یہ دو خبریں غور سے پڑھیے۔ ان ہی میں سارا گیم چھپا ہے:
قصہ کچھ یوں ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف ڈیل کے لیے سر توڑ کوششیں کررہا ہے۔ آئی ایم ایف رضامند تو ہوگیا لیکن اس نے پیسے دینے کے لیے یہ شرط رکھی ہے کہ اس رقم سے سی پیک کے قرضوں کی ادائیگی قطعی نہیں کی جائے گی۔
اس کے علاوہ دو تین ماہ قبل آئی ایم ایف نے پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کرڈالا کہ اگر اگلی قسط چاہیے تو سی پیک کے تحت لگائے گئے پرائیویٹ بجلی گھروں سے کیے گئے معاہدے کو ری وزٹ کیا جائے
(دیکھیے بزنس ریکارڈر والا اسکرین شاٹ)
آئی ایم ایف کے اس مطالبے کے بعد، فنانس منسٹر جناب اورنگزیب صاحب، بھاگے بھاگے چین جاتے ہیں اور وہاں پاور معاہدوں کو renegotiate کرنے کی درخواست کرتے ہیں
چینی کمپنیاں ان کی اس درخواست کو مکمل طور پر مسترد کردیتی ہیں
(دیکھیے ایکسپریس ٹریبیون والا اسکرین شاٹ)
اب پاکستانی ریاست ٹینشن میں آگئی کہ ایک طرف آئی ایم ایف ک حکم ہے جو قسط حاصل کرنے کے لیے بجا لانا ضروری ہے تو دوسری طرف چین کی طرف سے بھی صاف انکار ہوچکا ہے
پھر اسی سال چین کے قرض کی ادائیگی بھی due ہے جسے رول اوور کروانا بہت ضروری ہے
اپنے سارے آپشن پہلے ہی exhaust کرچکے ہیں۔ اب خود سے تو کچھ نہیں کیا جاسکتا
اب کریں تو کیا کریں!
اسی صورتحال میں اسٹیبلشمنٹ ایک پرانی تکنیک استعمال کرنے کا منصوبہ بناتی ہے
یعنی،
پرائیویٹ بجلی گھروں پر پریشر ڈالا جائے گا لیکن خود سے نہیں
بلکہ،
کسی اور سیاسی قوت کو اس مشن کے لیے استعمال کیا جائے گا
وہ سیاسی قوت کون ہے؟ آپ سب ہی جانتے ہیں
ایک بات ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کے سینے میں دل نہیں ہے۔ یہ ہر کام کسی خاص مفاد کے تحت ہی کرتے ہیں
اگر کوئی دھرنہ جلوس ان کے مفادات کے خلاف ہو تو یہ درندے بن جاتے ہیں۔ بے انتہا شیلنگ کی جائے گی، تحریک کے اعلان ہوتے ہی سینئیر لیڈرشپ گھروں سے اٹھا لی جائے گی۔ بندہ نہ ملے تو گھر والوں کو اٹھا لیں گے۔ سیدھا فائر مارا جائے گا جیسا بنوں میں کیا گیا۔ طرح طرح سے تنگ کریں گے۔ تمام میڈیا پر مکمل بلیک آؤٹ ہوگا۔ ایک خبر یا ویڈیو نہیں چلنے دی جائے گی
کیا ایسا کچھ اس دھرنے میں نظر آیا؟
بالکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔
ریاستی مرضی کے خلاف دھرنہ دینے والوں کو ہمہ وقت اپنی جان کا خوف رہتا ہے کہ کب گولی چل جائے، ہمارے بیچ دہشتگرد گھس آئیں اور بھگڈر مچ جائے
جب کہ کل راولپنڈی کی سڑکوں پر سکون سے کرکٹ کھیلی جارہی تھی
بنوں میں کسی کو کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا؟
یہاں میں خصوصیت سے اس بات کا بھی ذکر کرتا چلوں کہ ریاست کی نظر میں کوئی جماعت پسندیدہ یا ناپسندیدہ نہیں ہوتی۔ صرف موقع اہم ہوتا ہے
مثلاً،
کچھ ہی ہفتوں پہلے، اسی جماعت نے اسرائیل کے خلاف احتجاج کیا تھا تو ان پر کریک ڈاؤن کیا گیا تھا۔ گرفتاریاں بھی کی گئیں تھیں۔ حتیٰ کہ ان پر اندھا دھن ایک گاڑی چڑھادی گئی جس سے اموات بھی ہوئی تھیں اور کئی زخمی ہوگئے تھے
جتنے پالشی پیجز تھے انھوں نے جماعت کی اس حرکت کو فتنے کی سیاست قرار دیا تھا
اس وقت رویہ اتنا سخت کیوں تھا؟
کیونکہ وہ تحریک ریاست کے مفادات اور مرضی کے خلاف تھی
جبکہ،
موجودہ تحریک ریاست کی منشاء اور مرضی کے عین مطابق ہے
سوال یہ ہے کہ یہاں چند دکھاوے کے نرم ملائم اقدامات کے سوا اتنا فری ہینڈ کیوں دیا جارہا ہے؟
کیونکہ اس وقت ریاست کا اپنا مفاد ہے
حافظ صاحب کا ایک خالصتاً عوامی مسئلے پر کیے گئے احتجاج میں، نئے الیکشنز کی ڈیمانڈ کا ذکر چھیڑ کر تحریک انصاف کو ملک دشمن قرار دینا، ایک طرح سے ریاست کی طرف سے دئیے گئے موقع پر انھیں شکریہ کہنا تھا
سو کس تحریک کو سپورٹ کرنا ہے اور کس سیاسی قوت سے execution کروانی ہے، یہ سب ریاست پلان کرتی ہے
ریاست کو پرائیویٹ بجلی گھر، خاص کر چینی بجلی گھروں پر عوامی پریشر ڈالنا ہے تاکہ آئی ایم ایف کا حکم بجا لایا جاسکے
سارا کھیل یہی ہے
ان دئیے گئے ریفرنسز، ٹائم لائن اور ریاستی نرمی پر غور کیجیے، آپ کو پوری تصویر سمجھ آجائے گی
آخری بات،
یہ جتنا بھی چکر چلایا گیا ہے، ساری سیاست ایک طرف رکھ کر تجزیہ کیا جائے تو یہ صریحاً عوام کے حق میں ہی ہے
بجلی کے بلوں سے شدید ستائے ہوئے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ ان بلوں میں کمی ہے۔ یہ سارا چکر کامیاب ہوتا ہے تو نتیجتاً عوام کو ایک بہت بڑا ریلیف مل سکتا ہے
لہذا یہ وہ کھیل ہے جس کے بینیفیشری غیر دانستہ طور پر عوام بننے جارہے ہیں۔ اس لیے یہ کھیل خوش آئند ہے
البتہ،
میں ایک بات بہت کھل کر کہنا چاہوں گا کہ اس حوالے سے سب سے بڑا شکریہ کہنا بنتا ہے تو وہ آئی ایم ایف کے لیے بنتا ہے جن کے دئیے گئے پریشر سے مجبور ہوکر، ریاست یہ سارا کھیل کھیلنے اور سیاسی قوتوں کو استعمال کرنے پر مجبور ہوئی
یاد رکھیے،
معاشی پریشر کے سامنے بڑی بڑی قوتیں ڈھیر ہوجاتی ہیں
#تمھارا_ملک_ڈوب_رہا_ہے