پاکستانیو
گھبرانا نہیں، ہم پر جنگ مسلطکی گئی تو جسم میںخون کے آخری قطرے تک لڑیں گے، موت تو ایک دن آنی ہی ہے، تو دفاع وطن کی خاطر مر جانا۔۔۔لیکن بزدلی مت دکھانا۔۔۔پیٹھ مت پھیرنا۔۔۔انڈیا جنگی جنون میں پاگل ہو چکا ہے، غزوہ ہند تو ہو کر ہی رہنا ہے
@da_watan_lewany
لہٰذا اللہ کی تسبیح کرو اُس وقت بھی جب تمہارے پاس شام آتی ہے، اور اُس وقت بھی جب تم پر صبح طلوع ہوتی ہے اور اُسی کی حمد ہوتی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور سورج ڈھلنے کے وقت بھی (اُس کی تسبیح کرو) اور اُس وقت بھی جب تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔
﴿سورۃ الروم،۱۷-۱۸﴾
نواز شریف ہسپتال اور کلثوم نواز ہسپتال کے نام پر اربوں روپے تو رکھ دیے، لیکن کیا ان ہسپتالوں میں غریب کو مفت ادویات بھی ملیں گی یا صرف نام کی تختی؟
#شریف_بجٹ
نجم سیٹھی کے مطابق خواجہ آصف کی بھتیجی شزہ کو ٹیلی کام کمپنیوں نے پیسہ کھلایا ہے جس کے لئے پھر بنا کسی کو آگاہ کیے بل پیش کرکے پاس کروایا اور انہی پیسوں سے لندن میں فلیٹس بھی خریدے گئے ہیں
یقینا پھر حصہ شریف خاندان کو بھی ملا ہوگا
یو اے ای میں زیرِ حراست پاکستانی شہری محمد شعیب جاں بحق، اہل خانہ کو ڈیڑھ ماہ بعد اطلاع
پاراچنار کے علاقے بلیامین کے رہائشی پاکستانی شہری محمد شعیب، جو متحدہ عرب امارات میں بطور ٹیکسی ڈرائیور کام کرتے تھے، دورانِ حراست جاں بحق ہو گئے۔
اہل خانہ کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران محمد شعیب کو مارچ 2026 میں متحدہ عرب امارات کے حکام نے حراست میں لیا، جس کے بعد ان کے خاندان کو طویل عرصے تک ان کی گرفتاری، مقام اور حالت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
اہل خانہ کو 16 جون 2026 کو اطلاع دی گئی کہ محمد شعیب 29 اپریل 2026 کو جیل میں انتقال کر چکے تھے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ وفات کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد اطلاع دینا تشویش ناک ہے، جبکہ تاحال پوسٹ مارٹم رپورٹ اور موت کی وجوہات سے متعلق بھی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
مرحوم محمد شعیب کی میت آج صبح پشاور ایئرپورٹ پہنچے گی، جہاں اہل خانہ اور عزیز و اقارب ان کا آخری دیدار کریں گے۔
اہل خانہ اور متعلقہ حلقوں نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور دیگر اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، متحدہ عرب امارات کے متعلقہ سفارتی حکام سے وضاحت طلب کی جائے اور تحقیقات کی جائیں کہ محمد شعیب کو کن وجوہات کی بنا پر حراست میں لیا گیا، دورانِ حراست ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا اور ان کی موت کن حالات میں ہوئی۔
مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے مرحوم کے اہل خانہ کو حقائق سے آگاہ کیا جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔
"متنازعہ ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کرنےوالی وزیر صاحبہ سے فوری استعفی لیا جائے
اور اس بل کے پیچھےچھپےمحرکات جاننےکیلئے ہائی لیول انکوائری کمیشن تشکیل دیں
گھروں کی چادر، چار دیواری پامال کر کےوزیر صاحبہ ملک میں خانہ جنگی کروانا چاہتی ہیں ؟"
سینیٹر آصف کرمانی
حکومت نے پیٹرول کی نئی قیمت 300 روپے مقرر کر دی۔
حکومت کو پیٹرول کی قیمت فوری طور پر واپس 252 روپے فی لیٹر کرنی چاہئے، جتنی جنگ شروع ہونے سے پہلے تھی۔
