سردار عبدالرحمن کھیتران نے ایک گھنٹے میں وہ کر دکھایا جو بلوچستان کی اصل تعریف ہے
اس نے پاکستان مخالف پراکسی @MahrangBaloch_ کو اپنے علاقے کے جڑ سے اکھاڑ پھینکا بلوچستان کی ماؤں بہنوں بیٹیوں کو یرغمال بنانے والا ہر حربہ ہر چال اس مرد مجاہد کے سامنے خاک میں مل گئی اور مارنگ لانگو فرار ہوئی
سردار کھیتران وہ مرد مجاہد ہے جو کسی کارڈ کے پیچھے کسی کو چھپنے نہیں دیتا اور نہ کسی خاتون اور بلوچیت کارڈ سے بلیک میل ہوتا ہے وہ دشمن کو اس کی زبان میں جواب دیتا ہے
بہت ہو گیا بیٹی اور ہمدردی کا ڈھونگ جو پاکستان کے خلاف کھڑا ہوگا وہ چاہے کوئی بھی روپ دھار لے اس کے لیے کوئی رعایت نہیں اور اس کے ساتھ ایسا ہی کرنا چاہیے جیسے سردار نے کیا
یہی ہے اصل غلبہِ پاکستانیت سلام اس جرأت کو جو دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہے یہ بلوچستان پاکستان کا تھا پاکستان کا ہے اور پاکستان کا ہی رہے گا
بلوچستانی نوابوں اور بلوچستان کے اصل بہادر سرداروں کی نظر میں دہشت گرد عبدالغفار لانگو کی بیٹی دہشت گرد ماہ رنگ لانگو کی صرف یہ حیثیت ہے
@OfficialDGISPR@MohsinnaqviC42
#عشق_عمران_وڑ_گیا
#دھرنی_وڑ_گئی
#izvēliesnākotni
ترجمان یمنی مسلح افواج:
”ہم گمراہی کے شکار تمام افراد اور دہشتگرد حوثی ملیشیا کی صفوں میں لڑنے والے جنگجوؤں سے مخلصانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ہتھیار ڈال دیں اور جلد از جلد بحفاظت اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں، تاکہ اُن کا خون بہنے سے بچایا جا سکے اور وہ خود کو ایک ناکام ہلاکت خیزی سے دور رکھیں جو صرف تخریبی ایجنڈوں کی خدمت کرتی ہے۔“
جن علاقوں میں عصر کے بعد سفر ہی ممکن نہیں، جہاں پولیس اور سیکورٹی فورسز پر حملے ہوتے ہوں وہاں حامد میر صاحب کی پوسٹ کے مطابق پی ٹی آئی کا قافلہ رات کے وقت بھی رواں دواں ہے نہ دہشت گردی کا ڈر ہے نہ ڈکیتی کا۔
یہ اعتماد اور تحفظ اسی صورت مل سکتا ہے جب آپ خود دہشت گرد، قاتل اور ڈکیت ہوں۔
UN Secretary General @antonioguterres to arrive in Pakistan on 6th October -- During the visit he will meet Pakistan's PM @CMShehbaz, Deputy PM and Foreign Minister @MIshaqDar50, President @AAliZardari, will also visit UNMOGIP HQs as well announces UN Sect Gen's Spox.
جب منتخب نمائندہ عوام کی خدمت کے بجائے ‘عشقِ عمران’ میں اندھا ہو جائے، وہ نمائندہ نہیں بلکہ ایک سیاسی مسخرہ ہے عوام نے ووٹ خدمت کے لیے دیا تھا، شخصیت پرستی، غلامی اور کلٹ کلچر نبھانے کے لیے نہیں ایسے لوگ جمہوریت نہیں، جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں
لانگ مارچ میں موجود کارکنان کی شاہد خٹک اور دیگر قیادت کے خلاف چارج شیٹ۔۔
یہ لوگ صرف اپنی جیبیں بھررہے ہیں، نہ عمران خان کی رہائی کے لئے کچھ کیا نہ ہی ترقیاتی کام ۔۔۔
یہ تحریکِ انصاف کے اپنے کارکنان کہہ رہے ہیں ۔۔۔
وزیر اعلی پنجاب نے نا صرف پنجاب بلکہ پاکستان کے لئے اعزاز حاصل کیا ہے،37 سالوں سے چلنے والے ان ایوارڈز میں اس مرتبہ ۱۰۰ پراجیکٹس میں سے پہلے نمبر پر اپنی چھت اپنا گھر آیا ہے،جس کا اعلان بین الاقوامی طور پر کیا جارہا ہے
#ApnichatApnaGhar#UNHabitat
Proud moment for Punjab and Pakistan! 🇵🇰
On World Habitat Day, Chief Minister Maryam Nawaz Sharif receives the prestigious UN-Habitat Scroll of Honour Award in Oman for the groundbreaking "Apni Chhat, Apna Ghar" project, making Punjab top the list after 19 years!
