یہ ہے حقیقی آزادی کی منزل ایک دن انشاء اللہ کوئی امریکی صدر یہ کہہ رہا ہوگا کہ
"پاکستان میں حکومت بدلنے کی کوششیں کی گئیں لیکن وہ ناکام رہیں"
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے!
“عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا، نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا۔ عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں صرف ایک شخص عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے۔”
- عمران خان، 4 نومبر 2025
“ماضی کے ڈکٹیٹرز کے ادوار میں بھی ظلم و ستم کی تاریخ رقم کی گئی مگر عاصم منیر نے ہر حد عبور کر لی ہے۔ دو سال میں پاکستان میں سویلینز کے قتل عام کے چار بڑے واقعات ہوچکے ہیں۔ جن میں پہلا 9 مئی، دوسرا 26 نومبر، تیسرا آزاد کشمیر اور چوتھا مریدکے قتلِ عام ہے۔ اپنی ہی عوام پر ایسا ظلم کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ باعث تکلیف بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات میں کوئی بیرونی دشمن نہیں، بلکہ اپنی ہی پولیس، رینجرز اور پیرا ملٹری فورس کے ہاتھوں اپنے ہی ہم وطنوں کو بےدردی سے شہید کیا گیا ہے۔”
- عمران خان، 15 اکتوبر 2025
#ذہنی_مریض
سیاسی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیئے ایوب خان نے کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا۔ ایک وزیر نے تجویز پیش کی کہ فاطمہ جناح کو سکرین آؤٹ کر دیا جائے جب ان سے مزید وضاحٹ کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے فرمایا " آئین لکھتا ہے
۔
" اسلامی جمہوریہ پاکستان کا صدر ہوگا (ہوگی نہیں)
۔
سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پشاور کے رکن اسمبلی صفی اللہ خان نے ایوب خان کو تاحیات صدر بنانے کی پیشکش کردی اور انہوں نے اس مقصد کے لئے تین لاکھ افراد کے دستخط بھی حاصل کرلئے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی ایوب کے حواری جاگیردار ایوب خان کے حق میں دستخطی مہم کی آشیر آباد حاصل کرنے کے لئے ایوان صدر کا رخ کرنے لگے۔
۔
خود صدر ایوب کانوں کو ہاتھ لگا کر اپنے خلاف آمریت کے الزام کی تردید کیا کرتے تھے۔ لیکن چوہدری خلیق الزمان پوری شدو مد کے ساتھ یہ اصول بیان کرتے تھے کہ
۔
" ایک اسلامی مملکت کے حاکم اعلیٰ کو لازما آمرانہ اختیارات حاصل ہونے چاہیئں کیونکہ اسلامی نظام سیاست کا یہی تقاضا ہے۔"
۔
7 نومبر 1963 کو ڈھاکہ میں انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں بھی یہ مؤقف دہرایا
۔
" خلفائے راشدین مجلس شوریٰ سے مشورہ ضرور کرتے تھے لیکن ان کے مشوروں کو ماننا یا مسترد کرنے کا اختیار رکھتے تھے۔ پاکستان کے صدر کو بھی یہی اختیارات ہونے چاہیئں۔ آخری فیصلے کا اختیار اسمبلیوں کو سونپنا ایسا اصول ہے جس کے لئے اسلامی طرز حکومت میں کوئی گنجائش نہیں"
۔
محمودہ سلیم جو اس وقت صوبائی وزیر تعلیم تھیں نے کہا
۔
" اس نازک موقع پر پاکستان کو عورت کی نہیں مرد کی ضرورت ہےَ"
۔
سابق وزیر تجارت وحید الزماں نے کہا
۔
" فاطمہ جناح کا سیاست میں حصہ لینا قائد کو پسند نہ تھا اگر قائد کو ان کا سیاست میں آنا پسند ہوتا تو وہ انہیں مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کا رکن نامزد کرتے
۔
اسپیکر افضل چیمہ نے کہا
۔
" محترمہ کی نامزدگی قرآن و سنت کے منافی ہے کیونکہ اسلامی اصولوں کے مطابق کوئی عورت ملک کی سربراہ نہیں بن سکتیں۔
۔
بھٹو نے ٹھٹھہ میں سندھی میں تقریر کرتے ہوئے کہا " یہ نااہل سیاستدان کہہ رہے ہیں ملک میں جمہوریت نہیں ۔اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھیں۔ تمھارے عہد میں کونسی جمہوریت تھی۔ تم نے لوگوں پر ظلم کیا شرفا کی خبر لی دراصل صدر ایوب نے ہماری عزت بلند کی ہم انہیں غیر مشروط طور پر ووٹ دیں گے اور اسی سلسلے میں پاکستان بھر میں اول نمبر سندھ کا ہوگا۔
