کیمرے کے سامنے تو عملہ مجبور ہوتا ہے اسے چھوڑو محبت اتنی ہے کہ عمران خان جس جائے نماز پر نماز پڑھتا ہے جیل کا عملہ اس کو مقدس سمجھ کر اسے گھر لے جاتا ہے،
مظہر بر لاس
میں تو سب کچھ بھگت کے آیا ہوں اور بھگت رہا ہوں لیکن میں بڑا خوش ہوں کہ چیزیں ایکسپوز ہو گئیں ہیں اور آپ کو بھی چیزیں سمجھ آگئیں ہیں
جسٹس محسن اختر کیانی استعفی سے پہلے 🔥
جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفی دے دیا ہے، جسٹس کیانی نے 26 ویں ترمیم کے خلاف اور عدلیہ میں مداخلت کے خلاف سخت موقف اپنایا تھا، پارلیمنٹ کے کردار پر بھی سخت موقف اپنایا تھا
جس کے بعد جسٹس کیانی کو IHC سے لاہور ہائیکورٹ بیجھ دیا گیا ، آج جسٹس کیانی نے استعفی دے دیا ہے، موجودہ نظام میں انصاف فراہم کرنے کے خواہشمند جج کی کوئی جگہ نہیں ہے
جسٹس محسن اختر کیانی کے استعفے کا متن !!
میں ضمیر کی آواز پر مستعفی ہو رہا ہوں، 26ویں اور 27ویں ترامیم نے ہائیکورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری کو متاثر کیا ہے، عدالتی اداروں میں انتظامیہ کا بڑھتا ہوا کنٹرول عدلیہ کی آزادی کے لیے نقصان دہ ہے، ججز کی تقرریوں اور تبادلوں میں مداخلت سے عدالتی نظام پر عوامی اعتماد متاثر ہوا
آج سے 20 دن پہلے پاکستان نے نیو یارک ٹائمز کی اُس رپورٹ کو جعلی قرار دیا تھا جس میں یمن میں حوثیوں کے خلاف حملوں میں پاک فضائیہ کے طیاروں کے استعمال کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
اگر خبر واقعی جعلی تھی تو 20 دن گزرنے کے باوجود نیو یارک ٹائمز کے خلاف قانونی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟
پشاور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ، جسٹس وقار احمد نے 3 ایم پی او کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ضلع خیبر باڑہ کے 15 روز سے نظر بند تمام پی ٹی آئی کارکنوں کی رہائی کا حکم دے دیا۔
#PeshawarHighCourt#PTI#Khyber
ایمرجنسی نتائج۔۔۔🚨🚨
ذلیل بےغیرت حرام خور اور بےشرم پٹواری پہلے گورنر راج پر مٹھائیاں اور شہباز شریف کے نعرے لگا رہا ہے۔۔!!✊🏻
جبکہ دوسری ویڈیو میں گورنر راج کے نتائج اور بےرحم پالیسیوں سے روتا دیکھائی دے رہا۔۔!! 👏
کونہ ٹینگا کا۔۔۔✌🏻
بعض نامی گرامی صحافی اور بڑے اکاؤنٹس والے ہمیں بار بار گمنامی اور AI اکاؤنٹس ہونے کا طعنہ دیتے ہیں کہ آپ تو کل اکاؤنٹ بند کرکے غائب ہو جائیں گے، اصل حالات کا سامنا ہمیں کرنا ہے۔ جناب! آپ اپنی شناخت اور شہرت کے باوجود وہ بات نہیں کر پا رہے جو ہم گمنام ہو کر کر رہے ہیں۔ آپ ہمیں گمنامی کا طعنہ دینے کے بجائے ہماری بات کے وزن، سچائی اور مؤقف کو پرکھیں۔ اگر گمنام ہونا اتنا ہی آسان ہے تو آپ بھی ایک گمنام اکاؤنٹ بنائیں، لکھیں، تصویریں اور ویڈیوز بنائیں، ظلم کو بے نقاب کریں اور اس نظام کو کھل کر چیلنج کریں۔ پھر دیکھیے یہ جدوجہد کتنی آسان ہے!
