میری عمر 76 سال ہے۔ 9 مئی کے کیس میں، میں نے جیل کاٹی ہے۔ میرا بیٹا 26 نومبر کے کیسز میں پکڑا گیا ہے۔ میں پھر بھی آیا ہوں۔ میرا بس یہی چلتا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو بھی عمران خان کے لیے قربان کر دوں۔ عمران خان ہمارے سر کا تاج ہے۔ آج پشاور میں عمران خان کے لیے آنے والے ایک بزرگ پاکستانی
#pakistan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
پی ٹی آئی کے صرف چار مطالبات ہیں:
1۔ عمران خان کی قید تنہائی فوری ختم کی جائے۔
2۔ انہیں انکے اہل خانہ اور قانونی ٹیم تک مکمل رسائی دی جائے۔
3۔ سب سے پہلے انہیں آزادانہ طبی معائنے کے لیےشفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے۔
4۔ عمران خان کی غیر مشروط رہائی ہو۔
#زنجیریں_توڑو_خان_کو_چھوڑو
کتنی فکر ہے انہیں افغانستان کی۔ ایک سرکاری ملازم کیسے برادر اسلامی ملک کے بارے میں ایسا بیان دے سکتا ہے؟ طالبان سرکار جتنی بھی بری ہو، بیان دینے کا حق عوامی منتخب نمائندوں اور فارن آفس کا ہے۔ جنرل صاحب کو سکیورٹی معاملات تک ہی محدود رہنا چاہیے۔ افغانستان، ایران یا سعودی عرب میں کیا ہو رہا ہے، وہ سیاستدانوں کا کام ہے۔ عمران ریاض خان
#pakistan @ImranRiazKhan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
عاصم منیر کے بنائے گئے کھوکھلے نظام کی ناکامی تو نہ صرف محسن نقوی نے تسلیم کر لی ہے، بلکہ ڈی جی آئی ایس پی آر یعنی اس کے اپنے ترجمان نے بھی مان لی ہےـ
اسی بات کی پیشنگوئی عمران خان نے 17 اکتوبر 2025 میں کر دی تھی ـ
بنیادی طور پر بندوق کے زور پر پوری قوم کو غلام نہیں بنایا جاسکتا
#زنجیریں_توڑو_خان_کو_چھوڑو
ہم سب کی یہی خواہش ہے لیکن عمران خان تب پہلے سے بھی زیادہ طاقتور بن کر واپس آئیں گے جب ہم اپنا کردار ادا کریں گے۔
میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ جیل میں قید لیڈر کی زندگی کی حفاظت عوام کے ردعمل کا خوف کرتا ہے۔ یہ خوف لیڈر کو زندہ رکھتا ہے۔ اگر یہ خوف مٹ جائے تو قید کرنے والے اپنا کام کر جاتے ہیں جیسے فیلڈمارشل سیسی نے کیا تھا۔ مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کو 6 سال جیل کے ایک پنجرے میں قید رکھا۔ جب عوام تھک گئے تو مروا دیا۔ مصریوں نے مرسی کے ساتھ وہ کیا جو کوفیوں نے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کیا تھا۔ 😢
بریکنگ نیوز 🚨عمران ریاض خان کا ڈی جی کی پریس کانفرنس پر تبصرہ۔ بڑی پیشن گوئی کر ڈالی 🔥🔥
جو آج آپ باتیں کرریے ہیں، یہی ہم آپ کو چار سال سے بتا رہے تھے کہ یہ سسٹم Collapse کر جائے گا۔ ہم آپ کو بتا رہے تھے یہ نظام چل ہی نہیں سکتا، اتنی نفرت کے ساتھ ایک دوکان نہیں چل سکتی جتنی نفرت سے آپ نے ملک چلانے کی کوشش کی ہے۔ آپ کو پہلے دن بھی بتایا تھا آج بھی بتا رہے ہیں۔ میں ڈھائی سے تین ماہ پہلے کہے چکا تھا کہ میری بات پلے باندھ لیں عاصم منیر اور اُنکی پوری ٹیم ناکام ہوچکی ہے اور وہ اب ڈھونڈ رہے ہیں کہ ملبہ کس پر ڈالنا ہے اور یہ اب ملبہ ڈال کر بھاگنے کی مکمل تیاری اور کوشش کرچکے ہیں۔ ن لیگ کی اب خیر نہیں کیونکہ انہی پر ملبہ گرے گا۔
"پورا سسٹم چار سال سے عمران خان کا مقابلہ کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ چار سال سے عمران خان تنہا سسٹم کے مظالم کا سامنا کر رہا ہے۔ جیل کی کال کوٹھڑی ، قیدِ تنہائی میں ،ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ، مگر پھر بھی اپنے موقف پہ ڈٹ کر کھڑا ہے۔ اور اس سسٹم کے نمائندے نے بتایا کہ یہ سسٹم Collapse کر گیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ کوئی مانے یا نہ مانے، عمران خان کی فتح کا اعلان ہو گیا ہے۔ وزیرِ داخلہ صاحب یہ اعلان بھی کر دیں کہ تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود نہ وہ عمران خان کو جھکا سکے، نہ قوم کے دل سے عمران خان کی محبت ختم کر سکے"۔ جنید سلیم
@ImJunaidSaleem
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں