I wish I could do more to support Imran Khan and his family. I won’t stop trying, but this Iran war is making everything harder 😔
I really hope Asim Munir strikes a deal with Imran Khan and PTI and stops this persecution
I have no horse in this race, it’s just heartbreaking to see such good people be treated so badly
I fkn hate politics
اس روز نہ ابھی فوج کے مجسمے ٹوٹے تھے نا کسی نے جی ایچ کیو کی کنڈیاں کھڑکائیں تھیں ، نہ ہی فوجی جرنیل کا گھر جلایا تھا اسکے باوجود فوج کا ذیلی ادارہ رینجرز عمران خان کے گھر پر شیلنگ کررہا تھا ، آرمی چیف کا سالا نگران وزیراعلی تھا تحریک انصاف کے لوگوں کو اغواء بھی کیا جارہا تھا اور شہید بھی۔
بڑے ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پچھلے دس بارہ دن سے جو ہلڑ تماشا آن لائن لگا ہوا ہے، اس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ہم واقعی اس قوم کے خیر خواہ ہیں؟
کیا ہم واقعی عمران خان کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں؟
کیا ہمیں اندازہ بھی ہے کہ آنے والا وقت کتنا مشکل ہو سکتا ہے؟
پچھلے دس بارہ دن سے "ہر کوئی" اپنی اپنی صفائی دینے میں لگا ہے۔ کوئی اپنی نیک نیتی ثابت کر رہا ہے، کوئی اپنے دفاع میں مصروف ہے، کوئی دوسرے پر الزامات لگا رہا ہے اور کوئی یہ ثابت کرنے میں اپنی پوری توانائی صرف کر رہا ہے کہ غلط صرف دوسرا ہی ہے۔
یقینا غلط کو غلط کہنا چاہیے، صحیح کو صحیح کہنا چاہیے، احتساب بھی ہونا چاہیے اور اختلاف بھی۔ لیکن خدا کے لیے، کبھی یہ بھی سوچ لیا کریں کہ آپکی اس لڑائی کا نقصان کس کو ہو رہا ہے اور فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟
آپ سب یہ ثابت کرنے میں لگے رہے کہ دوسرا کتنا غلط ہے، اور ادھر وہ شخص تین سال سے جیل میں بیٹھا ہے جسکے نام پر یہ ساری سیاست، یہ ساری پہچان اور یہ ساری جدوجہ کھڑی ہے!
ذرا ایک لمحے کے لیے اس انسان کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھیے۔ تین سال سے قید، اپنے لوگوں سے دور، اپنے خاندان سے دور، اور اب تو خاندان کے افراد بھی پابند سلاسل ہیں۔ عمران خان کی تینوں بہنوں کی نظربندی میں 20 نومبر تک توسیع کر دی گئی ہے۔ ملاقاتوں پر بھی پابندیاں ہیں۔ ایک طرف یہ سب ہو رہا ہے، اور دوسری طرف ہم گزشتہ بارہ دن سے ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں مصروف عمل ہیں۔
کیا یہی وہ وقت تھا اپنی ساری توانائیاں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کا؟
کیا کسی کو احساس ہے کہ اس شور میں اصل مسئلہ کتنا پیچھے چلا گیا ہے؟
خان کے ساتھ کھڑا کون ہے؟
اسکے خاندان کے لیے کون آواز اٹھا رہا ہے؟
اسکے بنیادی حقوق کے لیے کون مسلسل اور مؤثر انداز میں بات کر رہا ہے؟
اور سب سے بڑھ کر، اس قوم کو آنے والے مشکل وقت کے لیے تیار کون کر رہا ہے؟
