چائینہ میں تعلیم کےلیے جانے والی خانپور کی فرحانہ مشتاق طبعیت ناساز ہونے کے باعث وفات پا گئیں،،، اب چائینہ میں پاکستان کا سفارت خانہ فیملی سے 32 لاکھ روپے ڈیڈ باڈی کے لانے اور دیگر اخراجات کی مد میں مانگ رہابہے،،، وزرات خارجہ حکام سے اپیل ہے کہ انسانی ہمداری کی بنیاد پر بچی کی ڈیڈ باڈی فی الفور واپس لانے کےلیے اقدامات کیے جائیں،،مرحومہ بچی کی فیملی مالی طور پر سکت نہیں رکھتی اور جوان بیٹی کے مرنے کا غم تو ایک طرف دسری جانب سفارت خانہ کا سفاکانہ رویہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔۔۔
0300 6740326
Her father number
اس مہینے کےبجلی کےبل بڑے فساد کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں ۔حکومت کو چاہئے کہ وہ سرکاری ملازمین ، افسران، ججوں، جرنیلوں اور دیگر کی مفت بجلی کی سہولت ختم کرکے اس ماہ غریبوں کے بجلی بلوں پر عائد تمام ٹیکسز واپس لیں۔زندگی بھر مفت بجلی استعمال کرنے والوں سےبل لےکر اس کمی کو پورا کیاجائے۔
سنہ 1954 میں بھارت میں بچوں کیلئے آزادی کے موضوع پر ایک فلم بنائی گئی تھی جگریتی کے نام سے۔ اسکے کچھ سال بعد پاکستان میں اسکا ہو بہو چربہ فلم بنائی گئی بیداری کے نام سے۔ یہاں تک کہ گ��نوں کی دھنیں بھی بالکل وہی تھیں۔ مثلاً انڈین فلم کا گانا تھا آؤ بچو تمہیں دکھائیں جھانسی ہندوستان کی، جبکہ پاکستانی فلم کا گانا تھا آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی۔
خیر کل جب انڈیا کے چاند پر جانے کی خبر دیکھی تو اسی فلم کا ایک اور گانا یاد آگیا جس میں دونوں ملکوں کی ترجیحات انیس سو پچاس کی دھائی میں ہی واضع نظر آتی ہیں۔
ہندوستانی گانے کے بول ہیں:
اب وقت آگیا ہے میرے ہنستے ہوئے پھولو
اٹھو چھلانگ مار کے آکاش کو چھولو
تم گاڑ دو گگن پہ ترنگا اچھال کے
اس دیش کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
جبکہ پاکستانی گانے کے بول ہیں:
تم راحت و آرام کے جھولے میں نا جھولو
کانٹوں پہ ہے چلنا میرے ہنستے ہوئے پھولو
لینا ابھی کشمیر ہے یہ بات نا بھولو
کشمیر پہ لہرانا ہے جھنڈا اچھال کے
اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
نتیجہ: وہ آکاش پہ ترنگا لہرارہے ہیں اور ہم کشمیر پر اچھل کود کر رہے ہیں
ایڈین گانا:
https://t.co/pQH5APFLZO
پاکستانی گانا:
https://t.co/rU1iUXL4ap