میں آپ کو فلسفہ کا پہلا سبق پڑھا دیتا ہوں اگر آپ اس سبق کو ڈھنگ سے پڑھ گئے تو پھر آپ کو مزید فلسفہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اور آپ صرف سائنس پڑھیں گے۔
فلسفہ اور سائنس
میں بنیادی فرق کیا ہے؟
ہر وہ نظریہ، خیال، رائے ، جس کی بنیاد دلیل اور عقل پر قائم ہو ، اسے ہم فلسفہ کہتے ہیں۔ہر وہ نظریہ، خیال ، رائے، جس کی بنیاد شواہ��, مشاہدات, تجربات، اور ںتائج پر قائم ہو اسے ہم سائنس کہتے ہیں۔
فلسفہ کی بنیاد عقل ( ریشنلٹی) پر قائم ہے، سائنس کی بنیاد شواہد (ایویڈینس) پر قائم ہے۔ فلسفہ کی بنیادی خامی یہ ہے کہ فلسفہ اپنی بنیاد میں تو بہت مضبوط ہوتا ہے ، (کیونکہ وہ دلیل پر قائم ہوتا ہے) مگر فلسفہ کو جب بھی تجربات کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے ، فلسفہ ناکام ہوجاتا ہے، اگر فلسفہ تجربات کی کسوٹی پر کامیاب ہوجائے تو پھر وہ فلسفہ نہیں رہتا, سائنس کہلاتا ہے۔
ہر انسان میں شعوری اور لاشعوری طور پر سوچنے سمجھنے، مشاہدہ اور تجربہ کرنے فطری جبلّت ہوتی ہے۔ اسلئے ہر انسان فطری طور پر بیک وقت فلسفی اور سائنس��اں ہوتا ہے۔ انسان اپنی فطری جبلّت کی وجہ سے مظاہر ِفطرت کی حقیقت کو تلاش کرتا ہے۔ اور یہ حقیقت تلاش کرنے کا علم ہی دراصل فلسفہ ہے۔ قدرتی مظاہر کے مشاہدے سے انسانی ذہن میں سوالات جنم لیتے ہیں۔ انسان اِن سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لئے ، کائنات کے سربستہ رازوں ��ے پردہ اٹھانے کے لیئے، عقل و شعور سے کام لیتا ہے، تحقیق وجستجو کرتا ہے، اشیاء اور مظاہر فطرت کی ماہیت کو سمجھنے کے لئے ، کوششیں کرتا ہے، تجربات کی کسوٹی پر پرکھتا ہے ، مشاہدات اخذ کرتا ہے، یوں سائنس وجود میں آتی ہے۔
فلسفہ کا ماخذ انسانی سوچ ، فکر اور تصوّرات ہیں۔۔ انسانی فکر سوالات کو جنم دیتی ہے۔ سوالات اٹھانے کے عمل سے نئے تصورات جنم لیتے ہیں۔ نئے تصوّرات سے نئے علوم جنم لیتے ہیں۔ اِس لئے کہا جاتا ہے کہ فلسفہ "اُم العُلوم” یعنی تمام علوم کی ماں ہے ۔ آج کے تمام جدید علوم کا منبع و ماخذ فلسفہ ہے ۔ ریاضی ، فلکیات ، طبیعات ، طِب ، سائینس ، قانون ، منطِق ، تاریخ ، نفس��ات ، معاشیات ، سیاسیات و دیگر معاشرتی علوم ، وغیرہ فلسفہ کی عطاہیں ۔ فلسفہ میں سوال اٹھانا زیادہ اہم ہے ۔ جبکہ سائنس میں سوال کے جواب کی حقیقت جانچنے کے لئے تجربات و مشاہدات سے نتائج اخذ کرنا زیادہ اہم ہوتا ہے۔
فلسفہ اور سائنس میں بنیادی تضاد یہ ہے کہ فلسفہ عقل کی طاقت کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے، جب کہ سائنس ، تجربات کی کسوٹی پر پرکھ کر شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔
فلسفہ ایک ایسا طرز فکر ہے۔ جس میں مظاہر فطرت کو صرف ظاہر ی اور طبعی بنیادوں پر ہی نہیں بلکہ ماورائے ظاہر یعنی مابعد الطبعیات سے بھی پرکھا جاتا ہے۔ مثلا اس عالم کی حقیقت کیا ہے؟۔اسے کس نے پیدا کیا ہے؟۔ عقل کیا ہے؟۔ شعور کسے کہتے ہیں؟ ۔ خالق کون ہے؟ ۔انسان کیا ہے؟ اسکی حقیقت کیا ہے؟