More than 200,000 low-income families have already received loans under the programme, with a target to build 500,000 homes in five years.
#ApniChhatApnaGhar
ایک اور حسد سے بھرا جھوٹ،آپکے نیا پاکستان کا وجود تو خود کاغذات میں نہیں ہے،غلط پروپیگنڈا آپکو سوٹ نہیں کرتا،کاش تھوڑی سی ریسرچ کرلیتے،یہ موکلوں کو نظر آنے والے فراڈ نیا پاکستان گھر نہیں ہیں
یہ پنجاب کا اپنا فنانس ماڈل پروگرام ہے،اتنا جلاپہ اچھا نہیں ہوتا
آپکو چلینج ہے اپنے پروگرام کے گھر دکھائیں،ہمارے تو دولاکھ لوگ اور گھر ہر جگہ نظر آتے ہیں
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں آئین و قانون کی پامالیوں اور مسلح جتھوں کی موجودگی کے پیش نظر تحریک انصاف کے وزیرِ اعلی سہیل آفریدی پر نااہلی کی تلوار لٹکنے لگی۔
♦️ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے عدالت کے واضح احکامات کے باوجود لانگ مارچ میں سرکاری ہیلی کاپٹر اور دیگر سرکاری وسائل کا بےدریغ استعمال کرکے توہین عدالت کی جس پر سہیل آفریدی کو آرٹیکل 204 کے تحت مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔۔۔۔
♦️ سہیل آفریدی نے لکی مروت میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کے دوران قومی سلامتی کے حساس موضوع پر غیر ذمہ دارانہ گفتگو کرتے ہوئے ریاستی اداروں، دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قومی سلامتی کی پالیسی اور سیکیورٹی فورسز کے شہداء کی تذلیل کی جس پر سہیل آفریدی کے خلاف آرٹیکل 130(5) اور آرٹیکل 06 کے تحت کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے
♦️ پی ٹی آئی کے مارچ میں جگہ جگہ غیر قانونی اسلحے کی نمائش اور مسلح افراد کو بھی دیکھا گیا جو پاکستان آرمز آرڈیننس 1965 کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں شمار ہوتی ہے جس پر پی ٹی آئی قیادت اور بالخصوص سہیل آفریدی کے خلاف آرمز آرڈیننس کی دفعات 8, 9, 11-B اور 13 کے تحت قانونی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے
♦️ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں شامل انتشاری ورکرز نے نہ صرف عوامی املاک کو نقصان پہنچایا بلکہ پولیس پر پتھراؤ کرکے دنگا فساد مچانے کی بھی پھرپور کوشش کی جن کے خلاف وزیر داخلہ محسن نقوی کے احکامات کی روشنی میں پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 147, 148 اور 149 کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے گی
عوام الناس اور بالخصوص نوجوان طبقے کو مطلع کیا جاتا ہے کہ صوبے کے وزیر اعلی اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریاں بھول کر صرف ایک غیرذمہ دار نوجوان بن چکے ہیں لہذا آپ ایک قانون شکن جتھے کا حصہ بن کر اپنا مستقبل داؤ پر لگانے کی بجائے اپنی توجہ مثبت سرگرمیوں پر مرکوز کریں۔
اب کوئی منافق میر، کوئی صدیق چوئی، زیشان دنبہ، کوئی ثمینہ پاشا اور دو ٹکے کے ڈالر خور اپنی زبان یہاں نہیں کھولیں گے..
