محترمہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ،
جناب رانا سکندر حیات وزیرِ تعلیم پنجاب!
پیف پارٹنرز پیمنٹ کے بغیر سکولوں کا نظام کیسے چلائیں؟
اساتذہ کی تنخواہیں کہاں سے دیں؟
عمارتوں کے بھاری کرائے کیسے ادا کریں؟
بجلی کے بل اور دیگر اخراجات کیسے پورے کریں؟
تعطیلات میں تعمیر و مرمت اور وائٹ واش کیسے کروائیں؟
مطلوبہ انفراسٹرکچر کیسے برقرار رکھیں؟
دو دو ماہ تک ادائیگیاں نہ ہونے سے پیف پارٹنرز اور لاکھوں اساتذہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ بروقت تنخواہیں نہ ملنے پر قابل اساتذہ پیف سکول چھوڑ رہے ہیں، عمارت مالکان کرایہ نہ ملنے پر عمارتیں خالی کرانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، جبکہ بجلی کے کنکشن منقطع ہونے کا بھی خدشہ ہے۔
خدارا پیف انتظامیہ کو ہدایت فرمائی جائے کہ جون، جولائی کی ادائیگیاں اور نئے داخلوں کی 70 فیصد پیمنٹ فوری جاری کی جائے تاکہ پیف پارٹنرز اپنے ادارے بہتر انداز میں چلا سکیں اور لاکھوں بچوں کی تعلیم کا سلسلہ بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔
#PEF #PEFPartners #Education #Punjab #Teachers
آج بھی لوگ موجود جو اس نظام کے منہ پر سچ کہنے کی جرت کرتے ہیں
تھوڑی سہی مگر یہ آوازیں بہت ضروری جو جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہتی ہیں
اس نے اپنا حق ادا کر دیا اب ہمارا فرض اسے ہر طرف پھیلا دیں
محترمہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ،
جناب آئی جی پنجاب صاحب۔
مئی 2025 میں ایس پی شمس صاحب کے خلاف دی گئی میری درخواست پر پنجاب پولیس کی Internal Accountability Branch نے انکوائری مکمل کی، افسران کو بلایا، بیانات لیے، اور DSP بخت نصر سمیت کئی افسران کو charge sheet کیا۔
لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود آج تک final action pending ہے۔
کیا IAB کی رپورٹ پر بھی action نہیں ہوگا تو عام شہری کہاں جائے گا؟
میری گزارش ہے کہ اس delay کا نوٹس لیا جائے، charge sheet کیے گئے افسران کے خلاف final action کیا جائے، اور SP شمس خان کے معاملے کو personally دیکھا جائے۔
@CMComplaintCell@MaryamNSharif@IGP_Punjab@OfficialSPPO@multan_cpo@rpo_multan
عمران خان رخصتی کا سامان تیار کرلیا قومی حکومت خاکہ بنا لیا مگرمسئلہ عمران خان ہٹانے کا نہیں ہے آنے والی حکومت کو پاکستان مسائل کے اس ہمالیہ کو سر کرنا ہے جو عمران خان کو زمیں بوس کر گئے۰۰۰ یہ " حکومت" نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجئےاک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
"جس طرح رمضان نشریات میں علماء کی بجائے ایکٹرز کو بٹھایا جاتا ہے اسی طرح تعلیم کی وزارت میں وزیر بٹھا دیا گیا ہے جس کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں"
روزنامہ نوائے وقت میں چھپے کالم "ہماری تعلیمی پالیسیاں" میں کالم نگار تنویر ساحر نے وزیر تعلیم کی تعلیم دشمنی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