10 سال گزر گئے، مگر ہزاروں معصوم طلبہ آج بھی اپنی ڈگریوں کی تصدیق (Attestation) کے منتظر ہیں۔
محرم الحرام ہمیں حق، انصاف، صبر اور مظلوم کا ساتھ دینے کا درس دیتا ہے۔
ہم وزیراعظم پاکستان، سینیٹر بشریٰ انجم بٹ (Chairperson, Senate Standing Committee)، اور چیئرمین HEC پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد سے مؤدبانہ اپیل کرتے ہیں کہ خدارا طلبہ کے مستقبل کو مزید تاخیر کا شکار نہ ہونے دیں اور تمام زیر التواء ڈگریوں کی فوری تصدیق کو یقینی بنائیں۔
"انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار ہے۔"
#AttestOurDegrees #HEC #StudentsFutureAtStake #SenateofPakistan #Pakistan
@CMShehbaz@PresOfPakistan@bushraanjumbutt@DrNiazAhmadSI@afnanullahkh@SenatePakistan
وزیر اعظم پاکستان، ہزاروں طلبہ آپ کی توجہ اور تعاون کے منتظر ہیں۔ براہِ کرم اس مسئلے کے عملی حل میں اپنا کردار ادا فرمائیں۔
#AttestOurDegrees#HEC#StudentsFutureAtStakecrea
ہم شکر گزار ہیں کہ طلبہ کے مسئلے کو سنا گیا، اب درخواست صرف اتنی ہے کہ اس کا مکمل عملی نفاذ بھی یقینی بنایا جائے۔
#AttestOurDegrees #HEC #StudentsFutureAtStake
محترم @PakPMO، @CMShehbaz، @bushraanjumbutt اور @DrNiazAhmadSI،
ہزاروں طلبہ تقریباً ایک دہائی سے انتظار کر رہے ہیں۔ اس مسئلے کو تسلیم کیا جا چکا ہے، اس پر تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے اور اصولی طور پر منظوری بھی دی جا چکی ہے۔ اب ہماری مؤدبانہ گزارش ہے کہ ایک واضح مدت پر مبنی عملدرآمدی منصوبہ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی شفاف ہدایات جاری کی جائیں تاکہ متاثرہ طلبہ اپنی ڈگریوں کی تصدیق (Attestation) حاصل کر سکیں۔
طلبہ اپنی کسی غلطی کے بغیر روزگار کے مواقع، اعلیٰ تعلیم میں داخلوں اور شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
براہِ کرم مزید تاخیر کے بغیر عملی ریلیف فراہم کرنے کو یقینی بنائیں۔
#AttestOurDegrees #HEC #StudentsFutureAtStake
@hecpkofficial@EduMinistryPK@DPM_PK@SenatePakistan@PresOfPakistan@MIshaqDar50@SMasroorAhsan@BBhuttoZardari
@bushraanjumbutt
آپ سے پرزور درخواست کہ HEC کو فوری طور پر سینیٹ کمیٹی احکامات پر عمل کروائیں اور الخیر یونیورسٹی کی ڈگریاں بغیر مزید تاخیر کے اٹیسٹ کرائیں اور جیسے گلوبل یونیورسٹی کو سہولت دی گئی تھی۔ہم کو بھی دی جائے
ہم آپ کے شکر گزار ہوں گے
الخیر یونیورسٹی طلباء و طالبات
54 ہزار طلبہ کا مستقبل داؤ پر: سزا مجرموں کو ملے یا طلبہ کو؟
HEC کی نااہلی، غفلت اور ناقص نگرانی کی سزا طلبہ کو نہیں دی جا سکتی۔ اگر ریگولیٹری ادارے اپنی ذمہ داریاں بروقت ادا کرنے میں ناکام رہے، متعلقہ جامعات کی نگرانی مؤثر انداز میں نہ کر سکے، طلبہ اور والدین کو بروقت آگاہ نہ کیا گیا، اور برسوں تک تعلیمی سرگرمیاں جاری رہنے دی گئیں، تو اس کی قیمت ان طلبہ سے وصول نہیں کی جا سکتی جنہوں نے نیک نیتی کے ساتھ داخلے لیے، فیسیں ادا کیں، امتحانات دیے اور ڈگریاں حاصل کیں۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ انتظامی ناکامیوں اور ادارہ جاتی غفلت کا بوجھ معصوم طلبہ پر ڈالنے کے بجائے ذمہ دار افراد اور اداروں کا احتساب کیا جائے۔ ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل، روزگار اور زندگی کے قیمتی سال کسی ادارے کی نااہلی اور لاپرواہی کی نذر نہیں کیے جا سکتے۔ طلبہ کو سزا دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ ناانصافی کو مزید گہرا کرنا ہے۔
وزیراعظم میاں شہباز شریف صاحب کی ہدایت پر سینیٹر بشری انجم بٹ چیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ کی انتھک محنت کی بدولت ہزاروں سٹوڈنٹس کا مستقبل محفوظ بنایا گیا
سٹوڈنٹس کے ہزاروں کیسز جو ایچ ای سی