اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
آج مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرنے والے ایک اور نوجوان، ہمارے بھائی، سینئر صحافی اور کشمیر جرنلسٹس فورم کے جنرل سیکرٹری مقصود منتظر اپنے والدِ محترم کے جنازے کو کندھا دینے اور انہیں لحد میں اتارنے کی حسرت اور ناقابلِ بیان کرب سے گزر رہے ہیں ، ان کے والدِ محترم مقبوضہ کشمیر میں رحلت فرما گئے ہیں۔
منقسم خاندانوں کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ان کی ہر خوشی ادھوری اور ہر غم سو گنا بڑھ جاتا ہے۔ ہماری روایت ہے کہ اولاد اپنے والدین کے جنازے کو کندھا دینے کے لیے ہزاروں میل کا سفر طے کرکے گھر پہنچتی ہے، انہیں اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارتی اور ان کی مغفرت کے لیے دعاؤں کا اہتمام کرتی ہے۔ مگر مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے آزاد کشمیر اور پاکستان آنے والے بے شمار کشمیری اس بنیادی انسانی، مذہبی اور خاندانی حق سے بھی محروم ہیں۔
خونی لکیر کے ایک جانب کسی گھر میں صفِ ماتم بچھتی ہے تو دوسری جانب موجود اہلِ خانہ جس بے بسی، دکھ اور اذیت سے گزرتے ہیں، اسے نہ دیکھا جا سکتا ہے اور نہ الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس درد کی شدت صرف وہی جانتا ہے جس کے دل پر یہ قیامت گزرتی ہے۔
اگر کشمیر کو تقسیم کرنے والی یہ خونی لکیر اور پاکستان و بھارت کے درمیان مسئلۂ کشمیر کی پیچیدگیاں حائل نہ ہوتیں تو شاید مقصود منتظر اتنے ہی وقت میں اپنے آبائی گھر پہنچ جاتے، جتنا اسلام آباد سے لاہور جانے میں لگتا ہے۔ وہ اپنے والد کے جنازے کو کندھا دیتے، انہیں اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارتے اور آخری بار ان کے چہرے کی زیارت کرلیتے۔
ہم اپنے بھائی مقصود منتظر اور ان کے تمام اہلِ خانہ کے اس عظیم دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرکے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور مقصود منتظر سمیت تمام لواحقین کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
افضل بٹ صدر، ارشد انصاری سیکرٹری جنرل، لالہ اسد پٹھان فنانس سیکرٹری۔
پی ایف یو جے
ایک شادی پر اکرام اللہ نیازی سے کہا دیکھیں آپ کا بیٹا آ رہا ہے تو آگے سے انہوں نے کہا کہنے کو تو میرا بیٹا ہے لیکن ہے حرامدہ
مودی چاہتا تو دو منٹ پاکستان کو فکس کر دیتا معرکہ حق ڈرامہ تھا ۔ نورین نیازی
یقیناً اکرام اللہ نیازی اپنی اولاد کے لیےحرامدہ کے ساتھ زادی بھی لگاتا ہو گا
زرداری کی تعریفیں ایسی کر رہی ہیں جیسے کعبے سے آیاہو سب جانتے ہیں زرداری بلیک میں ٹیکٹس بھیجتا تھا! زرداری کو پٹرول کے پیسے بھی پیرپگاڑا دیتے تھے! آپ کے لیڈر کا دماغ ہی نہیں!ہم چوروں سے ہاتھ نہیں ملاتے! عمران خان پرویز مشرف سے سودے بازی کرتا رہا! یہ لڑائی نہیں دیکھی تو کچھ نہیں دیکھا،دوران شو شفیع جان اور شہلا رضا لڑپڑے
#PublicNews #NewsUpdates #PublicProgram #RiyasatOrAwam @iRaiSaqib@ShafiJanPTI@SyedaShehlaRaza
جب ہم نے کہا جموں اور لداخ ریجن کے لوگ خود کو کشمیری نہیں سمجھتے، یہ صرف وادی کے لوگوں کو کشمیری سمجھتے ہیں تو کچھ دوستوں کو اعتراض ہوا کیونکہ آزاد کشمیر کے کچھ علاقے جموں ریجن میں شامل ہیں، ڈاکٹر کرن سنگھ مہاراجہ ہری سنگھ کی اکلوتی اولاد ہے، جموں و کشمیر کے شاہی حکمران خاندان کے واحد چشم و چراغ ہیں خود کو اب بھی ریاست کا اعزازی مہاراجہ سمجھتے ہیں، ان کا خاندان ڈوگرہ راجپوت "جموال" قبیلے سے ہے، کہتے ہیں مجھے کشمیری نہ کہیں کیونکہ میں ڈوگرہ ہوں، ریاست کا نام اسی لئے جموں اینڈ کشمیر ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 1995 میں جموں و کشمیر کے آزادی پسند لیڈر شبیر احمد شاہ کو "ضمیر کا قیدی" (Prisoner of Conscience) قرار دیا تھا، شبیر احمد شاہ اپنی زندگی کے تقریباً 37 برس بھارت کی مختلف جیلوں، بالخصوص تہاڑ جیل، میں گزار چکے ہیں۔ طویل اسیری اور مسلسل سیاسی جدوجہد کے باعث انہیں "کشمیر کا نیلسن منڈیلا" بھی کہا جاتا ہے۔