آج ایک معروف صحافی سے میرا سوال تھا کہ اگر ہمارے بچوں کے سروں اور سینوں میں گولیاں ماری جا رہی ہوں تو کیا ہم پھر بھی خاموش رہیں، مار کھاتے رہیں اور ظالموں سے محبت کا درس سنتے رہیں؟ اگر جدوجہد کا مطلب صرف ظلم سہتے رہنا ہے تو پھر عمران خان کی رہائی کا راستہ کیا ہے؟ خدا نہ کرے، اگر اس جدوجہد میں عمران خان کو کچھ ہو گیا تو کیا ہم عاصم منیر کی بیعت کر لیں؟ ہرگز نہیں! عمران خان خود قید میں رہ کر جبر کے سامنے جھکنے سے انکار کر رہا ہے، تو ہم اس کے نظریے سے کیسے پیچھے ہٹ سکتے ہیں؟ ان سنجیدہ سوالات کا جواب دینے کے بجائے گمنام AI اکاؤنٹس کا مذاق اڑانا کوئی دلیل نہیں۔
یاد رکھیے! نظام کو چیلنج کرنے کے لیے چہرے، شہرت یا لاکھوں فالوورز نہیں بلکہ سچ بولنے کی جرأت چاہیے۔ ہمارے الفاظ، ہماری AI تصاویر اور ویڈیوز اگر ہزاروں لوگوں کے دل کی آواز بن رہی ہیں تو ان کی اہمیت کو تسلیم کیجیے۔ بڑے صحافیوں کو ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، نہ کہ انہیں حقیر سمجھنا چاہیے۔ مجھے ذاتی طور پر نامی یا گمنام ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرا مقصد نہ شہرت ہے، نہ عہدہ، نہ مراعات؛ میری جدوجہد صرف عمران خان کے نظریے اور ظلم کے خلاف ہے۔ ہم بے نام ضرور ہیں، بے ضمیر نہیں! ہم اپنی شناخت چھپا سکتے ہیں، اپنا مؤقف نہیں۔ خدارا گمنامی کا طعنہ چھوڑیں، ہماری بات کا جواب دیں!
Former Indian Cricketer & Captain #RaviShastari on @ImranKhanPTI's condition in jail :
“But just to see the way he is being treated today is 𝐬𝐡𝐨𝐜𝐤𝐢𝐧𝐠. And 𝐭𝐡𝐞𝐫𝐞 𝐚𝐫𝐞 𝐧𝐨 𝐨𝐧𝐞 𝐭𝐫𝐞𝐚𝐭𝐬 𝐚 𝐡𝐮𝐦𝐚𝐧 𝐛𝐞𝐢𝐧𝐠 𝐥𝐢𝐤𝐞 𝐭𝐡𝐚𝐭. On humanitarian ground, I think he doesn't deserve what he's getting.”
#ReleaseImranKhan
بلوچستان کے وزیراعلی کا اسمبلی میں FWO کی ناقص کارکردگی کے حوالے سے بیان پہلے میڈیا کو کوریج دینے سے روکا گیا اور پھر کالے چینل کو باقاعدہ FWO کے حق میں کیمپین چلانے کے لیے پلانٹڈ عوامی رائے لینے پر لگا دیا گیا۔۔
کیا ملک پر قابض رجیم کے اثاثے پاکستان سے زیادہ اہم ہیں؟ جب FWO کی کارکردگی پر انگلی اٹھی تو اصولاً اس کے خلاف انکوائری کھل جانی چاہئے تھی لیکن نہیں الٹا اس کے حق میں paid کیمپین شروع کروا دی گئی۔ جہاں جہاں ان کے ذاتی مفادات ہیں اس طرف اٹھنے والی انگلی انہیں برداشت نہ اس کے خلاف بات یہ سننا چاہتے ہیں۔
محمود اچکزئی کی جانب سے عمران خان پر تشدد کے خدشات اور پھر تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کی جانب سے عمران خان سے صلاح و مشورے اور اس سے ملاقات کی شرط کی بجائے خود ہی آئینی ترمیم کو ووٹ دینے کا فیصلہ مائنس عمران خان کے دو مختلف اسباب ہیں۔اس پر انصافیوں کا کمزور ردعمل مایوس کن ہے۔ آپ کو بہت زیادہ اِدھر اُدھر الجھا دیا گیا ہے۔ آپ کو پلٹنے کی ضرورت ہے۔
پیسے دے کے جنازوں پہ رونے والیاں منگوانے کا ڈپٹی نذیر احمد کے زمانے کی کہانیوں میں پڑھا تھا۔
آج فیس بک پہ دیکھ بھی لیا۔
کیا سرکار پی ٹی آئی کے لونڈوں کے ان پروپیگنڈوں کو روکنے میں بالکل بے بس ھو چکی ھے؟
صورتحال