جب کہ سائنس ایک ایسا طرزِ فکر ہے جِس میں مادہ کی ماہیت کو تجربات اور شواہد کی بنیاد پر جانچا اور پرکھا جاتا ہے۔ سائنس نہ صرف مادےکے ظاہری وجود کی جانچ کرتی ہے بلکہ مادے کی اندرونی بناوٹ کی بھی اندر تک گھس کرجانچ پڑتال کرتی ہے۔ ہماری ساری کائنات ، ایک مادی کائنات ہے، مادے سے بنی ہوئی ہے ۔ہم سائنس کی مرہون منت مادے کے متعلق بہت ہی زیادہ معلومات رکھتے ہیں، جو معلومات ہمیں گذشتہ ڈھائی سو سالوں میں سائنس نے دی ہیں۔ فلسفہ ہمیں ڈھائی ہزار سالوں میں بھی نہیں دے سکا۔ ہمارا معلوم مادہ مالیکیولوں، ایٹموں، الیکٹرانوں، پروٹانوں، نیوٹرانوں، لاتعداد زیلی نیوکلیائی زرات سے مل کر بنا ہے۔ یہ سب معلومات بھی ہمیں سائنس نے ہی دی ہیں۔ فلسفے کے ڈھائی ہزار سالوں میں ہمیں یہ سب بالکل بھی پتہ نہ چل سکا۔ جبکہ فلسفہ محض خیالی باتوں پر زور دیتا ہے، جسکی تجرباتی اور مشاہداتی تصدیق آپ کرہی نہیں سکتے۔ کائنات کے متعلّق معلومات بھی ہمیں سائنس نے ہی بہم پہونچائی ہیں۔ فلسفہ نے نہیں۔ اسقدر نقائص کے باوجود ،فلسفہ آج بھی سائنس سے افضل ہے، کیونکہ فلسفہ "ام العلوم " ہے۔
آصف جاوید، ٹورونٹو
If your Gmail got hacked tomorrow, you could lose access to your:
- Bank logins
- Social accounts
- Business tools
- Cloud files
- Password resets
Your email is the master key to your life.
Here's the 30-minute setup that prevents this ↓
6 years in the gym taught me
Cortisol = Body Fat
If cortisol doesn't go down, the fat won't budge. Here are the best ways to reduce it:
1. Don't do so much cardio.
آخری عشرہ کے حوالے سے چند زریں مشورے
1: ہر رات میں ایسی دو رکعتیں پڑھنے کا اہتمام کیجیئے جس میں آپ 100 آیات پڑھیں۔
(اگر آپ کی نماز لیلۃ القدر میں پڑھی گئی ہے تو اپ اللہ کے نزدیک 84 سال کیلیئے "قانتین" میں لکھ دیئے جائیں گے۔
2: ہر رات میں 3 بار سورۃ الإخلاص کی تلاوت کیجیئے۔
(اگر اپ کی یہ تلاوت لیلۃ القدر میں ہوئی تو 84 سال کیلیئے ہر رات کو قران پاک مکمل پڑھنے کا اجر دیا جائیگا
3: ہر رات سورۃ البقرۃ کی آخری 3 آیات کی تلاوت کیجیئے۔
اگر آپ کی یہ تلاوت لیلۃ القدر میں ہوئی تو آپ کے حساب میں 30 ہزار راتوں کے قیام کا اجر لکھا جائیگا۔
4: ہر رات کچھ پیسے صدقہ کیجیئے
اور اگر یہ والا آپ کا عمل لیلۃ القدر میں ہو گیا تو یہ ایسا ہوگا جیسے آپ نے 84 سال ہر رات میں صدقہ کیا۔
5: ہر رات 100 مرتبہ (لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل ش��ء قدير) پڑھیئے۔
اور اگر آپ کا یہ عمل لیلۃ القدر میں ہوا ہے تو یہ ایسے ہوگا جیسے آپ نے 3 لاکھ انسانوں کی گردنوں کو دوزخ کی آگ سے آزاد کر دیا ہو، یاد رہے کہ ایک گردن کو آزاد کرنے کا مطلب دوزخ سے آزادی کا پروانہ ہوتا ہے۔
6: ہر رات میں کہیئے: (لا إله إلا الله وحده لا شريك له، الله أكبر كبيرا، والحمد لله كثيرا، سبحان الله رب العالمين، لا حول ولا قوة إلا بالله العزيز الحكيم) اور پھر اس کے بعد کہیئے (اللهم اغفر لي، وارحمني، واهدني، وارزقني)۔
اور اگر آپ کا یہ عمل لیلۃ القدر میں ہوا ہے تو یہ ایسے ہوگا جیسے آپ نے اپنے ہاتھوں کو 30 ہزار دنوں کے خیر سے بھر لیا ہو۔
۔
7: ہر رات میں کہیئے : اللهم اغفر للمؤمنين والمؤمنات
اور اگر آپ کا یہ عمل لیلۃ القدر میں ہوا ہے تو اپ کے نامہ اعمال میں 60 ارب نیکیاں لکھ دی جائیں گی۔
8: ہر رات میں 100 مرتبہ "سبحان الله" کہیئے۔
اور اگر آپ کا یہ عمل لیلۃ القدر میں ہوا ہے تو آپ کے نامہ اعمال میں 3 کروڑ نیکیاں لکھ دی
9: ہر رات میں 100 مرتبہ کہیئے (سبحان الله العظيم وبحمده)-
اور اگر آپ کا یہ عمل لیلۃ القدر میں ہوا ہے تو آپ کے اجر میں جنت میں 30 لاکھ کھجور کے درخت لگانا لکھ دیا جائیگا۔