بھارتی حکومت نے شبیر احمد شاہ کو پہلی مرتبہ محض 14 سال کی عمر میں گرفتار کیا تھا۔ جموں و کشمیر کے حقِ خودارادیت کے لیے آواز بلند کرنے کی پاداش میں انہیں اپنی زندگی کا نصف سے بھی زیادہ حصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنا پڑا۔
سال 2017 میں بھارتی حکومت نے انہیں مبینہ ٹیرر فنڈنگ کیس میں گرفتار کرکے تہاڑ جیل منتقل کیا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے مارچ 2026 میں انہیں ضمانت تو دی، تاہم وہ مستقل آزادی حاصل نہ کر سکے ایک اور مقدمے کے باعث بدستور قید رہے۔
اب بھارت کی نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (NIA) نے آج شبیر احمد شاہ سمیت چھ کشمیری رہنماؤں کے خلاف نئی چارج شیٹ عدالت میں جمع کرائی ہے۔ چارج شیٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے 1996 میں مبینہ سازش کے تحت جموں و کشمیر میں پرتشدد مظاہروں کی منصوبہ بندی کی، پولیس پر فائرنگ کرائی اور "پاکستان زندہ باد" کے نعرے لگوائے۔
کلپ آد دی ڈے،کمال کردیا نصر اللہ ملک صاحب نے۔
عمران خان جب وزیر آعظم بنا تو اس کے اثاثے تین کروڑ اور جب اثاثہ جات دو سال بعد بتائے تو 33 کروڑ ھوچکے تھے،عمران خان کی کرپشن پر نصر اللہ ملک کی باتیں سنیں اور شکل دیکھیں رانا ایثار نامی ٹاؤٹ کی۔
اتفاق فاؤنڈری 1939ء میں بنی
ماڈل ٹاؤن کےبنگلے1959ء میں بنے
دبئی سٹیل مل1978ء میں بنی
1960 _ 70 کی دہائی میں شریف فیملی ارب پتی تھی
جبکہ نوازشریف 1985ءمیں سیاست میں آئے
1989ء میں شریف فیملی نے بھکاری عمران کی التجا پرشوکت خانم ہسپتال کیلئے عمران خان کو 50 کروڑ روپے چندہ دیا
👇1/4
ہم الحاق پاکستان والے ہیں ۔
میاں نوازشریف اور ہمارا خاندان امرتسر سے ہجرت کرکے پنجاب پاکستان آیا تھا ، پنجاب نے اور پاکستان والوں نے دل کھول کر ہمیںaccept کیا بزنس لیڈر بنایا ہمیں سیاست میں نمائندگی دی ہمیں تو کسی نے نہیں کہا آپ لوگ ہجرت کرے آے ہو آپ کا پاکستاُن پر کوئی حق نہیں
یہ عمر نذیر کی تقریر آج کی نہیں بلکہ مئی کی ہے!
اگر مقبوضہ کشمیر کے مہاجروں کی کشمیری شناخت چھیننے میں ہم کامیاب ہو بھی گئے اور 12 سیٹیں ختم ہوگئیں ہم نے پھر بھی اختجاج کرنا ہے۔
مسلہ نا 12 سیٹیں ہیں، نا کچھ اور
اصلی مسلہ قوم پرستی ہے
قوم پرست ہمیشہ نظریہ اسلام کے مخالف ہوگا
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے راولاکوٹ دھرنے کا اسٹیج پاکستان مخالف بیانیے کے لیے استعمال ہونے کا اعتراف اور ایسے عناصر سے لاتعلقی کا اعلان خوش آئند پیش رفت ہے، عوامی حقوق کی تحریک کو سیاسی ایجنڈوں اور اشتعال انگیز بیانیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے تھا، مجھ سمیت بہت سارے دوست اس بات کی نشاندہی ابتداء سے کرتے رہے دھرنے کا اسٹیج بنیادی مطالبات سے ہٹ کر استعمال ہو رہا ہے اور تحریک کو بتدریج ہائی جیک کیا جا رہا ہے اسکے نتائج اچھے نہیں ہونگے، لیکن کچھ لنڈے کے دانشور اسے تعصب اور سہولت کاری سے تعبیر کرتے رہے۔
یاد رکھیں بروقت تنقید ہمیشہ مخالفت نہیں ہوتی، راولاکوٹ دھرنے کی قیادت کرنے والے عمر نذیر کشمیری نے گزشتہ روز خود اس بات کا اعتراف کیا کہ انکے دھرنے کا اسٹیج غلط استعمال ہوا ہے، یقین کریں اگر تحریک عوامی حقوق کے حصول تک محدود رہتی ہے اور سیاسی ایجنڈوں سے دور رہتی ہے، تو مثبت نتائج کی امید کی جا سکتی ہے، ذرائع کے مطابق پس پردہ رابطے بھی جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں معاملات بہتری کی جانب بڑھنے کا امکان ہے۔