چیف جسٹس قاضی فائز عیسی وہ صاف شفاف آسمان کی طرح تھے اور ہیں کہ جن کی طرف جس جس نے جب جب بھی تھوکنے کی کوشش کی تو تھوک خود ان کے منہ پر آ گری
Nation Always Love & Respect Faez Isa
کرکٹ ورلڈ کپ وغیرہ نو ملکوں کا ایک نو آبادیاتی کھیل ہے جس میں جیتننے اور ورلڈ کپ جیتنے کے لا تعداد امکانات موجود ہیں جبکہ عالمی ایٹمی جنگ رکوانا نا ممکنات کی infinity میں سے محض “ایک” امکان کو ممکن بنانا ہے ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بڑا اسٹار اس وقت دنیا میں کوئ نہیں پاکستان زندہ باد
اگر آپ بھول گئے ہیں تو دوبارہ یاد دلا دوں کہ ہم تو تب سے لکھ رہے تھے کہ نو مئی دراصل جنرل عاصم نُنیر کے خلاف ایک ناکام کُو کی ناکام سازش تھی، جسے اُس وقت کی فوجی کمان نے اُن کی ملک میں غیر موجودگی کے باوجود ناکام بنایا۔
مت بھولیں کہ یہ سب اگلی صفوں کے بلوائی رھے اور ہمیشہ یہی کرینگے!
کُچھ پکڑے گئے، کُچھ معافی مانگ کے منافقین مکہ کی طرح اگلے وار کا انتظار کررہے، کُچھ فرار ہو گئے اور باہر سے افواہیں پھیلا رہے، کُچھ اب دوبارہ دشمن کے میڈیا سے چارج ہو گئے، مقصد سب کا یہی ہے کہ حافظ صاحب کو مائنس کرو تاکہ عمران خان کے فاشزم کو روکنے والا کوئی نہ ہو۔
قسمت کا دھنی دیکھنا ہے؟؟ تو نواز شریف کو دیکھیں۔۔۔
ختم ہو گئے اس شخص کی سیاست کو ختم کرنے والے۔۔
کہاں ہے فاروق لغاری؟ کہاں ہے غلام اسحاق خان؟
کہاں ہے پرویز مشرف؟ کہاں ہے ثاقب نثار؟ کہاں ہے اعجاز الاحسن؟ کہاں ہے اعجاز افضل خان؟ کہاں ہے کھوسہ؟ کہاں ہے بندیال؟ کہاں ہے عظمت سعید کہاں ہے واجد ضیا؟ کہاں ہے فیض حمید؟ کہاب ہے باجوہ؟ کہاں ہے ظہیر الاسلام؟ کہاں ہے حمید گُل؟؟
کہاں ہے اطہر من اللہ؟ اور کہاں ہے ان سب کا پالتو بیٹا عمران نجاست؟؟؟
سب ختم ہو گئے۔ ماضی کی گندی ٹوکری میں بند ہو گئے
نواز شریف آج بھی وہیں کا وہیں ہے۔۔
نواز شریف واقعی قسمت کا دھنی ہے۔۔۔
#پاکستان_کو_نواز_دو
عمران خان کی بےمثال سفارت کاری
سعودی عرب
محمد بن سلمان نے اپنا جہاز دے کر امریکہ بھیجا جہاں امریکیوں کو خوش کرنے سعودی عرب کی برائیاں کیں۔ واپسی پر محمد بن سلمان نے بےعزت کر کے جہاز سے اتار دیا کہ اکانومی میں آؤ۔ بدلہ لینے کو بشری بی بی کے مشورے پر او آئی سی توڑنے کا فیصلہ کیا اور عربوں کے مقابل اسلامی بلاک بنانے کا نعرہ لگا کر ترکی اور ملائشیا کو دعوت دی۔ وہ تیار ہوگئے تو محمد بن سلمان نے سعودی عرب بلوایا اور دھمکی دی کہ ایسا کیا تو تیل بھی بند کرونگا اور پاکستانی بھی واپس بھیجونگا۔ بےعزت ہوکر واپس آیا تو اپنی کیبنٹ میٹنگ میں محمد بن سلمان کو ننگی گالیاں دیں جو اس تک پہنچ گئیں اور اس نے پاکستان کے قومی خزانے رکھے 3 ارب ڈالر واپس مانگ لیے۔ بمشکل 1 ارب ڈالر چین سے لے کر فوج کے منتوں ترلوں پر اسکو راضی کیا گیا۔ فوج نے راضی کیا تو شاہ محمود قریشی نے یہ اعلان کر دیا کہ "اب ہمیں سعودی عرب کے بغیر آگے بڑھنا ہوگا۔"
ترکی
عمران خان اسلامی کانفرنس میں نہیں آیا حتی کہ وفد بھی نہیں بھیجا جو اسی کی فرمائش پر بلائی گئی تھی۔ اس کی اس بد عہدی پر ترکی عمران خان سے اتنا ناراض ہوا کہ عمران خان اردگان کو منانے ترکی پہنچا تو اس کے استقبال کے لیے ائرپورٹ پر کوئی ایک شخص موجود نہیں تھا۔ جس کی ویڈیو موجود ہے۔ پھر اردگان نے تقریر کی کہ عمران خان سعودی دباؤ پر وعدے سے مکر گیا۔
