کسی صحافی/صحافتی تنظیم نے حامد میر کا درود پاک کا تمسخر اڑانے پر مذمتی بیان نہیں آیا اور نہ ہی مہر بخاری جانب سے رانا ثناءاللہ کی برہنہ تصویر لگانے پر مذمتی بیان آیا اور نہ ہی عامر متین جانب سے مریم نواز بارے غلیظ ٹوئٹ پر شٹ اپ کال آئی
اور یہ ہے ریاستِ پاکستان کی صحافتی اخلاقیات
میری ذاتی رائے میں نوازشریف کو چاہئے کہ وہ مرکز میں اپوزیشن میں بیٹھیں اور پنجاب شہباز شریف کو دے دیں ۔۔ بلکہ ہونا یہ چاہئے کہ ن لیگ کو ایسی حکومت لینی ہی نہیں چاہئیے ۔۔ زرداری کو اور خان کو مل کر حکومت بنانے دین ۔۔ اگر پی ڈی ایم جیسی حکومت بنانے کی غلطی دہرائی تو عمران خان مزید طاقتور اور ن لیگ مزید کمزور ہوتی ہوتی ختم ہوجائے گی۔ اپوزیشن میں بیٹھ کر تیاری کریں اور نئے دور کی سیاست کو سیکھیں