آپکا دشمن آپکی ہر بات دیکھتا ہے، ہر اختلاف کو دیکھتا ہے، ہر اندرونی لڑائی کو دیکھتا ہے۔ وہ آپ کے کہے ہوئے الفاظ کو اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔ سیاسی و شعوری حکمت عملی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے مخالف کی طاقت، اپنی کمزوریوں، وقت اور حالات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں۔ ہر اختلاف کا جواب اسی وقت، اسی انداز اور اسی شدت سے دینا ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی پیچھے ہٹ کر سوچنا بھی حکمت ہوتی ہے، کبھی خاموشی اختیار کرنا بھی حکمت ہوتی ہے، اور کبھی اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر کسی بڑے مقصد کے لیے اکٹھے کھڑے ہونا سب سے بڑی ضرورت بن جاتا ہے۔
صفائی ہونی چاہیے، ضرور ہونی چاہیے۔ غلطی ہوئی ہے تو اسکی نشاندہی بھی ہونی چاہیے۔ لیکن صفائی اور احتساب کے نام پر ایسا ماحول پیدا کر دینا کہ اصل مقدمہ ہی نظروں سے اوجھل ہو جائے، یہ کس قسم کی دانش مندی ہے؟
مجھے ڈر ہے کہ ہم ایک ایسے ڈیجیٹل قید خانے میں بند ہوتے جا رہے ہیں جہاں ہر شخص اپنی اپنی سچائی کے ساتھ بیٹھا ہے۔ ہر کوئی بول رہا ہے، ہر کوئی جواب دے رہا ہے، ہر کوئی اپنی جیت چاہتا ہے، مگر شاید ہی کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ اس قوم کی تربیت کیسے کرنی ہے، اسے سیاسی شعور کیسے دینا ہے، اسے آنے والے حالات کے لیے کیسے تیار کرنا ہے۔
خدا کے لیے، ایک لمحے کو اپنی انا، اپنی صفائی اور اپنی جیت سے باہر نکل کر دیکھیے!!!!
خان کے نام پر پہچان حاصل کرنا آسان ہے۔ خان کے نام پر لوگوں سے حمایت لینا آسان ہے۔ لیکن جب خان خود قید ہو، اس کی بہنیں قید ہوں، اس کے خاندان کو مشکلات کا سامنا ہو، تب اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر اس کے بنیادی حقوق کے لیے مؤثر، منظم اور مسلسل آواز اٹھانا اصل امتحان ہے۔
اور سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ شاید ہمیں اسکا احساس تب ہوگا جب وقت ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔
اللہ عمران خان اور اسکے خاندان کے لیے آسانیاں پیدا کرے، اور ہمیں اتنی سمجھ، اتنا ظرف اور اتنا شعور دے کہ ہم اپنی انا سے بڑے مقصد کو ترجیح دینا سیکھ سکیں۔
عمران خان گیارہ مہینوں سے قید تنہائی میں ہے۔ ہر طرح کی کوششوں کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہیں ہوپائی۔ اسکے بعد اپوزیشن لیڈر کی جانب سے عمران خان پر جسمانی تشدد کی تصدیق کرنا بے معنی نہیں ہے۔
فوج ایک وزیراعظم کو قتل کروا چکی ، ایک کو پھانسی چڑھا چکی ، شیخ مجیب پر تشدد کرچکی اس فوج سے کسی بھی سطح کی بے غیرتی کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔
اللہ نہ کرے کسی دن ایسا ہو لیکن تحریک انصاف کے کسی نا کسی رہنما یا رکن اسمبلی کو کسی دن کوئی جذباتی کارکن دو چار چپیڑیں کروا دے گا پھر انہیں اندازہ ہوگا کہ یہ کس آگ سے کھیل رہے ہیں۔
ماضی کی کارکردگی کو دیکھ کر اب یہی ہوسکتا ہے کہ سلمان اکرم راجہ صاحب کو چھ دن بعد پریس کانفرنس کرنا یاد آئے یا بیرسٹر گوہر کو ہفتے بعد عمران خان پر تشدد کی خبروں کا ذکر کرنا۔
🇵🇰 Imran Khan’s 3 sisters have already spent OVER A MONTH behind bars, and Pakistan just found a way to keep them there until at least November 26.
Punjab’s government has EXTENDED the detention of Aleema Khan, Uzma Khan and Noreen Niazi by ANOTHER 30 days, under a public order law normally aimed at people seen as threats to public peace.
