میڈم @KiranBalochPPP ایک خاتون ہونے کے ناطے آپ سے امید ہے کہ آپ دوسری خواتین کے لیے حوصلہ اور انصاف کی آواز بنیں گی، نہ کہ اختلافات کو ذاتی مسئلہ بنائیں گی۔ چیئرپرسن کا منصب ذمہ داری اور خدمت کا تقاضا کرتا ہے۔ وقت اور عہدے ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے
@BBhuttoZardari
آپ @KiranBalochPPP کے رویے سے افسوس ہوا۔ عہدے مستقل نہیں ہوتے؛ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ امید ہے آپ اپنے منصب کی ذمہ داریوں کو ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر نبھائیں گی. @BBhuttoZardari@PakSarfrazbugti
میڈم @KiranBalochPPP ، آپ بھی ایک خاتون ہیں، اس لیے اپنی ہی پارٹی کی خواتین سے اس قدر اختلاف یا حسد مناسب نہیں۔ آپ کو چیئرپرسن کی ذمہ داری خواتین کے مسائل کے حل اور ان کی نمائندگی کے لیے دی گئی ہے، نہ کہ ذاتی اختلافات نکالنے کے لیے۔
@PakSarfrazbugti@BBhuttoZardari
میڈم @KiranBalochPPP ، آپ بھی ایک خاتون ہیں، اس لیے اپنی ہی پارٹی کی خواتین سے اس قدر اختلاف یا حسد مناسب نہیں۔ آپ کو چیئرپرسن کی ذمہ داری خواتین کے مسائل کے حل اور ان کی نمائندگی کے لیے دی گئی ہے، نہ کہ ذاتی اختلافات نکالنے کے لیے۔
@PakSarfrazbugti@BBhuttoZardari
@BaluchistanFact ظہور الوکزئی اور بشیر الوکزئی کو ٹاسک ملا ہے کے بلوچ لڑکیوں کو چین لے جانا کے بولا کے, بلیک میل کرے اور پشتون گرلز کو بلیک میل کرنا کے لیا, اسفند کاکڑ اور باسط کاکڑ کو ٹاسک دیا ہے۔ برائے مہربانی انسانی حقوق ان زیادتی کرنے والوں اور دلال کے خلاف کارروائی کریں
@BaluchistanFact ظہور الکوزئی, نامی شخص بلوچ لڑکیوں کو دھوکے سے باتوں میں لگاتا ہے، انہیں چین بھیجنے کا جھوٹا وعدہ کرتا ہے، پھر بلیک میل کرتا ہے اور بعد میں انہیں افسران کے سامنے پیش کرتا ہے۔
چاغی کی ایک لڑکی کے ساتھ بھی اس نے یہی شرمناک حرکت کی ہے۔
#SaveBalochGirls
#
تحریر روبینہ بلوچ
بلوچستان پاکستان کا وہ صوبہ ہے جو قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور ثقافتی تنوع کے اعتبار سے بے پناہ اہمیت رکھتا ہے، مگر بدقسمتی سے اسی بلوچستان کی سیاست آج بھی روایتی سرداری نظام، کرپٹ و ناکام اشرافیہ اور قبائلی مفادات کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے۔
تحریر روبینہ بلوچ
بلوچستان پاکستان کا وہ صوبہ ہے جو قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور ثقافتی تنوع کے اعتبار سے بے پناہ اہمیت رکھتا ہے، مگر بدقسمتی سے اسی بلوچستان کی سیاست آج بھی روایتی سرداری نظام، کرپٹ و ناکام اشرافیہ اور قبائلی مفادات کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے۔
بلوچستان میں نوجوان اگر اپنی قیادت خود کریں گے تو وہ احساس محرومی، جو کئی دہائیوں سے پروان چڑھ رہا ہے، ختم ہو گا۔ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی وہ صرف نوجوانوں کی قیادت ہی پاٹ سکتی ہے۔ بلوچستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں دینا ہی دراصل پاکستان کے مستقبل کو محفوظ کرنا ہے۔
کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو اس نظام کا ستون بنایا جائے۔ وہ نوجوان جو تعلیم، شعور، کردار اور عزم رکھتے ہیں، انہیں دیوار سے لگانے کے بجائے نظام میں شامل کیا جائے۔
یہ نہ صرف ایک سیاسی اصلاح کی ضرورت ہے بلکہ قومی بقا اور اتحاد کی بھی۔
Part-10