چوک چدھڑ کے رہائشی آٹھ پنجابی مزدوروں کی بلوچستان ضلع وکی میں دہشت گرد بی ایل اے کے ہاتھوں اغوا اور ان پنجابی مغویوں کی ٹارگٹ کلنگ کی دھمکی کے بیانات۔
آج تحریکِ انصاف کی یہ دلیل مسلسل سننے کو ملی کہ ’’ہمیں دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنانے نہیں دی گئی۔ اس جھوٹے دعوے پر میرے تحریک انصاف سے 8 بنیادی سوالات ہیں:
1- گزشتہ 13 سال سے خیبر پختونخوا میں آپ کی حکومت رہی، وفاق میں بھی آپ اقتدار میں رہے۔ آپ کو دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنانے سے کس نے روکا؟؟ NAP پر عمل سے کون سے پالیسی روک رہی ہے ؟ Apex committe میٹنگز بلانے سے کونسی پالیسی روک رہی.
2- دہشتگرد کو دہشتگرد کہنا، افغانستان سے آنے والے دہشتگردوں کی مذمت کرنا، پاکستان فوج اور عوام پر حملوں کے خلاف کھل کر افواج کے ساتھ کھڑا ہونے کے لئے آپکو کس پالیسی کی ضرورت ہے؟
3- حالیہ دنوں میں افغانستان کی جانب سے کوہاٹ کے علاقے میں ڈرون حملے کیے گئے۔ آپ کی صوبائی حکومت نے ان حملوں کی کھل کر مذمت کیوں نہیں کی؟ کونسی پالیسی آپ کو روکتی رہی ؟
4- افغان سرزمین سے پاکستان کی سرحدی چوکیوں اور فوجی جوانوں پر فائرنگ ہوتی ہے، دراندازی ہوتی ہے اور دہشتگردوں کی براہِ راست یا بالواسطہ معاونت کی جاتی ہے۔ آپ نے آج تک کتنی مرتبہ افغان ریجیم کا نام لے کر ان سرحدی خلاف ورزیوں پر احتجاج یا مذمت کی؟ اس کے لیے کس ’’پالیسی‘‘ کی ضرورت ہے؟
5- آپ کے اپنے صوبے میں دہشتگردی کے لیے معاون غیرقانونی معیشت جیسا کے بھتہ خوری، اسمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے گزشتہ 13 سال میں آپ نے کون سے عملی اقدامات کیے اور اگر کیے تو وہ بتائیں ؟
6- دہشت گردی کے خلاف برسر پیکار سیکورٹی فورسز روزانہ کی بنیادوں پر اپنی قربانیاں دے رہی ہیں تم نے ان فورسز سے کتنی دفعہ انکی پوسٹوں پر جا کر ان سے اظہار یکجہتی کیا؟اور تو اور خیبر پختونخوا کے عوام جو خود بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں تم نے کتنی دفعہ جا کر ان یتیموں کے سر پر دست شفقت رکھا؟
7- دہشت گردی کے خلاف ریاست پاکستان کے بیانیے کو تم مختلف ہتھکنڈوں اور طریقوں سے کنفیوز کیوں کرتے ہو۔ تم خوارج کو خوارج کیوں نہیں کہتے اور ان خوارج کا نام لے کر انکی مذمت کیوں نہیں کرتے؟ اسکے۔ لئے کونسی پالیسی۔ چاہیے ؟
8- ان تمام باتوں سے صرف ایک اندازہ لگایا جاسکتا ھے کہ 13 سال کی حکمرانی میں ۔
۱- آپ نےکرپشن نے کو بے پناہ فروغ دیا صوبے کے وسائل کو دونوں ھاتھوں سے لوٹا۔ سوشل میڈیا پہ آپکے قومی و صوبائی ممبران ایک دوسرے پہ کھل کر کروڑوں اربوں لوٹنے کے الزام لگاتے ھیں ۔ ایک خاتون MNA کھل کر میڈیا پہ بیرون ملک سے آنے والے کروڑوں پارٹی تنظیم پہ خربرد کرنے کا الزام لگاتی ھیں ۔
اب یہ چورن نہیں بکتا ہے تمھارے مقامی لوگ سہولت کاری کریں روٹیاں بنا بنا کر کھلائیں پھر ملٹری آپریشن میں ڈرون حملوں سے مقامی بھی رگڑیں جاتے ہیں
سہولتکاری چھوڑ دو دہشتگردی ختم ہو جائے گی ڈرون حملے بھی بند ہو جائیں گے