Their family asked a court to free them, but the judge threw the case out over a paperwork issue.
Meanwhile, a terrorism court has pushed back its verdict against Aleema yet again, to November 26, the same day her detention ends.
Whether that timing is a coincidence is anyone’s guess, but there are fears Aleema could be arrested again in the terrorism case as soon as her detention ends.
3 sisters with no political roles, held under one law until another can take over. Is this how justice works in Pakistan now?
Sources: @WaqasAwan666, @writetofahim / Writer: Julie
🇵🇰 EXCLUSIVE: IMRAN KHAN'S SONS SAY THE PAKISTANI GOVERNMENT IS TRYING TO KILL THEIR FATHER!
I spoke again with Qasim and Sulaiman Khan, and this conversation was the most heartbreaking.
Not only is their father, the former Prime Minister of Pakistan, still in solitary confinement, but his three courageous sisters, Aleema, Uzma and Noreen, have now also been arrested
And when @PTIofficial supporters hit the streets, many were arrested, beaten, and even killed!
Imran Khan’s sons say they haven't spoken to their father in over 6 months, nobody has seen him for 2 months, and they're increasingly worried about his deteriorating health.
I asked them the hardest question of all: Do they still believe they’ll ever see their father again?
Qasim admitted, he has very little hope, but they will never stop fighting
I told them both I wouldn't give up hope.
And I meant it.
@Kasim_Khan_1999
Remembering our hero, our very own Shaheed Arshad Sharif, a true journalist who stood by the truth.Sorry fr the length of the video I know u prefer short videos, but when it comes to Shaheed Arshad Sharif,I just can't help it.Thank u for watching and keeping his memory alive.
جس نے ایک طالبہ سے فراڈ کیا اسے پولیس مقابلے میں مار دیا۔ جس نے پوری قوم سے ، الیکشن سے ، جمہوریت سے ، عدالتوں سے فراڈ کیا اسے بعد از ریٹائرمنٹ آرمی چیف بنا کر تاحیات استثنی دے کر فیلڈ مارشل بنا دیا۔
بڑا عجیب لگتا تھا جب عمران خان کہتا تھا کہ میں اگر اکیلا بھی رہ گیا تو لڑوں گا، ہم کہتے تھے یار خان ایسے کیوں کہتا ہے ہم ہیں ناں خان کے ساتھ لیکن وه ہماری یعنی قوم کی تو بات ہی نہیں کرتا تھا وه تو بات کرتا تھا اپنے ساتھ چلنے والے سیاسی لوگوں کی اور یہ جملہ اس نے اس میٹنگ کے بعد کہا تھا جس میں خان نے کہا تھا کوئی رہ تو نہیں گیا جو میرے خلاف نہیں? وه جان گیا تھا کہ میرے ساتھ چلنے والوں میں اتنی سکت نہیں ہوگی یا دوسرے لفظوں میں اب اس سے آگے شاید میں اکیلا رہ جاؤں وقت نے اسے سچا ثابت کیا آج قوم تو اسکے ساتھ ویسے ہی جڑی ہے لیکن سیاسی میدان میں اسکا ہر سچا ساتھی قید میں ہے اور مکروہ چہرے اسکے ساتھ نہیں ہیں وه اکیلا ہے اور لڑ رہا ہے گویا اسکا وه 4 سال پہلے کا جملہ آج کے حالات پر تھا کہ میں اگر اکیلا بھی رہ گیا تو میں لڑوں گا.
