ارشد شریف کو گئے چار سال ہو جائیں گے۔ بادشاہ کو ننگا کہنے پر ملک چھوڑنا پڑا، پھر کینیا کی ایک سڑک پر گولی ملی۔ سوا سال بعد بلّا چھن گیا، امیدوار الگ الگ نشانوں پر لڑے، اور سب سے زیادہ سیٹیں پھر بھی خان کے آزادوں نے جیتیں۔ کہانی میں بھی آخرکار سارا شہر بول اٹھا تھا۔
قومیں ایسے ترقی کرتی ہیں! اور پاکستان غربت میں عالمی ریکارڈ بنا رہا ہے، دوسری طرف ایک صوبے کی وزیراعلیٰ نے 13 ارب کا جہاز خرید لیا اور مقروض ملک کے فوجی سربراہ نے 20 ارب روپے کا جہاز لے لیا۔ عوام غربت میں پس رہے ہیں، ملک قرضوں میں ڈوبا ہے، مگر پاکستان کے حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے اور تواور اب تو اس ملک پر مسلط عظمیٰ بخاری جیسی کنزیں بھی کروڑوں کے جوتے آڈر کر رہی ہیں ۔
سرکاری چینل PTV کی اینکر بینش سلیم صاحبہ (تمغہِ امتیاز) نے ابھی ابھی بتایا ہے ’’ریاست نے 28 ویں ترمیم کا فیصلہ کر لیا تو کسی کا باپ بھی نہیں روک سکتا، کوئی حرکت کی تو 100 جوتے بھی کھائیں گے اور 100 پیاز بھی‘‘
اب یہ تو محترمہ ہی بتا سکتی ہیں کہ ریاست ہے کون
عمران خان کے بعد اب ان کا خاندان نشانہ: 3MPO کے تحت غیر قانونی حراست اور انتقامی کارروائیاں؛ روبینہ خان کا بیان!
گزشتہ تین سال سے عمران خان کو تنہا کرنے کا سلسلہ جاری ہے، اب وہی جابرانہ طریقہ کار ان کے خاندان پر آزمایا جا رہا ہے۔ علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو 3MPO کے کالے قانون کے تحت قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے تاکہ حوصلہ توڑا جا سکے۔ 30 دن کی قانونی مدت ختم ہونے کے باوجود نہ رہا کیا جا رہا ہے اور نہ ہی نیا قانونی حکم موجود ہے۔
- عمران خان کو دبانے میں ناکامی کے بعد بہنوں کو فرضی اور پرانے کیسز کی آڑ میں غیر قانونی قید رکھا جا رہا ہے۔
- امن و امان کے نام پر 3MPO کی دفعہ 3 سے بنیادی آزادیوں اور حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔
- فرضی مقدمات: جن میں عدالتیں بری کر چکی ہیں (12 فروری 2025 کی بریت) یا جن FIRs کا وجود نہیں، انہیں حراست کا جواز بنایا گیا۔
- قیدِ تنہائی: تین ہفتوں سے وکلاء، اہل خانہ اور ادویات تک رسائی روک کر آئینی و انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔
- عدالتی و انتظامی تاخیر: ہائی کورٹ درخواستیں واپس ہوم سیکریٹری کو بھیج رہی ہے اور ATC راولپنڈی میں فیصلے کا التوا (اگلی تاریخ 26 اکتوبر) تاخیری حکمت عملی ہے۔
اعلیٰ عدلیہ سے فوری اپیل:
3MPO کے تمام غیر قانونی احکامات فوراً منسوخ کیے جائیں۔
تینوں خواتین کو فوری اور باوقار رہا کیا جائے، پرانے کیسز میں دوبارہ گرفتاری روکی جائے۔
وکلاء، اہل خانہ سے ملاقات اور علاج کی سہولیات فوری بحال کی جائیں۔
#ReleaseAleemaKhan
#ReleaseNoreenKhan
#ReleaseUzmanKhan
گورنر راج کی آڑ میں خیبرپختونخوا کی عوام سے انتقام لیا جا رہا ہے،
خیبرپختونخوا کو محض دس دنوں میں تباہ کر دیا گیا ہے،
ابھی تو یہ حرام خور آئے ہیں اگر یہ لمبا عرصہ رہ گئے تو خیبر پختونخوا کو کھنڈر بنا دیں گے۔
@Waqarkhan اب جب کہ یہ اتنا کھل کر سامنے آ گئے ہے تو ان کو لات مار کر دفعہ کر دینا چاہیے پارٹی سے کیونکہ یہ تو بے غیرت ہے ان میں اتنی جرات تو ہے نہیں کہ خود سے پارٹی چھوڑ دے
معزز چیف جسٹس صاحب میں نےآپ کو12 جولائی 2022 خط لکھا تھا میری جان کوخطرہ ہے مجھے تحفظ دیں!
