یہ ایک نہایت اہم اور خوشی کی بات ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں جہاں جہاں پاکستانی سیاست دانوں کی جائیدادیں موجود ہیں، انہیں پاکستان کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے ضبط کیا جائے، کیونکہ انہوں نے ملک کے نام پر لوٹی گئی دولت سے یہ جائیدادیں بنائی ہیں۔
تکلیف🚨اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں پرظُلم اپنی انتہا کو پہنچ چُکا ہے جسکے کُلی ذمہ دار تمام مسلمان ممالک کے حُکمران ہیں وہ ایک لمحے کوسوچیں کیا وہ گارنٹی کرتے ہیں کہ مستقبل میں اُنکا کوئی باپ بھائی یا بیٹا اس الیکٹرک چئیر پر نہیں بیٹھا ہو گا اسرائیل اس کراہ ارض پر ظالم حکومت ہے
BREAKING, EXCLUSIVE:
ECP today released asset declarations of Pakistani politicians according to which Asif Ali Zardari does not own any assets abroad. In this thread i will share documentary evidence from the State of New York showing that he does, in fact, own property here.
امارات ، پاکستان اور فیلڈ مارشل
دوبئی مذکر تو بہت بعد میں ہوا پہلے پہل دوبئی مونث تھی۔ بلکہ دوبئی بھی کیا دیہات میں ڈبئی کہلاتی تھی۔ عام پاکستانیوں نے بے تحاشا خوشحالی پہلی دفعہ تب دیکھی جب دوبئی کھلی۔ یکایک تیل کی دولت آئی۔ مزدوروں کی ضرورت پڑی تو اوورسیز پاکستانیوں کی دوسری کھیپ تیار ہوئی۔ پہلی کھیپ منگلا ڈیم بننے کے بعد نکل چکی تھی لیکن ماڑے پہاڑیے مسیر ابھی یارک شائر و لنکا شائر کی فیکٹریوں میں پینیوں کے حساب سے گھنٹے پورے کرتے تھے ، ماٹھے حالات تھے ۔ دوبئی والے مزدور تو پہنچتے اور مہینہ پورا ہوتے ہی شریکے میں آگ لگا دیتے۔ امریکن کمپنیاں تھیں۔ ابھی شیوخ کو پتہ نہیں تھا کہ یہ لبرور اور مسکین ہیں لہذا تنخواہ امریکی اور یورپی پیمانوں پر ملتی تھی۔
غیر کاشتکار لوگ حالات کے ستائے تھے لیکن ہنر مند تھے ، موقع ملنے کی دیر تھی، سب سے پہلے یہ لوگ کاشتکار طبقات اور زمینداروں کے تسلط سے نکلے اور دوبئی پہنچتے ہی چھا گئے۔ سال دو سال بعد پہلی فلائٹیں واپس اتریں تو ست گھوڑے بوسکی ، روتھ مین کے سگریٹ ، گلے میں سونے کی چین اور انگلی میں چھاپ بائیں ہاتھ میں بڑا سا بکسہ تو دائیں ہاتھ میں نمبروں والا بریف کیس۔ اک شور تھا جو مچ گیا۔ دوڑ تھی جو شروع ہوگئی۔ میرا ایک نکھٹو سا سمجھا جانے والا تایا زاد اسی حلیے میں واپس پلٹا تو میں نے اسی رات اپنی بیلوں کی جوڑی بیچ دی اور ڈبئی کے ویزے کے پیسے ایک جاننے والے کو تھما دیے۔
اب یہ تو ہر کسی کی کہانیاں یکساں کہ جہاں یہ حیرت کدہ ہے بلکل اسی جگہ پر ہم نے ریت کے ٹیلوں پر راتیں گزاریں ، میرے سامنے فلپینی کتا اٹھا کر لے گیا ، میں نے بابرہ شریف کے شو میں اس پر درہموں کی بارش کی ، میرا کفیل مجھے اپنا بیٹا بنانا چاہتا تھا اور میں نے انکار کردیا، میں اگر چاہتا تو فلاں عمارت آج میری ہوتی لیکن میں ایماندار تھا اور وغیرہ وغیرہ لہذا میں آپ کو جو مرضی بتاتا جاؤں آپ نے کونسا مان لینا ہے۔ یہ ساری یاداشتیں پھر کبھی سہی۔
شیوخ کرخت تب بھی تھے۔ قبائلی رنگ تھا لیکن ابھی نئی نئی امارت کے عادی نہیں ہوئے تھے۔ زندگی اب سے بہت زیادہ مشکل تھی لیکن آمدن آج سے کہیں زیادہ۔تیسی، کانڈی ، رندے ، ہتھوڑے اور گریس والے ہاتھ مہینوں اور سالوں میں بڑی بڑی گاڑیوں کے اسٹئرنگ ویلز پر تھے۔ سڑکوں ، بنیادوں اور دیواروں سے بات چھتوں تک پہنچی تو ڈیمانڈ بھی مستریوں اور مزدوروں سے آگے بڑھی۔ ڈھابوں اور حجام کی دوکانوں سے لیکر بڑی بڑی مارکیٹوں تک۔ سامراجی پہیہ تھوڑا مزید گھوما تو بنک ، انشورنس کمپنیز اور پڑھے لکھے بابو بھی پہنچنا شروع ہوئے۔ پھر اگلے دروازے اس ملک کے لٹیروں کے لیے کھلے۔ ہر طرح کی لوٹ مار بڑی بڑی عمارتوں میں کھپائی جانے لگی۔