"دو مقدس انگلیاں جو آج مجروح ہوئیں" (انسانیت سے حیوانیت کا سفر بس تیس سیکنڈ میں )
آج میں نے ملتان میں انسانیت کو تحت الثری میں گرتے دیکھا - اشرف المخلوقات کو حیوان کے روپ میں دیکھا - امیری کو بہت ہی مفلس اور کنگال دیکھا - اور بس ایک بچے کو یتیم نہی بلکہ ایک پورے نظام کو یتیم دیکھا جس کو یہ بھی نہیں یقین کہ اس یتیم کے قتل کے بعد اس کے قاتلوں کو سزا ہو گی بھی کہ نہیں -
یہ اس امت کے کچھ امتیوں کے کرتوت ہیں جس کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے دو انگلیاں اٹھا کر یہ فرمایا تھا کہ "یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں میرے ساتھ یوں قریب ہوگا جیسے یہ میری دو انگلیاں ساتھ ساتھ ہیں " -
قصور ؟ بس یہ تھا کہ الیکٹریشن بچے نے کام سے انکار کردیا کہ باقی کام کل کرونگا -
پہلا سوال تو یہ اٹھتا ہے کہ پندرہ سال کی عمر میں جس ہاتھ میں قلم اور بستہ ہونا چاہیے تھا اس میں پیچ کس اور پلاس کیونکر آیا ؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر حالات اور نظام کے سبب ایسا ہو بھی گیا تو اس ہاتھ کو کسی نے کندھا دینے کی بجاے یوں گاڑی تلے کیوں روند دیا ؟
اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں قانون اتنا کمزور کیسے ہوا کہ کسی کو اتنی ہلا شیری ہو کہ میں اگر سر بازار کسی کو گاڑی تلے روند بھی دونگا تو مجھے نظام میں فرار اور گنجائش مل سکتی ہے ؟
میں بتاتا ہوں کہ ہمارا یہ معاشرہ اتنا جنگلی کیسے ہوا - اتنا دیدہ دلیر کیوں کر ہوا -
جب یہ معاشرہ کسی شاہ رخ جتوئی کو کسی شاہزیب خان کا سرعام قتل کرنے کے بعد پروٹوکول سے دوبئی جاتے دیکھتا ہے -
کسی ایس پی راوو انوار کو کسی نقیب الله کا قتل کرنے کے بعد رہا ہوتا دیکھتا ہے -
کسی بلوچ ایم پی اے عبدل المجید خان اچکزئی کو اپنی کار سے ایک پولیس کانسٹیبل حاجی عطااللہ دشتی کو چوک میں کچلنے کے بعد رہا ہوتا دیکھتا ہے -
کراچی کی کسی نتاشا دانش کو اپنی گاڑی سے کسی عمران عارف اور اس کی بیٹی آمنہ کو کچلنے کے بعد انگلیاں گھما گھما کر یہ کہتے سنتا ہے کہ میرے باپ کی بہت پہنچ ہے اور پھر دو سال بعد اس پہنچ کی وجہ سے اس کو آزاد ہوتے دیکھتا ہے تو اس کے سب کونشس (subconscious) ' اس کے لاشعور میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ میں بھی ایسا کرکے کوئی جگاڑ لگاونگا- یہ ہے اصل سانحہ- اس بچے کی ہلاکت ایک حادثہ ہے (نہیں ہے تو کچھ ماہ میں ثابت ہوجائیگا ) اصل سانحہ یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کو یہ سو فیصد یقین نہی کہ اتنا کھلا قتل کرکے بھی کیا ان قاتلوں کو سزا ہوگی کہ نہیں ؟
اس ملک میں ہر جگہ "سیٹنگ " ہوجاتی ہے - اس سیٹینگ کے پانچ مرحلے ہونگے -
پہلا مرحلہ یہ ہوگا کہ اس خبر کو وقت کے ساتھ دبنے دیا جائیگا -
