جس دن اسحاق ڈار اور محسن نقوی آن ریکارڈ کہ رہےتھے کہ سہیل آفریدی کو ہٹا دو تو KP میں ایمرجنسی نہیں لگائیں گے
اسی دن گیم واضح ہو گئی تھی۔ سہیل سے انہیں کیا مسلہ تھا۔
پورا سال ڈرون پر خاموشی۔
فوج آپریشن پر 22 ارب سہیل نے دئیے۔ اور فوجی آپریشن چلتے رہے۔
بجٹ پاس کر دیا۔
معدنیات نکالے جا رہے تھے۔
جیو ARY ایکسپرس پر انٹرویو ہو رہے تھے۔
خان قید تنہائی میں رہا۔ گیارہ ماہ خاموشی۔
خان کی بہنیں قید میں۔
پولیس ایکٹ پاس نہ ہوا۔
دفعہ 144 کوئی قانون سازی نہیں
چادر چار دیواری پر کوئی قانون سازی نہیں۔
کے پی میں پہلے دن سے آخری دن تک انکے افسران لگے رہے۔
کیا کیا ایک سال میں جو وہ ہٹانا چاہتے تھے۔ یہ فرمائشی بیان تھے۔ اور کچھ نہیں۔
جنرل نشاط نے ڈرون حملوں کی حمایت کی تو عمران خان نے لائیو شو میں بیٹھ کر اس پر سخت ترین ردعمل دیا
عمران خان نے جنرل نشاط کو بے غیرت قرار دیا،
عمران خان نے پختونوں کے امن کی خاطر ایک طویل جنگ لڑی ہے ، آج پختونوں کا امن گورنر راج کے سائے تلے داو پر لگ گیا ہے
اج سے چار سال پہلے.... ایک ڈائری اٹھا کر.... 8 اپریل کو ایک غیرت مند شخص وزیراعظم ہاؤس سے نکلا ۔۔۔اور اج تک اس نے اپنی غیرت کا سودا نہیں کیا اور ڈٹا ہوا ہے 🔥
پی ٹی آئی ایک دہشت گرد جماعت ہے جو یونیورسٹیاں بناتی ہے۔ صحت کارڈ پر مفت علاج دیتی ہے۔ جس کا بانی تین بڑے کینسر اسپتال بناتا ہے۔ لنگر خانے اور پناہ گاہیں بناتا ہے۔۔ثمینہ پاشا
@pasha_samina
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan#ImranKhan
@Waqarkhan سر جی
یہ خیال تو مجھے بھی بہت دفعہ آتا ہے
کہ خان صاحب ان کو کیوں بنایا اتنا کمزور ترین انسان اتنی بڑی جنگ نہیں لڑ سکتا اس ملک کے غربیوں کا حق دلوانے کی ۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں ہنسوں یا دھاڑیں مار کر روں، بیرسٹر گوہر کل پاکستان کی پارلیمنٹ میں گلابی رنگ کے گورنر راج نا منظور کے کارڈز اٹھا کر گھوم رہے تھے
عمران خان نے پتا نہیں بیرسٹر گوہر جیسے انسان میں کیا دیکھا کہ اسے پارٹی کا چیئرمین بنا دیا
معید پیرزادہ
حکومت کی قربانی دے دی۔ نہیں یہ غلط بیانیہ ہے۔
حکومت سے تو اب جانا ہی تھا۔ خان کی پہلی ملاقات پر حکومت سے ہٹنا پڑنا تھا۔ پورے سال کا حساب یاد کرنا پڑے گا۔
حکومت قربان نہیں ہوئی۔ خان کا مینڈیٹ قربان ہوا ہے۔ بغیر لانگ مارچ کئیے۔ بغیر احتجاج کئیے۔ خان کا آخری قلعہ قربان کر دیا گیا ہے۔
یہ حق صرف خان کا تھا۔ کہ وہ اپنی حکومت کیسے قربان کرے۔ یا نہ کرے۔ جن کو آج سمجھ نہیں کوئی بات نہیں کل سمجھ آ جائے گی۔ جس دن خان کا پیغام باہر آیا اس دن سمجھ آ جائے گی۔
تنقید کرنے والوں کی نییت بری نہیں۔ اس لئے ہر تنقید سر آنکھوں پر۔