مریم نواز کہتی تھی کہ عمران خان کی ناجائز بیٹی ہـے پھر اُس کا اپنا ناجائز بھائی نکل آیا،
مفتی کفایت اللہ کہتا تھا کہ عمران خان زانی ہـے پھر اُس کی اپنی فحش ویڈیو آئی،
خواجہ آصف کہتا تھا کہ عمران خان نے قوم کے جوانوں کی تربیت بگاڑ دی پھر اُس کی اپنی بیٹی کی آدھی ننگی ڈانس کرتی ویڈیو سب نے دیکھی۔
نجم سیٹھی کہتا تھا عمران خان مغرب زدہ ہے اور مشرقی روایات بھول گیا مگر اُس کے اپنے بیٹے نے کسی لڑکے سے شادی کرلی۔
پرویز رشید کہتا تھا کہ عمران خان کا اخلاق ٹھیک نہیں پھر اُس کی اپنی ننگی ویڈیو کال وائرل ہوئی۔
اور جب خان کو گولیاں لگیں تو حافظ حمداللہ طنزیہ کہتا تھا کہ خان کو بندوق کی نہیں پیناڈول کی گولیاں لگی ہیں اور پھر خود دہشت گردی کا شکار ہو گئے۔
یہ لوگ شاید یہ بھول گئے تھے کہ خان ایک درویش صفت اور ملنگ خو انسان ہے، خان صاحب خود تو ان تمام الزامات پر خاموش رہـے اور اللہ کی عدالت میں اپنا کیس چھوڑتے گئے اور پھر سب نے دیکھا کہ قُدرت نے کیسے اِن لوگوں سے خان کا بدلہ لیا۔۔۔۔
بـے شک اَللّٰهُ الحق ہـے۔
جون ایلیا نے کہا تھا:
’’بات نہیں کی گئی، بات نہیں سنی گئی۔‘‘
شاید ہمارا اصل المیہ بھی یہی ہے۔ یہاں اختلاف سے پہلے سوال کی حرمت پامال ہوئی ہے۔ ہمیں جواب دینا نہیں سکھایا گیا، ہمیں سوال کرنے والے کو خاموش کرنا سکھایا گیا ہے۔
مسجد میں مولوی یا مفتی سے سوال کیجیے، مندر میں پنڈت سے، کُنِشت میں ربی سے، کلیسا میں پوپ یا پادری سے؛ سوال اگر مروجہ تعبیر کی لکیر سے ذرا باہر نکل جائے تو جواب بعد میں آتا ہے، پہلے سوال کرنے والے کا ایمان، نیت اور کردار زیرِ بحث آ جاتا ہے۔ گویا مسئلہ یہ نہیں کہ سوال کیا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ تم نے سوال کیا کیوں؟
یہی رویہ مذہب سے نکل کر ہمارے پورے سماج، سیاست اور ریاست میں سرایت کر چکا ہے۔ طاقتور سے سوال گستاخی ہے، افسر سے سوال نافرمانی، سیاسی رہنما سے سوال بے وفائی اور مقتدر سے سوال بغاوت۔
نوآبادیاتی عہد کا دیا ہوا استبدادی انتظامی ڈھانچہ آج بھی بڑی حد تک اسی نفسیات پر قائم ہے۔ جنہیں نام Civil Servants کا دیا گیا، ان کے طرزِ اختیار میں کہیں نہ کہیں وائسرائے کے نمائندے کی پرچھائیں اب بھی موجود ہے۔ عوام، جن کے ٹیکس سے ریاست اور اس کے اہلکار چلتے ہیں، انہی عوام کو سوال کرنے سے پہلے اپنا لہجہ، مرتبہ اور ’’اوقات‘‘ دیکھنی پڑتی ہے۔
اور ہمارے جمہوریت پسند بھی اس بیماری سے محفوظ نہیں۔ جو ساری عمر جمہوریت، آئین اور عوامی حاکمیت کے راگ الاپتے ہیں، ان کی اپنی جماعت کے اندر موروثیت، شخصی آمریت، غیر جمہوری فیصلوں یا قیادت کے طرزِ عمل پر سوال اٹھا دیجیے تو جمہوریت فوراً ختم اور اطاعت شروع ہو جاتی ہے۔ انہیں جمہوریت پسند ہے، سوال کرنے والا جمہوری آدمی نہیں۔
اصل بحران جواب کا نہیں، حرمتِ سوال کا ہے۔
سوال غلط نہیں ہوتا۔ اس کا مفروضہ غلط ہو سکتا ہے، معلومات ناقص ہو سکتی ہیں، نتیجہ محلِ نظر ہو سکتا ہے، مگر سوال پوچھنے کا حق غلط نہیں ہو سکتا۔ علم کی پوری تاریخ دراصل ان سوالوں کی تاریخ ہے جو اپنے اپنے زمانے میں نامناسب، گستاخانہ، احمقانہ یا خطرناک سمجھے گئے۔
اور سوال کی سب سے خطرناک صفت یہی ہے کہ اسے خاموش تو کیا جا سکتا ہے، ختم نہیں کیا جا سکتا۔آپ سوال کرنے والے کو مجلس سے نکال سکتے ہیں، منبر سے روک سکتے ہیں، جماعت سے فارغ کر سکتے ہیں، عہدے سے ہٹا سکتے ہیں، اس کی آواز دبا سکتے ہیں؛ مگر جس سوال کا جواب موجود نہ ہو، اسے دفن نہیں کر سکتے۔
وہ سوال وہیں رہتا ہے۔
وقت کی تہوں میں۔اور پھر کسی دن کسی دوسرے شخص، کسی دوسری نسل، کسی دوسرے لہجے میں واپس آتا ہے۔اور اس مرتبہ شاید صرف جواب نہیں مانگتا، حساب بھی مانگتا ہے۔
سوال پوچھتے رہیں بھائی @umardarazgondal