دوسرے مرحلے میں ثابت کیا جائیگا کہ بچہ گھر سے موبائل چوری کرکے بھاگا تھا جس کے تعاقب میں مالکان گاڑی پر پیچھے آیے -
تیسرے مرحلے میں مالکان کی نیت صاف بتائی جائیگی کہ وہ بس تعاقب کر رہے تھے ' مارنے کا ارادہ نہیں تھا ' اور ان کا کوئی کریمنل ریکارڈ بھی نہی-
چوتھے مرحلے میں گاڑی کی بریکس فیل قرار پائینگی کہ مالکان کو بھی نہیں معلوم ہوا کہ بریک خراب تھے اور یہ ایک حادثہ تھا- ان بریکس کی خرابی کا سرٹیفکیٹ کسی اچھی ورکشا پ سے بن جائیگا -
اور آخری مرحلے میں اس یتیم خانے کو کوئی ڈونیشن یا اس بچے کہ کسی والی وارث کو کوئی رقم دے کر معامله ختم ہوجائیگا -
یہ پانچ مراحل جو میں نے بیان کیے ؛ یہ ہے اصل سانحہ - یہ وہ پانچ سیڑھیاں ہیں جن پر چل کر ہم انسانیت کی معراج سے حیوانیت کی پستی کا سفر طے کرتے ہیں - اوج ثریہ سے تحت الثری میں غوطہ لگاتے ہیں - اور اس عمل میں ہمارا پورا معاشرہ پورا نظام ذمے دار ہے -
آج میری ساری دوپہر بہت نڈھال گزری - میں رویا - میں آنسوؤں سے رویا - کہ میرے سامنے بار بار وہ بچہ بھاگتا آجاتا تھا جو اس امید پر پوری جان مار کر بھاگ رہا تھا کہ شاید گلی کے کسی نکر پر ان حیوانوں کی انسانیت جاگ جائے- مجھے یقین ہے وہ بچہ جنت میں اپنے نبی صلی اللہ علیھ وسلم کے ساتھ ہوگا - اور ان کی دو انگلیاں پکڑ کر بتائیگا کہ میری کفالت کی ترغیب کیلئے آپ نے کبھی جو یہ مقدس انگلیاں اٹھائی تھیں ' آپ کے دو امتیوں نے ان انگلیوں کو مجروح کیا ہے - اب مجھے یہ انگلیاں تھامنی ہیں ' اب مجھ یتیم کو براہ راست آپ کے زیر کفالت آنا ہے کہ آپ کی امت اب اس قابل نہیں رہی کہ یتیموں کی دادرسی کرسکے - اس سے زیادہ میں نہیں لکھ سکتا - قلم ساتھ چھوڑ گیا - روشنائی ختم ہوگئی اور آنکھیں پھر بھر گئی -
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثا دیکھ کر
قلم کی جسارت وقاص نواز
---------------------------------------------------
پی ٹی آئی کو تو 26 نومبر کے بعد ہی تحلیل کر دینا چاہیے تھا، اگر اسکی تنظیمی قیادت کا کام صرف عہدوں پر بیٹھنا، بیانات دینا اور دوسروں پر تنقید کرنا رہ گیا ہے۔
بطور جنرل سیکریٹری آپکی کارکردگی کا سوال بالکل سیدھا ہے: 26 نومبر کے بعد آپ نے تنظیمی طور پر کیا حاصل کیا؟
کتنے سینیٹرز، ایم این ایز اور ایم پی ایز سے انکی صفر پیش رفت پر جواب طلب کیا؟
کتنے لوگوں سے پوچھا کہ وہ اپنے حلقوں میں عوام کو متحرک کرنے میں کیوں ناکام رہے؟
اڈیالہ کے باہر حاضری اور سیاسی جدوجہد کو منظم کرنے کے لیے کیا کیا؟
خان کی بہنوں کے خلاف غلیظ ترین زبان استعمال کی گئی، پارٹی کے منتخب نمائندے خاموش رہے، اور ستائیسویں آئینی ترمیم پر بند کمروں میں ننگی حمایت کے سوالات ہیں، مگر احتساب کہاں ہے؟
اور یہ سوال صرف جنرل سیکریٹری تک محدود نہیں!!!