معزز چیف جسٹس صاحب آپ مجھےتحفظ نہ دےسکے میں شہید ہوگیا۔ آج میری شہادت کو چار سال ہو گئے ہیں اب تو مجھے انصاف دے دیجئے۔
انصاف کا طالب
آپ کی قوم کا ارشد شریف
ارشد شریف شہید - سچ کا وہ چراغ جو بجھایا نہ جا سکا!
صحافت کی دنیا کا وہ مردِ مجاہد تھا جس نے خوف کے سائے میں بھی سچ بولنے سے انکار نہ کیا۔
مارنے والوں کو لگا اسے کینیا کے جنگلوں میں گولیوں سے خاموش کر دیا گیا، لیکن وہ بھول گئے کہ کچھ آوازیں گولیوں سے نہیں دبتیں۔
" وہ کون تھا " کی گونج ہمیشہ گونجتی رہے گی
تم ہمارا فخر ہو، اور ہم تمہارے احسان مند ہیں۔
ارشد شریف شہید - تم زندہ ہو، تم زندہ رہو گے۔
#JusticeForArshadSharif
#FreeImranKhanAndFamily
*گم شو از ایران من عاصم منیر جاسوس* 🙏
کل تھران میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف سے مذاکرات کے لئے ایران میں دورہ کے دوران۔۔ ایرانی خواتین نے ان کے خلاف شدید نعرہ بازی
عاصم منیر کی اس مسلط کردہ میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن اور کتنے گھرانے، کتنے بہادر سپوت بنیں گے اور کتنے بے گناہ ان کی ہوس کی قیمت چکائیں گے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
جہاں ٹکے ٹکے کی نوکریوں اور زمینی خداؤں کی خوشنودی کے لیے ضمیر فروشی ایک عام چلن بن گیا ہے، خیبر پختونخواہ پولیس میں آج بھی ایسے بہادر اور غیرت مند سپوت موجود ہیں جو اپنی حمیت اور روایات کو اپنی زندگی پر مقدم رکھتے ہیں۔ عمران الدین سے نہ کبھی کوئ رابطہ رہا نہ کوئ وابستگی تھی۔ پہلی دفعہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر سُنا جہاں ناصرف انہوں نے میرے گھر کی خواتین کے ساتھ دست درازی سے انکار کیا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میرے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئ ایس آئ کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے۔ دوسری دفعہ ان کا تذکرہ، دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہونے کی خبر میں پڑھا۔ متعدد بار ٹارگٹ اور ہر دوسرے دہشت گردی کے واقعے میں اس کی موجودگی کی خبر پڑھنے کو ملی تو کسی کو پیغام بھجوایا کہ جب واضح ہوگیا کہ اس فرض شناس افسر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اس رات کے سٹینڈ اور پھر روایات کا پاس رکھنے پر ملنے والی عزت و مقبولیت پر باقی افسران کو پیغام دینے اور میری وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کی بڑی فکر ہے کیونکہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر اس پر حملے سے شروع اور جہاں اس کی موجودگی ہو ادھر ہی دہشت گردی کے واقعات اور مقابلہ ہو، چاہے وہ ہنگو ہو کوہاٹ ہو یا کرک۔
جواباً بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین سے ہم نے بھی کئی مرتبہ بات کی اسے بھی سمجھ ہے لیکن کہتا ہے کہ کرنے دو ان کو جو کرنا ہے۔ میرے لیے کسی سے بات نہیں کرنی میں مقابلہ کروں گا۔ میں نہیں چاہتا کوئی یہ سمجھے میں ان حملوں سے خوف زدہ ہوگیا ہوں۔
آج بالاخر فارم سنتالیس کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے اقبالِ جرم کیا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کی پالیسی غلط تھی لیکن یہ نہیں بتایا کہ عمران خان نے اس پالیسی کو ابسولٹلی ناٹ کہا تھا اور رجیم چینج کے بعد پہلی ہی سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ پالیسی سامنے رکھی تو بغیر بحث کے منظوری کرا لی گئ۔ اگلے ہفتے افغانستان وفد بھیجا گیا، جولائی ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پہلی تشکیل ہوئی، دو دفعہ ہم نے نکالا لیکن ہمارے سروں کی قیمت جاری کر کے جرنیلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے یہ مقتل گاہ سجا دی۔ دہشت گردی کی آڑ میں جنہوں نے پختونخواہ پر قبضہ کیا وہ میڈ اپ دہشت گردی لانے والے ہیں۔ آج ڈی ایس پی عمران الدین کی شہادت کی خبر سُن کر فخر بھی ہوا اور افسوس بھی۔ عاصم منیر کی اس مسلط کردہ میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن اور کتنے گھرانے، کتنے بہادر سپوت بنیں گے اور کتنے بے گناہ ان کی ہوس کی قیمت چکائیں گے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
