند باندھ کے رکھیں
آنکھوں مین مارنے والی سپرے
کرنٹ لگانے والا آلہ
پسٹل
چاقو
جو ممکن ہو اس ملک مین اپنی حفاظت خود ہی کرنی پڑے گی۔۔۔۔
کیونکہ محافظ کو معدنیات جمع کرنے سے فرصت نہی ھے
بہت سے لوگ گاڑی میں فیول بھروانے کے بعد اپنا کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ سٹاف کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں اور وہ لے کر مشینوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔ایسی غلطی کبھی نہ کریں۔سب سے پہلے تو اپنی چھوٹی موٹی ضرورتوں کے لیے ایک الگ سے کارڈ رکھیں جس میں صرف اتنے پیسے رکھیں جو آپ کا ہفتے کا یا مہینے کا خرچہ ہے۔اپنا مین بینک اکاؤنٹ کارڈ کبھی بھی دکانوں اور پوائنٹ آف سیل پہ استعمال نہ کریں۔آپ نے دیکھا ہو گا جب بھی ہم انگریزوں کی ویڈیوز دیکھتے ہیں تو وہ لوگ اپنے ہاتھ میں کارڈ رکھ کر خود مشین پہ ٹیپ یا سکین کرواتے ہیں۔وہ اپنا کارڈ کبھی ورکرز کے ہاتھ میں نہیں دیتے۔اس کی وجہ سکمنگ ہے۔اگر کوئی ورکر آپ کے کارڈ کی فرنٹ اور بیک کی تصویر لے لے اور اسے فوری استعمال نہ کرے بلکہ وہ اسے اپنے پاس محفوظ رکھے اور دو تین مہینے بعد آنلائن شاپنگ کے لیے استعمال کرے تو آپ کے ذہن میں بھی نہیں ہو گا کہ یہ کارڈ کس وقت کس پمپ یا دکان پہ دیا تھا۔زیادہ تر آنلائن فراڈ پیمنٹس کے واقعات اسی طرح ہوتے ہیں۔اور آپ بینک سے لڑتے ہیں کہ میرے ساتھ فراڈ ہوا ہے۔اس لیے اپنا کارڈ کبھی بھی کسی کے ہاتھ میں نہ دیں کہ وہ لے کر دوسری طرف چلا جائے۔اسے بولیں مشین ادھر لے کر آؤ۔کیونکہ یہاں زیادہ یہی رواج ہے کہ آپ کا کارڈ لے کر دوسری طرف چلے جاتے ہیں۔صرف ایک فوٹو چاہیئے انہیں۔جو وہ کسی بھی وقت استعمال کر سکتے ہیں۔
میں نے آنلائن خریداری کے لیے ورچوئل کارڈ بنایا ہوا ہے۔اور روزمرہ استعمال کے لیے الگ کم پیسوں والا کارڈ رکھا ہوا ہے۔بڑے کارڈ گھر ہی رکھتا ہوں۔آپ بھی احتیاط کریں۔
اے اللہ پاک!
ہمارے انتظار کو مختصر کر دے ہمارے وہ گناہ معاف کر جن کی وجہ دعائیں قبول نہیں ہو رہی اور ہماری وہ دعائیں، جو تیری قبولیت کی منتظر ہیں ان پر اپنا "کُن" فرما دے۔
بیشک تو بڑا رحیم ہے کن فیکون کا مالک ہے۔
#صباح_آلخيــــر
اطہر کاظمی صاحب بہت گھاتک ۔
اداکارہ مومنہ اقبال کے ایکس فرینڈ مسلم لیگ ن کے ایم پی اے ثاقب چڈھر کو اس بات پر جس میں وہ شکوہ کرتے ہیں میرے حلقہ میں چار سو بچے ہیں کرسیاں صرف دو سو ہیں
اس پر اطہر کاظمی نے آج تبصرہ کیا ہے وہ محض ایک الزام نہیں بلکہ پاکستانی سیاست کی اس بیماری کا نام ہے جسے ہم حلقہ پرستی کہہ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ثاقب چڈھر اپنے حلقے کے حوالے سے خود بتاتے ہیں کہ 400 طلباء کی تعداد ہے مگر صرف 200 کرسیاں موجود ہیں ۔
اور اس کمی کو پورا کرنے کی بجائے شاقب چڈھر خود اپنا حصہ ڈالتے بجاے کہ شکوہ کرتے ۔ اور کہا کو اپ تو Fortuner گفٹ کر دیتے ہیں کسی کو لاکھوں کے گفٹ دے دیتے ہیں کسی کو آسٹریلیا پڑھنے بھیج دیتے ہیں ۔
مگر جن 400 بچوں کے لیے 200 کرسیاں بھی پوری نہیں ان کے لیے کچھ نہیں کر رہے ۔
کاظمی نے بھی بھرپور ائینہ دیکھا ہے انکا اشارہ ثاقب چڈھر اور انکے وکیل میاں علی اشفاق کی طرف سے مومنہ اقبال پر لگاے انزامات کی طرف تھا جس میں وہ دعوی کرتے ہیں بمع رسید کہ انہوں نے اہنی ایکس پر کتنا پیسہ لوٹایا ۔
لگتا ہے چڈھر صاحب نے پورا عوامی فنڈ ہی دل پشوری میں جھونک دیا ہے جو اب اپنے حلقہ کی دو سو کرسیاں تک خریدنے کیلے ریکوسٹ کی جارہی ہے ۔