پنجاب پر مسلط جعلی حکومت نے یہ گھر صرف اس لئے توڑا کہ حسنین نے میری مہمان نوازی کی۔ صبح ۵ بجے تک جہاں میں جاتا تھا اُس گھر کی بجلی کاٹ دیتے تھے۔ قسم سے پنجاب کی غیرت مند عوام ایسے کم ظرف بیغیرت اور ظالم حکمرانوں کی حقدار نہیں ہے۔
“پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا!
غلاموں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی، غلام قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا!
تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا!
جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی”
- عمران خان
#LongMarchOnSeptember27th
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
@Aleema_KhanPK
وزیراعلی سہیل آفریدی کے پنجاب سے جانے کے بعد بھی پنجاب پولیس کی فرعونیت جاری ہے، جو جو سہیل آفریدی کے استقبال کیلئے نکلے تھے ان ورکرز کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، یہ سیالکوٹ کے مناظر ہے تحریک انصاف کے کارکنان کے گھروں پر پنجاب پولیس ریڈ کررہی ہے!
#ThiefMinister
“ہمارے والد کے ساتھ انتہائی ظالمانہ سلوک، آرمی چیف عاصم منیر کے ذاتی عناد کی وجہ سے کیا جا رہا ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ وہ ہمارے والد کو جیل میں آہستہ آہستہ مارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہاں ذاتی عناد رکھنے والا شخص عاصم منیر ہے۔”
عمران خان کے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان @Kasim_Khan_1999 کا برطانوی جریدے “دی گارڈئین” کے ساتھ انٹرویو
𝐋𝐢𝐧𝐤: https://t.co/5tB7844YEU…
#FreeImranKhan
یہ میرا گھر ہے جس کو تباہ کر دیا گیا قصور یہ کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کو گھر میں رہنے کے لیے جگہ کیوں دی ؟ میرے گھر کی کوئی چیز نہیں چھوڑی قیمتی چیزیں ساتھ لے گئے ہیں
میں کس سے سوال کروں ؟ کونسی عدالت مجھے انصاف دے گی کیا کوئی عدالت پوچھے گی ؟ یہ کس نےکیا ہے ایجنسیوں نے کیا ہے پولیس نے کیا ہے پنجاب حکومت نےکیاہے کس کیا ہے ؟
ہمارے خون پسینے کی کمائی سے بنا گھر آج تباہ کر دیا گیا۔ ہم کہاں رہیں کہاں جائیں؟ کوئی ہے مجھے انصاف دلوانے والا؟
پہلے انہوں نے میرے گھر پر چھاپہ مارا، پھر بھی ان کی نفرت کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی… پھر رات کو 25-30 درندے ہاتھوں میں ہتھوڑے لیے میرے گھر میں داخل ہوئے۔ انہوں نے میری آنکھوں کے سامنے میری زندگی بھر کی کمائی اور یادوں کو لمحات میں چکنا چور کر دیا، میرے گھر کی ایک ایک چیز توڑ کر ویران کر دی۔
انصاف اور قانون کو اپنے جوتوں تلے روندتے ہوئے وہ نہ صرف میرا گھر تباہ کر گئے بلکہ سب کچھ لوٹ کر لے گئے۔ میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے… کیا یہی قانون ہے؟ کیا یہی انصاف ہے؟
میں اب کس کے آگے دامن پھیلاؤں؟ کون میری بکھری ہوئی زندگی اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کی فریاد سنے گا؟ کون میرے اس ناقابلِ تلافی نقصان کا مداوا کرے گا؟ جن محافظوں کی چھاؤں میں مجھے محفوظ ہونا تھا، وہی میرے گھر کی تبا ہی اور بربادی کے باعث بن گئے…
"یہ میرا گھر ہے جس کو تباہ کر دیا گیا قصور یہ کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کو گھر میں رہنے کے لیے جگہ کیوں دی ؟ میرے گھر کی کوئی چیز نہیں چھوڑی قیمتی چیزیں ساتھ لے گئے ہیں ، میں کس سے سوال کروں ؟ کونسی عدالت مجھے انصاف دے گی کیا کوئی عدالت پوچھے گی ؟ یہ کس نےکیا ہے ایجنسیوں نے کیا ہے پولیس نے کیا ہے پنجاب حکومت نےکیاہے کس کیا ہے ؟ ہمارے خون پسینے کی کمائی سے بنا گھر آج تباہ کر دیا گیا۔ ہم کہاں رہیں کہاں جائیں؟ کوئی ہے جو مجھے انصاف دلوانے والا؟"حسین رفیق( نیا پاکستان )
@Husnainrafique_@Naya__Pakistan_
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
عمران خان کو جیل میں ’’آہستہ آہستہ مارا‘‘ جا رہا ہے!
سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے پاکستان کے طاقتور آرمی چیف عاصم منیر پر اپنے والد کے خلاف ’’ذاتی انتقام‘‘ کی کارروائیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عمران خان کو جیل میں ’’آہستہ آہستہ مارا‘‘ جا رہا ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین کو لندن سے انٹرویو دیتے ہوئے 27 سالہ قاسم خان اور 29 سالہ سلیمان خان نے کہا کہ وہ اپنے والد کی صحت کے حوالے سے انتہائی فکرمند ہیں اور جیل میں عمران خان کو جن حالات میں رکھا گیا ہے وہ ’’ذہنی اور جسمانی تشدد کی ایک شکل‘‘ ہیں۔
سلیمان خان نے کہا کہ ان کے والد ایک چھوٹے سے 6 بائی 8 فٹ کے سیل میں انسانی رابطے کے بغیر قید ہیں، انہیں کئی ماہ سے نئی کتابیں نہیں دی گئیں اور نہ ہی انہیں اپنے خاندان سے ملاقات یا بات کرنے کی اجازت دی گئی ہے، عمران خان کو کسی غیر جانب دار ڈاکٹر سے بھی معائنہ کرانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
سلیمان خان نے کہا کہ ان کے والد کی آنکھ کی ایک بیماری کو کئی ماہ تک نظر انداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں غالباً ان کی ایک آنکھ کی بینائی تقریباً ختم ہوچکی ہے، ان کا کہنا تھا کہ خاندان کو بتایا گیا ہے کہ 73 سالہ عمران خان میں ہائی بلڈ پریشر کی بھی تشخیص ہوئی ہے۔
قاسم خان نے کہا کہ سب سے بڑھ کر ان کی خواہش ہے کہ انہیں اپنے والد سے بات کرنے کا موقع ملے تاکہ وہ یقین کرسکیں کہ وہ خیریت سے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ وہ انہیں وہاں آہستہ آہستہ مارنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
عمران خان کے بیٹوں نے اپنے والد کے ساتھ مبینہ سخت رویے کو آرمی چیف عاصم منیر کی ’’ذاتی دشمنی‘‘ سے جوڑا، سلیمان خان کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ سخت سلوک ذاتی رنجش کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے اور عمران خان کے ساتھ سخت رویے کے احکامات عاصم منیر کی جانب سے دیے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تھا اور دونوں کے درمیان اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے، 2022 میں عاصم منیر کے آرمی چیف بننے کے بعد عمران خان کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
قاسم خان نے بھی کہا کہ ’’اصل ذاتی انتقام آرمی چیف عاصم منیر کی جانب سے ہے‘‘ اور انہیں خدشہ ہے کہ جیسے ہی عمران خان کے معاملے پر بین الاقوامی دباؤ کم ہوگا، ان کے والد پر مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
عمران خان کے بیٹوں نے بتایا کہ وہ پاکستان آکر اپنے والد کی رہائی کے لیے آواز اٹھانا چاہتے ہیں تاہم انہیں پاکستان آنے کے لیے ویزے تاحال جاری نہیں کیے گئے، انہوں نے ویزوں کے لیے نو ماہ سے زائد عرصہ قبل درخواستیں دی تھیں۔
دونوں بھائیوں نے واضح کیا کہ ان کا پاکستان کی سیاست میں آنے یا اپنے والد کی عدم موجودگی میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سنبھالنے کا کوئی ارادہ نہیں، سلیمان خان نے کہا کہ وہ طویل مدت میں پاکستان کی سیاست میں شامل نہیں ہونا چاہتے، انہوں نے کہا کہ ان کے والد ہمیشہ کہتے تھے کہ پاکستانی سیاست کا ایک بڑا مسئلہ موروثی سیاست ہے اور گزشتہ 40 برس سے اقتدار دو خاندانوں کے درمیان گردش کرتا رہا ہے، جو سیاسی نظام کی خرابی کی علامت ہے۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
He is not a terrorist he is Agha Sheikh Sarver a journalist in Pakistan. His crime is to report from the ground and to show the public sentiments towards military regime in Pakistan. Please raise your voice against this tyranny in Pakistan. @UNHumanRights@IFJGlobal@CPJAsia@globalfreemedia@RSF_inter
عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔یہ سابق وزیرِاعظم عمران خان کے انسانی حقوق اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے حوالے سے سنگین سوال ہے۔یہ قانون کی حکمرانی کے بجائے حکمرانوں کا قانون ہے۔یہ طرزِ عمل فاشزم ہے، اس کی شدید مذمت کرتا ہوں۔
"ہم اپنی بساط بھر کوشش کر رہے ہیں لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا۔"
عمران خان کے بیٹوں، قاسم اور سلیمان کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی حفاظت سے متعلق ان کی درخواستوں کے سلسلے میں برطانوی حکومت کی جانب سے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔
پاکستانی حکومت نے اس بات کی تردید کی ہے کہ سابق وزیراعظم کو سخت تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔
مائیکل ہولڈنگ 🚨
قتل کے مرتکب لوگوں کے ساتھ بھی ایسا سلوک نہیں کیا جاتا، جیسا عمران خان کے ساتھ کیا جا رہا ہے، میں عمران خان کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ کس قسم کے انسان ہیں
”عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پٹیشن کا ایک لنک شیئر کرکے پاکستانیوں سے درخواست کی ہے کہ سب اس پر دستخط کرکے اپنی آواز اٹھائیں۔ سپریم کورٹ نے عمران خان کی قید تنہائی ختم کرنے، شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے، ملاقاتیں بحال کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کے احکامات دیئے تھے۔ عدالتی احکامات پر ابھی تک کوئی عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ 16 ستمبر کو سپریم کورٹ میں اب توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہو گی۔“ عمران ریاض خان
@ImranRiazKhan
#FreeImranKhan
مجھے انتہائی افسوس ہو رہا ہے ان لوگوں پر جو اس وقت انکل اشتیاق خان کی وفات کے بارے میں بات نہیں کر رہے یہ ایک طبعی موت نہیں نا یہ حادثاتی موت تھی یہ ایک بہیمانہ قتل ہے💔