ملائشیا
ملائشیا نے ہی عمران خان کی فرمائش پر اسلامی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کا فیصلہ کیا تھا۔ اسکی تیاری بھی کر لی تھی۔ مہاتیر نے اپنی قوم سے خطابات بھی کیے۔ لیکن پھر عمران خان نہیں پہنچا جس کی فرمائش پر یہ سارا کچھ کیا گیا۔ مہاتیر محمد کو ایسی شرمندگی کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد مہاتیر محمد نے کبھی عمران خان کا دوبارہ نام نہیں لیا۔
چین
چین کے ساتھ رازداری کے معاہدے کے باؤجود عمران خان نے سی پیک کی خفیہ تفصیلات امریکہ کو فراہم کیں۔ جس پر چین سخت ناراض ہوا۔ پھر سی پیک کو فریز کر دیا کہ ہم نے معاہدے میں تبدیلیاں کرنی ہیں۔ جس پر چین مزید ناراض ہوا۔ چین نے اپنا سرمایہ کاری وفد بھیجا تو مراد سعید نے انکو کمرے سے نکال دیا کہ تم لوگوں نے پرفیوم اچھا نہیں لگایا۔ جس پر چین نے مراد سعید کو بلیک لسٹ کر دیا۔ یوں وہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا وزیر ثابت ہوا جو چین میں بلیک لسٹ ہوا۔ ان سب کے بعد جب عمران خان چین پہنچا تو چین نے اسکو بےعزت کرنے استقبال کے لیے میونسپل کمیٹی کی سربراہ کو بھیجا اور صدر شی نے ملاقات کے لیے اسکو تین دن انتظار کروایا۔ تیسرے دن بھی محض چند منٹ کی ملاقات کی۔ اس بدترین ہزمیت پر پردہ ڈالنے پی ٹی ائی سوشل میڈیا نے شور مچایا کہ چین کے دورے کے دوران پیوٹن نے عمران خان کو روس آنے کی دعوت دے دی ہے اور یہ عمران خان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ یوں چین میں جو کچھ ہوا وہ بات دب گئی۔
روس
عمران خان روس کا دورہ کرنے عین اس وقت پہنچا جب روس یوکرین پر حملہ کرنے والا تھا۔ یہ دورے کا بدترین وقت تھا۔ پیوٹن جیسے کائیاں شخص نے عمران خان کو اپنے سامنے بیٹھا کر یوکرین پر حملہ کر دیا اور دنیا خاص طور پر امریکہ کو پیغام دیا کہ یوکرین پر حملے کے وقت تمہارا ایک قریبی دوست میرے ساتھ بیٹھا تھا۔ عمران خان کی اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ پیوٹن سے ناراضگی ظاہر کر دیتا یا اسکو اتنا ہی کہہ دیتا کہ میرے جانے کے بعد جنگ شروع کرنا۔ یوں روس میں اس خطے کی سب سے بڑی جنگ کا افتتاح کر کے عمران خان واپس آگیا۔ آکر قوم کو خوشخبری سنائی کہ میں نے روس سے سستا تیل اور گندم لینے کی بات کر لی ہے اور خبردار جو کسی نے جنگ کی مذمت کی۔ باجوہ نے جنگ کی مذمت کی تو پوری سوشل میڈیا کو اس کے پیچھے لگا دیا کہ جنگ کی مذمت کیوں کی؟ تیل پر اسکو کسی نے بتایا کہ حضور وہ تیل ہم نہیں خرید سکتے کیونکہ امریکی پابندیاں ہیں جیسے ہم ایرانی گیس نہیں خرید سکتے۔ البتہ عمران خان کی حکومت جانے کے بعد جب روس اور وسطی ایشیائی ممالک سے سستی گندم منگوائی گئی تو سب سے زیادہ شور عمران خان نے مچایا کہ روس سے سستی گندم منگوا کر اپنے کسانوں کو مار دیا۔ یوں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار گندم سستی ہونے پر احتجاج ہوا۔
یورپی یونین