ستر کی دہائی سے شروع ہونے والی دوڑ اب چھٹی دہائی میں داخل ہوچکی۔ میرے گاؤں کے وہ بوڑھے جو مبالغہ آرائی کرتے کرتے شیخ راشد سے ایک عدد مصافحے کو ذاتی دوستی بتاتے تھے انکی اکثریت قبروں سے اور چند ایک چارپائیوں سے لگی بیٹھی ہے۔ آج میرے گاؤں کے ایک سابقہ بیوروکریٹ کا البراری میں محل بھی ہے ، میرے کچھ جاننے والے اچھی خاصی کارپوریٹ جابز بھی کرتے ہیں اور آٹھ سو ہزار درہم ماہانہ پر کئی خوبصورت نوجوان آج بھی وہاں امید اور خواب کھرچنے جاتے ہیں۔
1/2
عمران خان کو جیل میں سب سے زیادہ تکلیف اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کی نہیں بلکہ بشری بی بی اور یاسمین راشد اور دوسری خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک کی ہے۔
لیکن بد قسمتی سے پسند نا پسند کے چکر میں بشری بی بی اور دوسری خواتین کے لئے وہ آواز نہ اٹھ سکی جو اٹھانا بنتی تھی۔
تیل کی قیمتیں تو آج اتنی بڑھی ہیں
فوج چار سال سے بالخصوص اور اٹھہتر سال سے بالعموم ملک پر قابض ہے
گزشتہ برس فوجی افسران کو تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ ملا عوام کو نہیں ملا
اس سے پچھلے سال فوجی افسران کو پراپرٹی ٹیکس معاف کردیا گیا
شہداء کے نام پر زمین لیکر فوج نے پلاٹ بنا کر افسران میں بانٹ دیے
فوجی حکومت نے معیشت کا گروتھ ریٹ آدھا کردیا برآمدت گرا دیں
فوج کے ہر افسر کو ریٹائرمنٹ پر کروڑوں کی پراپرٹی اور نقدی ملتی ہے
عوامی وسائل چوس چوس کر دو سو ارب ڈالرز کی بزنس ایمپائر کھڑی کررکھی ہے
♦️ عدالت یا طوائف کا کوٹھا ♦️
اُمِّ رباب کے والد
اور چچا کے قتل کا کیس جہاں نظامِ انصاف کی سست روی
اور کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے،
وہیں بااثر ملزمان کی رہائی
اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقتور
افراد اب بھی قانون سے
بالاتر سمجھے جاتے ہیں۔ یہ صورتحال
نہ صرف متاثرہ خاندان کے
لیے ایک گہرا صدمہ ہے
بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک
لمحۂ فکریہ بھی ہے۔
دوسری جانب ایک کرکٹر،
نسیم شاہ پر دو کروڑ کا جرمانہ
عائد کر دیا جاتا ہے۔
یہ تضاد انتہائی افسوسناک اور
شرمناک معلوم ہوتا ہے
کہ ایک طرف سنگین جرائم میں
ملوث افراد باآسانی
بچ نکلتے ہیں،
جبکہ دوسری طرف نسبتاً کم نوعیت
کے معاملات میں
فوری اور سخت کارروائی دیکھنے کو
ملتی ہے۔
یہ دوہرا معیار ہمارے
انصاف کے نظام پر سنجیدہ
سوالات اٹھاتا ہے۔ اگر
قانون واقعی سب کے لیے برابر
ہے تو پھر اس کا اطلاق بھی
بلا امتیاز ہونا چاہیے۔
بصورت دیگر، یہ تاثر مزید مضبوط
ہوتا جائے گا کہ
انصاف طاقتور کے لیے نرم اور
کمزور کے لیے سخت ہے،
جو کسی بھی مہذب معاشرے
کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے
استغفراللٰہ ۔۔۔۔۔۔۔
“A video TREND in the United States by famous American content creator Myron Gaines:
An Israeli girle asks him: Do you believe the Holocaust happened?
Myron: Do you believe there is a genocide in Gaza?
Israeli woman: There is no evidence of that.
Myron responds: Well then—how do you expect the world to believe in the Holocaust, in which 6 million Jews were killed, even though it happened in a time without advanced recording and documentation technologies, while today you deny what is happening in Gaza, despite the world seeing it live, with sound and images?”
Israel is the first state in history to legislate a death sentence that applies only to one ethnic group.
There's a reason nobody has ever done this.
It's a depth of evil beyond humanity itself.