10: ہر رات میں 100 مرتبہ کہیئے (اللهم صل على محمد وآل محمد)۔ اگرہمت ہے تو طویل درود پاک بھی پڑھ سکتےہیں، درود ابراہیمی یا دیگر کوئی بھی درود پاک۔
11: ہر رات میں 100 بار *لا حول ولا قوة إلا بالله* کہیئے۔
اور اگر آپ کا یہ عمل لیلۃ القدر میں ہوا ہے تو آپ کیلیئے جنت میں 30 لاکھ خزانے لکھ دیئے جائیں گے۔
This man singlehandedly destroyed science as an institution
His name was Robert Maxwell, and he was the father of Ghislaine Maxwell
He turned scientific knowledge into a commodity, locked it behind a paywall, a created the system which breeds authoritarian, conformist scientists who are terrified to challenge established dogma
His system weaponized science for elite control
British jew, media tycoon, and Mossad agent
He was the first to turn scientific publishing into a ruthless commercial business, locked behind steep paywalls.
In 1951 he founded Pergamon Press, which launched hundreds of niche scientific journals - each a tiny monopoly in its field, demanding expensive subscriptions
Overnight, freely available public-domain scientific knowledge became gated behind high costs, accessible only to an “intellectually elite” class… the new “intelligentsia”
He called this setup “a perpetual financing machine.” and it became the template for the entire industry today.
This commercial monopoly on science extracts free labor from scientists, who work tirelessly to write papers, review work and edit manuscripts to further their career prospects - all at no cost,
The profit margins for scientific journals far exceed almost every other industry. The top publisher’s margins are higher than Google and Apple. Elsevier, for example, brought in ~ $1.4 billion profit in 2024 alone.
This is a huge business which artificially inflates the cost of knowledge dissemination - that is ironically funded in large part by the taxpayer.
Unfortunately the entire business model incentivises VOLUME over QUALITY: Careers, grants, and promotions tie to publication count in "prestigious" (high-fee) journals.
This means that researchers are penalized for publishing less, and are instead rewarded for pumping out high quantity with little inherent value.
In other words, there are tangible benefits to publishing junk science, manipulated data and fabrication.
This model disincentivizes and actively punishes genuine scientific curiosity, independent thinking, long-term/risky work, and controversial opinions or lines of research which challenge established dogma.
It breeds authoritarian, conformist, self-censoring scientists who are averse to risk.
Furthermore, it laid the foundation for a gated elite class of “intelligentsia”. Only those in the “club” at wealthy scientific institutions, who tow the party line, are granted access to scientific knowledge. Those who stray too far from the norm are shunned and expelled.