چونکہ یوکرین پر حملہ یورپی یونین کے اتحادی پر حملہ تھا تو جیسے دنیا کا ہر ملک اور اسکے سفیر کوشش کرتے ہیں کہ جنگ میں زیادہ سے زیادہ ممالک کی حمایت حاصل کریں تو انہوں نے عمران خان کو خط لکھا کہ روس نے آپ کو ساتھ بیٹھا کر ہم پر حملہ کیا ہے کم از کم آپ اس کی مذمت ہی کر دیں۔ اس سفارتی درخواست کا سفارتی جواب دینے کے بجائے عمران خان نے فوراً جلسہ بلوا کر تقریر کی اور مشہور زمانہ جملہ کہا "ہم کوئی غلام ہیں کہ تم جو کہو ہم مان لینگے؟" پورے سوشل میڈیا پر اسکو وائرل کروا دیا اور کسی نے یہ جاننے کی زحمت تک نہیں کی کہ اصل معاملہ کیا ہے؟ اس احمقانہ حرکت پر یورپی یونین نے پاکستان کی برآمدات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا جو جنرل باوجوہ کی جنگ کی مذمت کی وجہ سے روک دیا گیا۔
امریکہ
بائیڈن سے متعلق عمران خان کو شکایت رہی کہ وہ مجھ سے فون پر بھی بات نہیں کرنا چاہتا۔ باجوہ کی کوششوں سے ٹرمپ سے ملاقات طے کروائی گئی تو 40 منٹ کی گفتگو میں صرف 3 منٹ بات کی وہ بھی ٹرمپ کو یقین دہانیاں اور اسکی ہاں میں ہاں ملانا۔ یوٹیوب پر موجود ہے۔ کسی نے عافیہ صدیقی کا پوچھا جس کا یہ وکیل بنا رہا تو بات قہقہے میں اڑا دی۔ واپس آکر کہا ایسا خوش ہوں جیسے دوبارہ ورلڈ کپ جیت لیا۔ افغانستان سے امریکی انخلا میں بھرپور مدد کی لیکن بدلے میں پاکستان کی کوئی ایک شرط نہیں منوائی۔ یہ تک نہیں کہا کہ جو اسلحے کا انبار چھوڑ کر جارہے ہو یہ ہمارے خلاف استعمال ہوگا۔ لاکھوں کی تعداد میں امریکی وفادار افغانیوں کو پاکستان لابسایا جس کے لیے پی آئی اے کو وقف کر دیا۔ پھر بھی امریکہ سے مزید لفٹ نہ ملی تو ایچ بی او نامی فلمی چینل پر ایک پلانٹڈ انٹرویو ریکارڈ کروایا جس میں کہا کہ میں ایٹمی ہتھیار رکھنے کے خلاف ہوں۔ یوں ایک پیغام دیا کہ میں یہ بھی کر سکتا ہوں۔ انٹرویو والے نے سوال کیا کہ امریکہ اڈے مانگے تو دینگے تو "ایبسلوٹلی ناٹ" کہا جو اسی وقت خوب وائرل کر دیا گیا کسی نے ایٹمی ہتھیاروں والی بات پر تبصرہ نہیں کیا۔ نہ کسی نے یہ پوچھا کہ ساڑھے تین سال میں کوئی ایک ایسی چیز بتا دیں جو آپ سے امریکہ نے مانگی ہو اور آپ نے انکار کر دیا ہو؟ بلکہ کچھ دن پہلے عمران خان نے نیویارک ٹائمز میں دو لاکھ ڈالر دے کر باقاعدہ اشتہار چھپوایا کہ اس خطے میں امریکی مفادات کا سب سے بڑا محافظ عمران خان تھا۔
ایران
عمران خان ایران پہنچا تو وہاں پر کہہ دیا کہ "ایران میں دہشتگردی پاکستان سے ہورہی ہے۔" اس پر پاکستانی وفد بھی حیران رہ گیا کیونکہ ایسا کوئی نہیں کہتا۔ اس وقت جنرل عاصم منیر بطور ڈی جی آئی ایس آئی اس کے ہمراہ تھے اور اس بات پر ان دونوں میں پہلا اختلاف ہوا۔ کیونکہ عاصم منیر کا موقف تھا کہ یہ کہہ کر آپ نے ایسا تاثر دیا جیسے پاکستان ایران میں دہشتگردی کروا رہا ہے اور ایران جو کچھ بلوچستان میں کر رہا ہے اور جیسے ہم نے ایران سے آپریٹ کرنے والے کل بھوشن کو پکڑا ہے اس پر آپ نے بات کیوں نہیں کی؟ واپسی پر ندیم افضل چن نے کہا کہ آپ پاک ایران گیس پائپ لائن بحال کرینگے تو عمران خان نے کہا کہ "اس کا نام مت لو۔ اس پر امریکہ ناراض ہوجائیگا۔"
افغانستان