کیا فوج نے یا کٹھ پتلی حکومت نے تحریک انصاف سے نئے صوبوں کے لیے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ مانگا؟ خبروں میں تو ایسا کچھ نہیں چلا۔ کیا ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا کوئی اجلاس ہوا؟ کیا انہوں نے نئے صوبوں کے لیے کسی حکمت عملی کا اعلان کیا؟ پھر کیا تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کو خواب آگیا کہ انہیں نئی آئینی ترمیم پر اپنی حکمت عملی طے کرلینی چاہیے؟ نہیں یقیننا انہیں اس حکمت عملی کا کہا گیا ہے۔
کیا عمران خان اس آئینی ترمیم کو ووٹ دینے کے لیے تیار ہوگا؟ اگر عمران خان تیار ہوتا تو پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کس بیوقوف نے کروانے تھے؟ یعنی عمران خان اس آئینی ترمیم کو ووٹ دینے کے لیے رضامند نہیں ہے؟ یقیننا ایسا ہی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ فوج کے پاس اکثریت تو ویسے ہی موجود ہے فوج تحریک انصاف کا ووٹ کیوں لینا چاہتی ہے؟ کیونکہ یہ ایک نازک مسئلہ ہے اور فوج اس پر “ پارلیمنٹ کی متفقہ ترمیم “ جیسا کارنامہ سرانجام دینا چاہتی ہے۔ شاید اسی متفقہ ترمیم کے لیے تحریک انصاف کو مائنس سہیل آفریدی وزیراعلی لا کر حکومت بحال کرنے کی پیشکش بھی موجود ہے۔ اسی متفقہ ووٹ کے دباؤ سے فوج پیپلزپارٹی و دیگر قوم پرست جماعتوں کو بھی رام کرنے کی کوشش کرے گی۔
اب رہ گیا آخری سوال کیا فوج اس ترمیم کی حمایت کے بدلے عمران خان کو رہا کرے گی ؟ نہیں ۔ فوج اپنا تسلط بڑھا رہی ہے اور اسکی راہ میں ا س وقت واحد خطرہ عمران خان کی رہائی ہوسکتا ہے ۔ کیا اس کے بدلے فوج عمران خان کی ملاقاتیں بحال کردے گی؟ اس سوال کا جواب یہ سوال ہے کہ عمران خان کی ملاقاتیں بند کیوں ہیں؟ کیونکہ عمران خان کی ہدایات سے فوج کو خطرہ ہے۔ یعنی فوج شاید بیرسٹر گوہر یا بیرسٹر سیف یا علی ظفر کو تو ملاقات کے لیے بھیج سکتی ہے جو باہر آکر ٹوٹا پھوٹا بیان جاری کردیں لیکن بہنوں ، وکلاء ، یا بڑی تعداد میں رفقاء کو نہیں ملنے دے گی کیونکہ مسئلہ پھر وہی کہ آزادانہ ہدایات فوج کے لیے مسئلہ پیدا کریں گی۔
اب یہاں یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ سہیل آفریدی سے فوج کو اس تعاون کی امید ختم ہوچکی تھی جو بیرسٹر گوہر ، اسد قیصر یا دیگر عہدیداروں کی جانب سے میسر ہے۔ اسی لیے سہیل آفریدی کی حکومت ختم کردی گئی اور کٹھ پتلیوں سے آئینی ترمیم اور مائنس عمران خان کے فیصلے کروائے جارہے ہیں۔
”تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی میں آج ختم کر رہا ہوں- پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے پاس مکمل اختیارات ہیں، وہ ایک نئی مختصر کمیٹی بنائیں جو سیاسی حکمت عملی وضع کرے اور اس پر عملدرآمد کروائے-
شاہد خٹک کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا پارلیمانی لیڈر نامزد کرتا ہوں۔
پاکستان بار کے انتخابات میں تحریک انصاف متحد ہو کر ان امیدواروں کی بھر پور حمایت کرے جنھیں سلمان اکرم راجہ اور حامد خان نامزد کریں۔ خیبر پختونخوا کے وکلأ، بارز اور ILF کے معاملات کا سہیل آفریدی خود جائزہ لیں اور بہتری کے لیے ضروری فیصلے خود کریں۔
زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اس کا موجودہ حال پریشان کن ہے۔ کسانوں کے حقوق پر جس طرح ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، اس پر انتہائی افسوس ہے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 2 of 2