جہاں ٹکے ٹکے کی نوکریوں اور زمینی خداؤں کی خوشنودی کے لیے ضمیر فروشی ایک عام چلن بن گیا ہے، خیبر پختونخواہ پولیس میں آج بھی ایسے بہادر اور غیرت مند سپوت موجود ہیں جو اپنی حمیت اور روایات کو اپنی زندگی پر مقدم رکھتے ہیں۔ عمران الدین سے نہ کبھی کوئ رابطہ رہا نہ کوئ وابستگی تھی۔ پہلی دفعہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر سُنا جہاں ناصرف انہوں نے میرے گھر کی خواتین کے ساتھ دست درازی سے انکار کیا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میرے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئ ایس آئ کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے۔ دوسری دفعہ ان کا تذکرہ، دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہونے کی خبر میں پڑھا۔ متعدد بار ٹارگٹ اور ہر دوسرے دہشت گردی کے واقعے میں اس کی موجودگی کی خبر پڑھنے کو ملی تو کسی کو پیغام بھجوایا کہ جب واضح ہوگیا کہ اس فرض شناس افسر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اس رات کے سٹینڈ اور پھر روایات کا پاس رکھنے پر ملنے والی عزت و مقبولیت پر باقی افسران کو پیغام دینے اور میری وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کی بڑی فکر ہے کیونکہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر اس پر حملے سے شروع اور جہاں اس کی موجودگی ہو ادھر ہی دہشت گردی کے واقعات اور مقابلہ ہو، چاہے وہ ہنگو ہو کوہاٹ ہو یا کرک۔
جواباً بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین سے ہم نے بھی کئی مرتبہ بات کی اسے بھی سمجھ ہے لیکن کہتا ہے کہ کرنے دو ان کو جو کرنا ہے۔ میرے لیے کسی سے بات نہیں کرنی میں مقابلہ کروں گا۔ میں نہیں چاہتا کوئی یہ سمجھے میں ان حملوں سے خوف زدہ ہوگیا ہوں۔
آج بالاخر فارم سنتالیس کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے اقبالِ جرم کیا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کی پالیسی غلط تھی لیکن یہ نہیں بتایا کہ عمران خان نے اس پالیسی کو ابسولٹلی ناٹ کہا تھا اور رجیم چینج کے بعد پہلی ہی سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ پالیسی سامنے رکھی تو بغیر بحث کے منظوری کرا لی گئ۔ اگلے ہفتے افغانستان وفد بھیجا گیا، جولائی ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پہلی تشکیل ہوئی، دو دفعہ ہم نے نکالا لیکن ہمارے سروں کی قیمت جاری کر کے جرنیلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے یہ مقتل گاہ سجا دی۔ دہشت گردی کی آڑ میں جنہوں نے پختونخواہ پر قبضہ کیا وہ میڈ اپ دہشت گردی لانے والے ہیں۔ آج ڈی ایس پی عمران الدین کی شہادت کی خبر سُن کر فخر بھی ہوا اور افسوس بھی۔ عاصم منیر کی اس مسلط کردہ میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن اور کتنے گھرانے، کتنے بہادر سپوت بنیں گے اور کتنے بے گناہ ان کی ہوس کی قیمت چکائیں گے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
#FreeImranKhanAndFamily and all political prisoners!
These 1174 days are a shame for the country as the person who brought so much glory to the Nation is behind bars for “standing up” for the Nation.