صوبے چار ہوں یا سات نظام تو یہی ہے،نظام تو تبدیل نہیں ہوجانا،آپ کہیں کہ وزیراعظم 18 گھنٹے کام کریں تو ف��ق نہیں پڑے گا،بھئی فرق پڑا ہے آج پوری دنیا پاکستان کی عزت کرتی ہے،یہ ملک دیوالیہ ہونے سے بچا ہے،رانا ثناءاللہ
ن لیگ کے بڑوں کو چاہییے کہ اب میرٹ والی اخلاقیات سے نکل کر اپنے MPA اور MNA میدان میں اتاریں، ان کو حلقے کی سیاست کرنے دیں، بیوروکریسی کے چنگل سے نکل کر گاؤں دیہاتوں تک اپنی پارٹی کو اعتماد میں لیں،
جن کے سامنے آپ اچھے بننے کی کوشش کر رہے ہیں ، وہ قادری، TLP اور عمران خان جیسے کاکروچ اور کیڑے مکوڑے ا��لام آباد لا کر بیٹھا دیں گے تب آپ کا ورکر اتنا کمزور ہو شکار ہو گا کہ آپ کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا،
اپنے ووکرز اور ووٹرز کو عزت دیں، یہی آپ کے لیے مار کھاتے آئے ہیں اور آئندہ آپ کا بازو بنیں گے
کوئی پہلی بار ملک توڑ کر بھی وزیراعظم بنا تھا،کوئی پہلی با�� سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی وزیراعظم بنا تھا،رانا ثناءاللہ نے پیپلزپارٹی کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اور ناظرین خواجہ محمد آصف علیم خان کے پیچھے ہیں جبکہ رانا ثناءاللہ خان محسن نقوی کے پیچھے چڑھ دوڑے ہیں جبکہ وڈے میاں جی نے نماز جمعہ کے بعد آن بانگے چوچے کی یخنی اور دیسی پھلکوں کے ساتھ طعام مکمل کیا
سمجھ ککھ نہیں آرہا لیکن سواد بہت آرہا ہے
کھیل کے میدان سے لے کر بلوچستان کے قبرستانوں تک کشمیر کی خاموشی سے لے کر اسلام آباد کی گلیوں اور پختونخوا کے جلتے ہوئے پہاڑوں تک... جہاں جہاں اس محسن نقوی کے قدم پڑے وہاں صرف تباہی کی خاک اڑی اور بے حسی کا عالم تو دیکھئے جب بلوچستان کی مٹی اپنے بچوں کے خون سے تر ہو رہی تھی تب یہ صاحب بہادر نیویارک کی جگمگاتی سڑکوں پر یوں اترا کر چل رہے تھے جیسے دنیا کی تمام سفارت کاری انہی کی مرہونِ منت ہو
یہ نظام ناکام نہیں ہوا جناب۔۔۔
جس جرنیل کی سفارش پر آپ سینیٹر اور وزیر بنے ہیں وہ ناکام ہوا ہے۔۔۔ زرا سی شرم حیا ہوتی تو استغفی دے کر گھر چلے جاتے اپنے گریبان میں جھانکتے اور اس جرنیل کے استغفی کا بھی مطالبہ کرتے۔۔۔
کیا آپ کو علم ہے کہ اس نظام سے سب سے زیادہ فائدہ آپ کی ذات کو پہنچا ہے۔۔۔
@MohsinnaqviC42
بس یہ باد رہے کہ صوبوں والے مسئلے پر جناب محسن نقوی ویسے ہی غائب ہو جائیں گے جیسے نہروں والے مسئلے پر غاب ہوئے تھے، وزیر داخلہ نے بین الصوبائی سڑک بھی نہیں کھلوائی تھی اور بھولڑو نے بھارت کے خلاف جوابی گولی تب تک نہیں چلانے دی تھی جب تک نہروں والی فائل واپس الماری میں رکھنے کا اعلان نہیں ہوا۔
سر جی آپ کو نئی واردات کے لئے گھیرا جا رہا ہے۔ ہم نے بروقت بتا دیا ہے۔
جس شخص کے پاس نہ سیاسی تجربہ ہو اور نہ انتظامی، اسے پہلے نگران وزیرِ اعلیٰ، پھر وفاقی وزیرِ داخلہ، پھر سینیٹر، اس کے بعد چیئرمین کرکٹ ب��رڈ، پھر وزیرِ انسدادِ منشیات بنایا جائے، اور کہیں کہیں وزارتِ خارجہ کا کام بھی لیا جائے، تو نظام کی تباہی کیسے نہ ہو؟ محسن نقوی صاحب درست کہہ رہے ہیں یہ نظام نہیں چل سکتا، اسے فوری تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر نئے نظام میں بھی محسن نقوی صاحب خود کو شامل کر رہے ہیں، تو بھائی پھر موجودہ نظام ہی ٹھیک ہے۔
پاکستان کی عوام کی رائے ہے کہ محسن نقوی کو سیاست سے نکالا جائے۔ اس کو کسی نے بھی ووٹ نہیں دیا، اور پھر بھی 4 سے 6 عہدوں پر ہیں۔ یہ ہم سے جمہوریت کی باتیں بالکل نہ کریں۔ شکریہ۔
اس دفعہ وفاق نے زیر تعمیر کچھی کینال کے لئے بجٹ نہیں رکھا، بھولڑو نے بلیک میلنگ کرکے آدھی بنی نہر کی مزید تعمیر رکوا دی ہے اور آپ نئے انتظامی یونٹس کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
پہلے نہریں تو بنوا لیں، صوبے بعد میں بنوا لیجئے گا
ابصار عالم نے ذہنی مریض محسن نقوی کی بینڈ بجا دی
کرکٹ کا ستیاناس “ بلوچستان کا ستیاناس “ کش میر کا ستیاناس “ اسلام آباد کا ستیاناس “ خیبرپختونخواہ کا ستیاناس وزیر داخلہ نے کر دیا ہے
بلاول بُھٹو زرداری صاحب، پلیز میرے ایک سادہ سوال کا جواب دیں کہ آپ کو کب پتہ چلا کہ شہباز شریف فارم ۴۷ کے وزیر آعظم ہیں ؟ جب آپ اور آپکی پارٹی جانتی تھی کہ ن لیگ فارم ۴۷ کے ذریعے جیتی ہے تو آپکی پارٹی نے ن لیگ کے ساتھ مل کر حکُومت کیوں بنائی؟ اگر یہ حکُومت ناجائیز ہے تو صدر ، چئیرمین سینیٹ، سارے گورنر اور بلوچستان کی حکُومت بھی ناجائیز ہوگی اور قوم کے ساتھ آپکی پارٹی نے مل کر دھوکہ کیا ہے! یا ��و پھر آپ کو کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں ہارنے کے بعد فارم ۴۷ کا پتہ چلا ہوگا۔ چلیں خیر اگر اب بھی آپ سمجھتے ہیں کہ شہباز حکُومت ناجائیز ہے تو کم از کم اب تو آپ مرکزی حکُومت سے علیحدہ ہوکر سارے عہدے چھوڑ دیں اور قوم سے معافی مانگیں ورنہ آپ کو اور آپکی پارٹی کو اس دور کے ہر غلط فیصلے کا حصہ دار اور ذمہ دار سمجھا جئے گا!!!!!!!!!