The ultimate result? A bloated, generic mess of low-rigor, irreproducible papers
This model, which still dominates to this day, facilitated the corporatization and weaponization of of science
What began as a relentless pursuit for truth was coopted and sacrificed for endless greed & elite control of knowledge itself
𝗔 𝗣𝗢𝗜𝗡𝗧 𝗢𝗙 𝗡𝗢 𝗥𝗘𝗧𝗨𝗥𝗡
Donald Trump and Benjamin Netanyahu have just made the most consequential strategic miscalculation of their political careers.
The assassination of Iran’s Supreme Leader, Ayatollah Ali Khamenei, would not be interpreted as a limited tactical operation.
It would be perceived across the region as a strategic rupture, a point of no return between Washington and Tehran.
Such a move would not collapse Iran’s political system.
It would instead consolidate hardline consensus, legitimize expansive retaliation, and ignite a multi-front confrontation stretching from the Gulf to the Levant.
Rather than ending the Iranian challenge, it could accelerate the erosion of the American military footprint in West Asia.
And in a post-U.S. regional order, Israel would face a far more hostile strategic environment, one defined not by deterrence stability, but by sustained asymmetrical pressure.
دیسی_گھی کے زبردست فوائد
*معلومات الشفاء :
ویسے تو آج کل اکثر کھانے تیل میں پکائے جاتے ہیں مگر گھی وہ چیز ہے جو دہائیوں سے استعمال ہور ہی ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کھانوں کو مزیدار کرنے کے ساتھ ساتھ جسم کے لیے کس حد تک فائدہ مند ہے۔
*دیسی گھی، جسمانی توانائی کے لیے بہترین*
گھی جسمانی توانائی کے لیے ایک اچھا ذریعہ ہے، اس میں موجود فیٹی ایسڈز جسمانی توانائی بحال رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
دیسی گھی، قبض سے بچائے
اگر قبض کے مسئلے سے دوچار ہیں تو گھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ سونے سے پہلے ایک یا 2 چائے کے چمچ گھی کو گرم دودھ میں ملاکر پی لیں جو کہ قبض سے نجات دلانے میں مدد دیتا ہے۔
*دیسی گھی، توند سے نجات دلائے*
دیسی گھی ایسے اہم امینو ایسڈز سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ چربی اور فیٹ سیلز کو سکڑنے میں مدد دیتے ہیں، تو اگر آپ کو لگتا ہے کہ جسم بہت تیزی سے چربی اکھٹا کررہا ہے تو دیسی گھی کا اضافہ مددگار ثابت ہوسکتا ہے اسی طرح اس میں لنولی��ک ایسڈ بھی موجود ہے جو کہ اومیگا سکس فیٹی ایسڈز کی ایک قسم ہے، جس کا استعمال جسمانی وزن میں کمی میں مدد دیتا ہے، اومیگا سکس فیٹی ایسڈز چربی کا حجم کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے، جس سے توند سے نجات میں مدد ملتی ہے، دیسی گھی میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بھی موجود ہیں، جو پھیلتی کمر کو کم کرنے اور چربی گھلانے کے لیے فائدہ مند ہیں۔
دیسی گھی، وٹامنز سے بھرپور
اگر تو آپ گھی یا یوں کہہ لیں دیسی گھی استعمال کرنے کے عادی ہیں تو آپ کو وٹامنز سپلیمنٹس لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ ایک چمچ گھی میں وٹامن اے (ہڈیوں، جلد اور جسمانی دفاعی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ضروری) وٹامن ڈی (کیلشیئم ج��ب کرنے میں مدد دینے والا)، وٹامن ای (آنکھوں اور دماغ کے لیے بہترین) اور وٹامن کے (خون پتلا رکھنے میں مددگار) موجود ہیں، یہ وہ وٹامنز ہیں جن کی جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔
*دیسی گھی، صحت مند چربی پیدا کرے*
دیسی گھی میں سچورٹیٹڈ فیٹ موجود ہوتا ہے جس کا استعمال معتدل مقدار میں کیا جانا چاہئے خاص طور پر اگر دل کے امراض کا سامنا ہو، مگر اس میں فیٹی ایسڈز بھی موجود ہوتے ہیں جو کہ میٹابولزم پر ��ثبت اثرات مرتب کرتے ہیں، یہ فیٹی ایسڈز دماغی افعال اور اعصابی نظام پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔
*دیسی گھی، معدے کے لیے بہترین*
گھی میں ایسا فیٹی ایسڈ موجود ہوتا ہے جو غذائی نالی کا ورم کم کرتا ہے اور نظام ہاضمہ کو بہتر کرتا ہے۔
*دیسی گھی، غذا کے نقصان دہ اجزاء کو دور کرے*
زیادہ درجہ حرارت میں پکنے والے کھانے اگر گھی سے بنائے جائے تو ان میں پیدا ہونے والے مضر صحت اجزاء بننے کی فکر نہیں کرنا پڑتی، جبکہ تیل سے پکے پکوانوں میں ایسا نہیں ہوتا
دیسی گھی، کینسر سے تحفظ فراہم کرے۔
کوجیگیٹڈ لینولیس ایسڈ نامی جز جسمانی وزن میں کمی اور بلڈ پریشر سمیت مختلف اقسام کے کین��ر کے خلاف مزاحمت کرتا ہے، دیسی گھی میں قدرتی طور پر جز کافی مقدار میں ہوتا ہے
دیسی گھی، جلد کو ہموار کرے
گھی کو جلنے کے زخم یا سوجن وغیرہ کے لیے قدرتی دواء کے طور پر بھی متاثرہ حصے میں لگا کر استعمال کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اس سے ورم میں کمی آنے کا امکان ہوتا ہے۔
*دیسی گھی، پیٹ کو بھرا رکھتا ہے*
گھی میں موجود چربی پیٹ بھرنے کا احساس طویل وقت تک برقرار رکھتی ہے، گھی میں موجود صحت بخش فیٹس پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرنے کے ساتھ نیند میں بہتری، جسمانی وزن میں کمی اور کولیسٹرول کی سطح میں بھی کمی لاتا ہے
دیسی گھی، جوڑوں کے درد کے لیے مفید۔
دیسی گھی کا طویل المدتی استعمال نہ صرف آپ کے جسم میں موجود چربی کو کم کرتا ہے بلکہ یہ پٹھوں کو بھی مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ہڈیوں اور جوڑوں میں درد کا شکار افراد کے لیے بھی مؤثر ہے۔
*دیسی گھی کے مزید فائدے*
دیسی گھی، چھوٹے بچوں کے دانت نکلتے وقت اگر مسوڑھوں پر لگادیں تو دانت آسانی سے نکل آتے ہیں۔
دیسی گھی، اینٹی ایجنگ ہے بڑھاپے کو بڑی حد تک دور رکھنے والا قدرتی ٹانک ہے۔
دیسی گھی، خون کوصاف کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
دیسی گھی، بناسپتی گھی کی طرح نقصان دہ نہیں ہے اسی لئے دل اور دماغ کو طاقت پہنچاتا ہے۔
دیسی گھی، سینہ اور حلق کی خشونت دور کرکے آواز کو صاف کرتا ہے۔
دیسی گھی، جن افراد کا ہاضمہ بالکل ٹھیک ہو انکے لئے بہترین ہے۔
دیسی گھی، جسم کو موٹا اور اسکی افزائش کرتا ہے۔
دیسی گھی، جنسی بیماریوں سے بچنے کے لئے بہترین ہے
دیسی گھی، مادہ تولید کی تمام بیماریوں اور کمزوریوں کی مناسب طریقے سے روک تھام کرتا ہے۔
دیسی گھی، نیم گرم دودھ میں گھی ملاکر استعمال کرنے سے جسم سے ٹاکسن دور کرتا ہے
دیسی گھی، صحت، طاقت اور توانائی کا باعث بنتاہے
دیسی گھی، جسمانی کمزوری اور جسم ومزاج کی گرمی اور خشکی کی شکایت دور کرتا ہے۔
دیسی گھی، آنتوں میں بیکٹیریا جمع نہیں ہونے دیتا۔
10/10 This is a timeline of documented facts aligned with unanswered questions. A regional leader whose political orientation opposed the policies that followed was incapacitated at the precise moment his successor needed complete freedom to implement the opposite strategy. The policies changed immediately upon his absence. The regional order destabilized accordingly. The question is not whether Khalifa had a stroke. The question is what actually happened to his capacity to govern, who controlled that narrative, and whether the timing served the ambitions of his successor. That deserves investigation.
I asked a retired player turned faithful husband of 18 years: "What's the one type of woman you now warn every man to avoid?"
He didn't hesitate, he said: "The woman who makes you feel like her savior."
Here's why he calls it the most dangerous trap....