اگر آپ 283روپے روزانہ یعنی 8483روپے ماہانہ کماتے ہیں تو پیٹرول،بجلی اور موبائل ریچارج پر ٹیکس ادائیگی کے باوجود کس طرح گھر کا چولہا جلاتے ہیں،حکومت پاکستان کو اس بات سے کوئی غرض نہیں،البتہ سرکار کے کاغذات میں آپ غریب نہیں ہیں۔غریب وہ ہے جس کی ماہانہ آمدن 8483روپے سے کم ہے۔۔۔غربت کی اس حکومتی تعریف کے باوجود وطن عزیز میں 7کروڑ لوگ غربت کی دلدل میں دھنس چکے ہیں۔اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق گزشتہ 6برس میں غربت کی شرح 21.9فیصد سے بڑھ کر 28.9فیصد ہوگئی۔2018-19ء میں غربت کے شکنجے میں جکڑے پاکستانیوں کی تعداد 43ملین تھی جس میں 27ملین کا اضافہ ہوا۔حکومتی بزرجمہر یہ تاثر دینے کی کوشش کریں گے کہ غربت میں 7فیصد اضافہ ہوا ہے حالانکہ غریبوں کی تعداد43ملین سے بڑھ کر 70ملین ہوگئی تو اس کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ غربت میں 62.8فیصد یعنی تقریباً63فیصد اضافہ ہوا۔(27/43×100)
ایک اور افسوسناک حقیقت یہ کہ بلوچستان،سندھ اور خیبرپختونخوا ہی نہیں بلکہ خوشحال ترین صوبہ پنجاب بھی غربت کی لپیٹ میں ہے۔پنجاب میں غربت کی شرح 2018-19ء میں 16.5فیصد تھی جو 2024-25ء میں بڑھ کر 23.3فیصد ہوگئی۔اس افلاس کا ذمہ دار کون ہے؟2022ء سے 2026ء تک ایک سال نگران وزیراعظم کا نکال دیں تو شہبازشریف وزیراعظم ہیں اور ایک ہی نظام چل رہا ہے۔کیا ایسی بدترین معاشی کارکردگی کے ساتھ کوئی حکومت چل سکتی ہے؟
یہ اکنامک ٹیم اور یہ حکومت ایک مذاق ہے ! رانا عاطف
آئی ایم ایف تو ان کی تعریفیں کر رہا ہے ! افتخار شیرازی
آئی ایم ایف اس لیے ان کی تعریفیں کرتا ہے کیونکہ سب سے زیادہ پروگرام انہوں نے لیے ہیں یہ ریگولر کسٹمر ہیں تو آئی ایم ایف نے اپنے ریگولر کسٹمر کی تعریف ہی کرنی ہے! رانا عاطف🤣
اسد طور کا تہلکہ خیز انکشاف🔥🔥🔥
امریکہ ایران کی صلح کروا کر حکومت سمجھ رہی تھی کہ اب معاشی حالات پھر جائیں گے IMF سے اچھی والی ڈیل ہوگی لیکن موجودہ ہائبرڈ رجیم کو بہت خوفناک جھٹکا لگا ہے۔ اب اس ہائبرڈ نظام کی زندگی لمبی نظر نہی آ رہی اور عمران خان کا ہی مستقبل نظر آ رہا ہے۔ یہ حکومت مکمل ناکام ہوگئی یے معاشی لحاظ سے سعودی عرب کی لاکھ خوشامد کی وہ بھی سرمایہ کاری نہیں کررہا IMF نے کسی بھی قسم کا ریلیف دینے سے انکار کردیا مطلب ٹرمپ نے لفٹ نہی کروائی ۔ پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کا سب سے بلند 35 ارب ڈالر ہوگیا ہے اور اگلے سال بھی کسی قسم کی کوئی سرمایہ کاری ہونے کا چانس نظر نہی آرہا اور اس بھیانک معاشی نظام کی وجہ سے ملک چلنا نا ممکن ہے۔
#کتناظلم_کروگے_یزیدو
لاہور سے ہی ایک اور ن لیگی کارکن نے اپنا بل بھیجا ہے جس کے یونٹ 180 بن رہے تھے کیوں کہ اس نے سولر لگوایا ہوا ہے لیکن لیسکو نے 180 یونٹ کا بل 10676 لگایا ہوا ہے ۔
فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 8909 روپے ڈال دئے۔ جب وہ بل لیکر XEN کے پاس گیا تو اس نے کمرے یہ کہہ کر نکال دیا کہ سولر والے مفت خور ہیں۔
بھئی حکومت سیدھا سیدھا قانون بنادے کہ مملکت خداداد پاکستان میں سولر لگوانا جرم ہے
اویس لغاری نے کا نیا کارنامہ سامنے آیا ہے ۔
اب آپ بجلی بالکل بھی استعمال نہ کریں ۔ پھر بھی بھاری بل دینے پڑیں گے۔
حکومت کیپسٹی چارجز کے نام پر عوام سے کھربوں روپے لے چکی ہے ۔ اور لے رہی ہے ۔
یعنی آئی پی پیز وغیرہ جتنی بجلی بنارہے ہیں ۔ حکومت اس کے پیسے عوام سے لے رہی ہے ۔ چاہے عوام وہ بجلی استعمال کریں یا نہ کریں ۔
اس پر لاہور ہائیکورٹ میں غیر استعمال شدہ بجلی یونٹس کی مد میں کھربوں روپے کی وصولی کیخلاف ایک شہری نے درخواست دائر کردی ہے۔
الیٹ کا جیٹ فیول 283 روپے لیٹر ہے عام لوگوں کا پیٹرول 382 روپے لیٹر ہے
اللہ میاں یہ کیسا پاکستان ہے جہاں اس قدر طبقاتی عدم انصاف ہے ؟
اس پر شہباز شریف کا دعویٰ کہ عام کو رلیف دیں گے
یہ اویس لغاری کو ن لیگ والے کہاں سے پکڑ کر لائے ہیں ۔ اب یہ کہہ رہا ہے کہ سولر لگا کر لوگوں کے یونٹ 200 سے نیچے آگئے ہیں جو کہ 200 یونٹس سے اوپر والوں پر بوجھ پڑ رہا ہے ۔ اس لئے اب سولر لگانے والوں کو بجلی مزید مہنگی دیں گے ۔
یہ بندہ حکومت ڈبو دے گا