۔
10 اکتوبر 1964 کو بھٹو نے کہا " صدر ایوب سابق سندھ سے ستر فیصد ووٹ حآصل کریں گے۔ سندھ کے عوام ایسے ناشکرے نہیں ہیں جو ان ملکی اور علاقائی ترقیوں کو بھلا دیں جو صدر ایوب نے دی ہیں۔
۔
خود ایوب خان نے اکتوبر 1964 میں تقریر کرتے ہوئے کہا " متحدہ حزب اختلاف منفی نظریات پر مبنی ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح غدار اور انتشار پسند لوگوں کے لئے پناہ گاہ بن گئی ہے۔ محترمہ پاکستان کو اپنی میراث سمجھتی ہے تو یہ ان کی غلطی ہے۔
۔
ایوب خان کے بیان باز لیڈروں کی طرف سے شیخ مجیب الرحمان کے خلاف وطن دشمنی کے جو الزامات لگائے جا رہے تھے انہوں نے اس کا جواب کراچی میں ایک بہت بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے 25 نومبر 1964 کو دیا
۔
" مشرقی پاکستان سے برسر اقتدار پارٹی کا بکس خالی آئے گا، ، ملک دشمنی کا الزام لگانے والوں کو ہم عدالت میں بلائیں گے۔ جو لوگ انگریز کے پٹھو تھے پاکستان کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔"
۔
سیاستدانوں کی قلابازیاں از وکیل انجم
دوست میری آپ سے کوئی شناسائی تو نہیں تھی @Hidepro18plus مگر ایسے لگتا ہے کوئی اپنا چلا گیا ہو 🥲🙏مگر تم جو بھی تھے بندے جیدار تھے اور ایسے لوگ اکثر اپنے نقوش چھوڑ جاتے ہیں 💔💔🙏
اللہ آپ کی قبر کی منازل کو آسان فرمائے 🙏🙏🙏
انا للہ وانا الیہ راجعون 🖤
نہایت ہی افسردہ دل کے ساتھ ٹیم چھاونی (Team Chhaoni) کے انتہائی مخلص اور فعال رکن، عاطف بھائی (ہائیڈ) کی ناگہانی وفات پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہیں۔
ٹیم چھاونی بلاشبہ ایک انتہائی منظم اور احساسِ دل رکھنے والے مخلص افراد کا کاروان ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جو سوشل میڈیا، بالخصوص 'ایکس' (ٹویٹر) پر ہم جیسے تمام سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے لیے ہمیشہ ایک مضبوط ڈھال اور پروٹیکشن شیلڈ ثابت ہوئی ہے۔ آج عاطف بھائی کی جدائی نے جہاں ٹیم چھاونی کو اداس کیا ہے، وہیں ہم سب بھی اس گہرے صدمے میں برابر کے شریک ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ رب العزت مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی حسنات کو قبول کرکے انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
اس کٹھن گھڑی میں ہم ٹیم چھاونی کے تمام اراکین اور مرحوم کے سوگوار لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام پسماندگان کو یہ ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرنے کا حوصلہ اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
ایک بہترین ساتھی اور محافظ ہمیشہ یاد رہے گا۔ الوداع عاطف بھائی! 🤲🏼🕊️
#TeamChhaoni #RestInPeace
پٹرول کی قیمت بڑھنے سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا…
اصل المیہ یہ ہے کہ اس عوام کی غیرت، مزاحمت اور احساس ذلت مر چکا ہے۔
ہر ہفتے مہنگائی کا نیا طوفان آ رہا ہے، لیکن سڑکیں خاموش ہیں۔
لوگ رو لیتے ہیں، پوسٹیں کر لیتے ہیں، پھر اسی نظام کے آگے سر جھکا دیتے ہیں۔
تم لوگ چاہتے ہی نہیں کہ آنے والی نسلوں کے لیے کوئی عزت، کوئی خودداری، کوئی باوقار مستقبل باقی رہے۔
جس قوم کو اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا نہ آئے، اسے پھر ہر ظالم روندتا ہے۔
یہ صرف پٹرول مہنگا نہیں ہو رہا…
تمہاری خاموشی نے تمہاری آنے والی نسلوں کی زندگی بالکل سستی کر دی ہے۔