عبوری چیئرمین نے بھی بین الاقوامی فورمز پر پارٹی کا مؤقف مؤثر انداز میں اٹھانے اور بین الاقوامی رابطوں کو منظم کرنے کے لیے آخر کیا کیا؟
کیا کسی اہم بین الاقوامی فورم پر مسلسل اور سنجیدہ engagement نظر آئی؟
کیا پارٹی کے مؤقف، خان کی قید تنہائی اور جمہوری و آئینی معاملات پر کوئی واضح، مربوط اور قابل پیمائش سفارتی حکمت عملی سامنے آئی؟
محض عہدہ سنبھال لینا اور عملی طور پر اس ذمہ داری کو نبھانا دو بالکل مختلف باتیں ہیں۔
26 نومبر ایک ایسا موڑ تھا جسکے بعد پارٹی کو اپنی تنظیم نو، قیادت کی جواب دہی، عوامی متحرک کاری اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی رابطوں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے تھا۔ اگر اسکے بعد بھی تنظیمی کارکردگی کا کوئی واضح معیار نہیں، منتخب نمائندوں سے کوئی جواب طلبی نہیں، اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر engagement کا کوئی نمایاں ریکارڈ نہیں، تو پھر بھی آپ لوگ سیٹوں سے کیوں چپکے ہوئے ہیں؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی میں عہدے تو موجود ہیں، مگر ان عہدوں کے ساتھ وابستہ ذمہ داریوں کے نتائج کہاں ہیں؟
دوسروں کے کام پر تنقید کرنے سے پہلے قوم کو اور ووٹرز کو اپنے کام کا حساب دیجئے۔ کارکن سڑکوں پر نکلیں، قربانیاں دیں، دباؤ برداشت کریں، اور عہدوں پر بیٹھے لوگ اپنی بنیادی ذمہ داریوں پر بھی سوالات کا جواب نہ دیں، یہ سلسلہ بلکہ تماشا آخر کب تک چلے گا؟
لاہور میں کوچنگ سینٹر کی چھت گری، درجنوں بچوں کے چراغ گل ہوگئے۔
پمز اسلام آباد میں آگ لگی، کئی نومولود دنیا دیکھنے سے پہلے ہی مرجھا گئے۔
آج پشاور میں اسکول کی چھت گری، 30 بچے اور ایک استانی جان ہار گئے۔
اور یہ تو صرف وہ خبریں ہیں جو ہماری نظروں سے گزریں۔
روز صبح دوپہر شام بچوں کے ریپ اور قتل کی خبریں، کہیں نو ماہ کی بچی تک درندگی کا نشانہ بن رہی ہے!!!!!!
آخر اس ملک میں بچوں کا قصور کیا ہے؟
وہ اسکول جاتے ہیں تو چھتیں ان پر گر جاتی ہیں، اسپتال پہنچتے ہیں تو آگ انکی جان لے لیتی ہے، گھروں سے نکلتے ہیں تو درندے انکے منتظر کھڑے ہوتے ہیں۔
وہ کس سے تحفظ مانگیں؟
کس ادارے کے دروازے پر جائیں؟
کس حکمران سے پوچھیں کہ ہمارے بچوں کی جان کی قیمت آخر کتنی ہے؟
اور یہاں اقتدار کی جنگ ختم نہیں ہو رہی، عہدوں اور کرسیوں کی لڑائی ختم نہیں ہو رہی، بیانات اور وعدے ختم نہیں ہو رہے۔
بس بچوں کی زندگیاں ختم ہوتی جا رہی ہیں، ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں، باپ اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتے رہے، اور ہم اگلی خبر کا انتظار کرنے لگے ہوئے ہیں۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اب بچوں کی موت بھی عوام کو چونکاتی نہیں۔
ایک خبر آتی ہے، چند گھنٹے شور مچتا ہے، پھر سب اپنے اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں۔ مگر جس ماں نے اپنا بچہ کھویا، اسکے لیے یہ خبر نہیں، پوری زندگی کا ماتم ہے۔
خدارا، یہ بچے کسی سیاسی جماعت کے نہیں، ہمارے ہیں!
انکی حفاظت کسی پر احسان نہیں، ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ آخر کب تک ہم ایک سانحے کے بعد دوسرے سانحے کا انتظار کرتے رہیں گے؟
اور کب اس ملک میں بچوں کی جان، عزت اور مستقبل کو واقعی اہمیت دی جائے گی
کب؟؟؟
آخر کب؟؟