یہ کیا بات ہوئی کہ ابھی پیٹرول کی قیمت کم کرنے کا احسان بھی چڑھا دیا اور 300 روپے تک بلاوجہ قیمت بڑھائی رکھی۔
#رہے_نام_اللہ_کا
سمجھ نہیں آتی کہ بعض لوگ اسمبلی میں کس ذہنی کیفیت کے ساتھ آتے ہیں۔ کئی بار ایسے بیانات اور تجاویز سامنے آتی ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ کیا واقعی یہ سب کچھ پورے ہوش و حواس میں کہا اور کیا جا رہا ہے؟
خواجہ آصف صاحب تو پہلے ہی اپنے غیر معمولی بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں۔ ابھی ان کے اس انکشاف کی گرد بھی نہیں بیٹھی تھی کہ ماضی میں بعض اہم سیاسی معاملات اور قانون سازی کے سلسلے میں حساس حلقوں کی موجودگی میں ملاقاتیں ہوتی تھیں، کہ اگلے ہی دن ان کی بھتیجی اور آئی ٹی وزیر شزا فاطمہ نے قومی اسمبلی میں ایک ایسی ترمیم پیش کر دی جس نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ترمیم کا خلاصہ یہ ہے کہ لائسنس یافتہ ٹیلی کام کمپنیاں ڈیجیٹل رابطوں کے فروغ کے نام پر نجی زمینوں، کرائے کی املاک، لیز ہولڈ پراپرٹیز اور سرکاری عمارتوں پر موبائل ٹاور نصب کر سکیں گی اور فائبر آپٹک کیبل بچھا سکیں گی۔ مزید یہ کہ اگر کوئی مالک، کرایہ دار یا ادارہ اس عمل میں رکاوٹ بنے تو اس پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ نجی ملکیت کا حق آخر کہاں گیا؟ اگر کوئی گھر یا زمین میری ملکیت ہے تو اس کے استعمال کا بنیادی اختیار بھی میرا ہونا چاہیے۔ ریاست عوام کے حقوق کی محافظ ہوتی ہے، ان پر قدغن لگانے والی نہیں۔ ڈیجیٹل ترقی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کے نام پر شہریوں کے ملکیتی حقوق اور نجی زندگی کے تحفظ کو نظرانداز کرنا کسی طور مناسب نہیں۔
ترقی اور سہولت کے نام پر ایسے اقدامات کرتے وقت یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آئین شہریوں کو نجی ملکیت اور پرائیویسی کا حق بھی دیتا ہے۔ قانون سازی کا مقصد عوام کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں کمزور کرنا
#AfaqWrites
ہمارے دلوں میں ایک خلا ہے جسے اُنﷺ کے ذکر کے
سوا کوئی نہیں بھر سکتا اور ہماری روحوں میں ایک ایسا شوق
ہے جو اُنﷺپر درود کے سوا نہیں ٹھہرتا
#صلی_اللہ_علیه_وآله_وسلم#BlessedFriday
غلام قوم اب اپنی ذاتی پراپرٹی سے بھی بےدخل کردی گئی ؟
ن لیگ نے بل قومی اسمبلی سے منظور کروا لیا
لائسنس یافتہ موبائل فون اور ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیاں جہاں چاہے آپٹیکل فائبر بچھاسکیں گی، نجی جائیداد کے مالک اور سرکاری ادارے ٹیلی کمیونیکیشن انفرا اسٹرکچر کے لئے جگہ دینے کے پابند ہوں گے، آپٹیکل فائبر بچھانے یا ٹاور لگانے کے لیے جگہ نہ دینے والے نجی گھر کے مالک، کرائے دار یا عوامی و نجی ادارے پر 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا
یعنی اب آپ کی ذاتی ملکیت زمین بھی آپ کی نہیں ہے، اس حکومت نے آپ کی ذاتی ملکیت کو ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے
چونکہ اب ن لیگ کو یہ پتہ لگ چکا ہے کہ نہ ہم نے عوام سے ووٹ لینے ہیں، نہ ہم نے عوام میں جانا ہے، اور نہ ہم عوام میں نکل سکتے ہیں تو اب یہ جیسا ظلم چاہیں کرسکتے ہیں
عمران خان کو چھوڑو، اسکے لئے نہیں نکلنا تو مت نکلو، اپنے لئے تو نکلو، لیکن چونکہ ہم انتہائی درجے کے ڈرپوک اور بزدل قوم ہیں تو ہم نہیں نکلیں گے، تو پھر انجوائے کرو، کیونکہ تم 8343 روپے کما رہے ہو اور تم امیر لوگ ہو