وزارتِ داخلہ کی بے پناہ طاقت ہو، منسلک وزارتوں کا مکمل کنٹرول ہو یا پی سی بی کی قیمتی کرسی، تمام تر کلیدی عہدوں پر براجمان ہونے کے بعد محسن نقوی کا یہ واویلا کرنا کہ سسٹم نہیں چل سکتا ، کھلی ڈھٹائی اور اپنی مجرمانہ نااہلی کا اعتراف ہے۔ پچھلے ڈھائی سال میں امن و امان کی شدید زوال پذیری، 1800 سے زائد دہشت گردانہ حملے اور دوسری طرف امریکا اور بنگلہ دیش جیسی ٹیموں سے تاریخی شکستوں کے بعد کرکٹ کا بدترین زوال اس بات کا ثبوت ہے کہ موصوف ہر محاذ پر مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ اقتدار کے سارے سکھ، شاہانہ پر��ٹوکول اور لامحدود اختیارات سمیٹ کر جب نتائج دینے کی باری آئے تو سسٹم خراب ہے کا رونا دھونا واہ ،
اگر کہیں ناکامی ہے تو وہ محسن نقوی کی قیادت، ترجیحات اور حکمرانی میں ہے۔ جب اختیار بھی آپ کے پاس ہو، وسائل بھی آپ کے پاس ہوں اور ذمہ داری بھی آپ ہی کی ہو، تو ناکامی کا ملبہ نظام پر ڈالنے کے بجائے اپنی بدترین کارکردگی کا جواب دیں۔ نظام کو نہیں، اپنی حکمرانی کو بہتر بنائیں۔
سسٹم میں آپ وزیر داخلہ ہیں- نہ پولیس ٹھیک ہوئی اور نہ ایف آئی اے- بلکہ آپکے دور میں خودمختار بننے والا ادارہ NCCIA اسوقت کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے-
سسٹم میں آپکے پاس نارکوٹکس کا اضافی قلمدان ہے لیکن ہر گلی, محلّے, اسکول, کالج اور یونیورسٹی میں منشیات باآسانی دستیاب ہیں-
سسٹم میں آپ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ہیں اور کرکٹ کی جتنی تباہی آپکے دور میں ہوئی, ہم نے پوری زندگی میں اتنی نہیں دیکھی-
سسٹم میں آپ 13 ماہ پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ رہے- آپ کچھ کر کے گئے ہوتے تو محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کو یوں دن رات تو ایک نہ کرنے پڑتے-
سسٹم نے آپکو ایران-امریکہ تنازعے میں خارجہ امور نمٹانے کی ذمہ داری دی- آپ نے ہمیشہ سب اچھے کی رپورٹ دی لیکن آج آپ جس انداز میں پاکستان کے سسٹم پر تنقید فرما رہے ہیں, اسطرح کبھی ایران کے پاسداران انقلاب کی اصلیت بھی کھول کر بیان کرتے اور باسز کو بتاتے کہ ایرانیوں سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں- لیکن اسکے بجائے آپ نے انتہائی ذوق و شوق سے اپنے ٹور جاری رکھے-
قبلہ نقوی صاحب, اپنی ناکامیوں پر سسٹم کو پیٹنے اور اسے ری-سیٹ کرنے, نئے صوبے بنانے کی بات کرنے کے بجائے اپنے قلمدان پر توجہ دیں- پولیس, ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کو ٹھیک کریں, 80 فیصد سسٹم خودبخود ٹھیک ہو جائے گا- پالیسی امور منتخب نمائندوں پر چھوڑ دیں-
تمھیں لیپ ٹاپ نظر آ گیا لیکن 800 ارب روپے BISP کے نام پر ہڑپ کر کے عوام کو بھکاری بنانے والا پروگرام نظر نہ آیا کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟
کیا تمھیں کسی کاروباری سیٹھ نے یہ نہیں بتایا کہ 800 ارب سے کون کون سی انڈسٹری اور کتنا روزگار نوجوانوں کو مل سکتا ہے ؟