جب امریکی انخلا شروع ہوا تو عمران خان کو مشورہ دیا گیا کہ وہ افغانستان سے یقین دہانی اور ضمانتیں لے لے کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی نہیں ہوگی اور جو خارجی افغانستان کی جیلوں میں ہیں ان کو پاکستان کے حوالے کیا جائے گا۔ نیز یہ کہ پاکستان میں موجود افغانیوں کو افغانستان واپس بھیجنے کا طریقہ طے کیا جائے۔ لیکن عمران خان نے اس پر کوئی بات نہ کی بلکہ جوں ہی افغان طالبان کی حکومت بنی تو ان کی فرمائش پر عمران خان خود ہی چالیس ہزار دہشتگردوں اور انکی فیملیوں کو پاکستان لے آیا۔ ساتھ ساتھ امریکی وفادار لاکھوں مزید افغانیوں کو پاکستان لے آیا۔ طالبان کی فرمائش پر پاکستان میں موجود کوئی ایک کروڑ افغانیوں کو پاکستانی شہریت دینے پر بھی تیار ہوگیا اور ان کو کبھی افغانستان واپس نہ بھیجنے کی یقین دہانی کروائی۔ افغانستان کی جیلوں میں قید خارجیوں کو پاکستان کے حوالے کرنا تو درکنا جب طالبان نے انکو رہا کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ بھی رکوانے کی کوشش نہیں کی۔ انہی میں سے دو کمانڈرز اس وقت وزیرستان اور باجوڑ میں آگ لگائے ہوئے ہیں۔
انڈیا
کشمیر انڈیا نے ضم کر لیا اور ساتھ ہی کہا کہ ہم آزاد کشمیر بھی لینگے۔ عمران خان نے اس پر ردعمل دیا کہ "میں کیا کروں؟ کیا انڈیا پر حملہ کردوں؟" اس پر اسکو مشورہ دیا گیا کہ حملہ نہ کریں عالمی عدالت میں جائیں اور اس پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلائیں۔ عمران خان نے یہ مشورہ رد کر دیا اور اس کے بجائے قوم کو چند منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں تو مودی کی تصاویر فیض آباد اور زیرو پوائنٹ پر لگوا کر انکو دیکھ کر گاڑیوں کو ہارن بجانے کا حکم دیا۔ مودی نے پلوامہ واقعے پر حملے کی دھمکی دی تو مودی کو درجنوں فون کیے اور پھر بےبسی سے بیان دیا کہ میں کیا کروں مودی میرا فون نہیں اٹھا رہا۔ پھر انڈیا نے بالاکوٹ پر بمباری کی جس کے جواب میں پاکستانی طیاروں نے مقبوضہ کشمیر میں ایک خالی جگہ بمباری کی۔ پاکستانی جہازوں کا پیچھا کرتا ابی نندن اپنے مگ سمیت پاکستان آیا اور گرا دیا گیا۔ مودی نے دھمکی دی کہ پائلٹ واپس کرو ورنہ حملہ کرتا ہوں تو اگلے ہی دن ابی نندن کو واپس کر دیا۔
برطانیہ
بشری بی بی نے پابندی لگائی تھی کہ آپ کبھی برطانیہ نہیں جائنگے۔ اسکو خدشہ تھا کہ وہاں دوبارہ پرانی بیوی سے تعلقات بحال نہ کر لے۔ لہذا نہیں گیا۔ فوج نے دباؤ ڈالا کہ برطانیہ پاکستان کے لیے بہت اہم ملک ہے آپ کم از کم ایک سرکاری دورہ ضرور کریں۔ تو برطانوی سفیر کو بلوا کر کہا کہ میں سرکاری دورے پر آتا ہوں۔ سفیر نے اپنے ملک کو مطلع کیا کہ وزیراعظم پاکستان سرکاری دورے پر آئنگے۔ فواد چوہدری نے ہنس کر تبصرہ کیا کہ ابھی رات باقی ہے۔ صبح ہوئی تو عمران خان مکر گیا جس پر برطانوی سفیر کی رونے والی حالت تھی کہ میں نے تو اپنے ملک کو آگاہ بھی کر دیا ہے میری کریڈیبلٹی تباہ کردی۔ جس کے بعد جمائما نے اپنے ٹویٹر پر ایک نقاب پوش جادوگرنی کی تصویر لگا کر تبصرہ لکھا کہ "تو نے کیسا جادو کیا رے۔"
اس دور میں کہا جاتا تھا کہ کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات بگاڑنے کو عمران خان کا ایک دورہ ہی کافی رہتا ہے۔ اکثر ایک ملک سے تعلقات ٹھیک کرنے جائے تو دو ملکوں سے بگاڑ کر آجاتا ہے۔
#Pakistan
#دہشتگرد_جہنم_واصل