@iihtishamm میرے خیال میں اس ٹویٹ میں کہیں بھی پختونوں کو ٹارگٹ نہیں کیا گیا۔ ایک معاشرتی ناسور/ بیماری ہے جو ہر معاشرے میں ہے۔ قوم سے بالاتر۔ آپ نے جو کیسز بتائے ہر صوبے کا نام لکھ کر، کہ پنجاب میں زیادہ ریپ ہوئے ہیں اور کے پی میں کم؟ تو کیا کے پی بازی لے گیا؟ جرم جرم ہوتا ہے جہاں بھی ہو۔
پنکی اگر عمران خان پر جھوٹا الزام لگانے کی بات کررہی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے کسی طور پر بھی ہمدردی دکھای جاۓ۔
اس عورت نے بہت گھر اُجاڑے ہیں۔ باپوں نے جوان بیٹوں کے لاشے اُٹھاۓ ہیں۔ ماؤں نے جوان بیٹیوں کی لاشوں پر ماتم بپا کیا ہے۔
یہ عورت ایک شیطان سے بھی زیادہ ہے۔ شیطان فقط بہکاتا ہے۔ یہ تو موت کا سامان فراہم کرتی تھی۔
اس پر جتنی لعنت بھیجی جاۓ وہ کم ہے۔ اور ایک ڈرگ ڈیلر ہمیشہ ایک شاطر ترین جھوٹا اور شیطانی دماغ کا مالک ہوتا ہے۔ یہ اس کے کاروبار کی ضرورت ہوتی ہے کہ بہترین جھوٹ بناۓ اور شیطانی ذہن سے بناۓ۔
شاید کچھ نہ ہوا ہو اور یہ ہمدردی حاصل کرنے کے لئیے بنی گالہ کا نام لے رہی ہو کہ لوگ اس کی شیطانی حرکات کو بھول کر ایک نئے موضوع پر بات کرنا شروع کردیں کہ اس بیچاری پر دیکھو کتنا تشدُّد ہورہا ہے بیچاری سے جھوٹ بُلوانے کے لئیے۔
شاید ایسا ہو یا شاید ایسا نہ ہو۔ مگر ہر صُورت میں یہ عورت ایک شیطانی عورت ہے۔ موت کی سوداگر ہے۔ ایک لمحے کے لئیے بھی رحم کے قابل نہیں ہے۔
بس اتنا یاد رکھیں۔
@Mrwhosetheboss The major reason of switching back to wired earphones is that the wireless earphones can be hacked via Bluetooth and people can listen to your conversation. Second, the radiation. Third, microphone quality.
کھوتے دماغوں کو بتایا گیا کہ جنگ کی وجہ سے سارے ممالک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا رہے ہیں، ان جاہلوں نے خود ریسرچ کرنے کے بجائے ‘رینٹ اے’ صحافیوں اور چوروں کی یہ دلیل مان لی۔ آج امریکا میں پیٹرول کی قیمت پاکستانی کرنسی میں 290 روپے فی لیٹر ہے، پڑوسی ملک انڈیا میں 103 روپے فی لیٹر ہے جو پاکستانی روپے میں 309 روپے بنتی ہے۔ افغانستان میں 61 افغانی یعنی پاکستانی روپے میں 265 روپے فی لیٹر ہے۔ بی بی سی کے مطابق عالمی منڈی میں اضافے کے باوجود پاکستان کو پیٹرول 246 روپے فی لیٹر ملتا ہے، اور حکومت ہر لیٹر پر تقریباً 200 وصول کرکے 458 روپے فی لیٹر بیچ رہی ہے۔ اس ٹیکس سے جو پیسا اکھٹا ہوتا ہے اس پیسے سے ایک مریم نواز کے لیے گیارہ ارب کا جہاز خریدا گیا، وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہیں بڑھائی گئیں، چیئرمین سینیٹ نے 9 کروڑ کی گاڑی خرید لی۔ لالچ اور جاہلیت اس ملک کا بڑے مسائل ہیں، ٹاؤٹ صحافی چند پیسوں کی خاطر جھوٹ پھیلاتے ہیں اور جاہل پٹواری اس پر یقین کرلیتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی بڑا مسلئہ وہ ہیں جنہوں نے یہ عوام دشمن نظام صرف اس لیے کھڑا کیا ہے کیونکہ یہ جماعتیں بوٹ پالش اچھا کرتی ہیں اور انکی ہر بات سر جھکا کر مان لیتی ہیں۔ چالیس سال سے یہ جماعتیں اقتدار میں ہیں، ملک تباہ ہوگیا، عوام پِس گئے لیکن یہ میڈیا اور ٹاؤٹ صحافیوں کو پیسے کھلا کر عوام کو بتاتے ہیں کہ ملک اونچی اڑان بھر رہا ہے اور کھوتے یقین بھی کرلیتے ہیں۔
Today, I had the honour of speaking to the 47 countries that comprise the @UN#HumanRightsCouncil urging the immediate release of my father @imrankhanpti and all #Pakistan’s #politicalprisoners. Along with this, I want to be very clear. Like my father, I fully support maintaining GSP+ as the people of #Pakistan should never be punished for the actions of its leaders. But the Pakistani regime must also fully comply with the 27 treaties it committed to follow to obtain this benefit, including the International Covenant on Civil and Political Rights and Convention Against Torture. @UN@ptiofficial #HumanRights #ImranKhanUnlawfullyDetained