۱-خونی لیگ۔۔کی بھیانک ترین کاروائی
Telecommunication کمپنیاں کسی بھی پاکستانی کی ذاتی جائیداد، گھرخالی کروا کر 30 دن کے اندر اپنا ٹاور وہاں نصب کر سکتی ہیں، انکار کی صورت میں اس شخص کو 5 کروڑ جرمانہ ادا کرنا پڑیگا
خاندانی کوٹے پر پہلے MNA، اب سائنس و ٹیکنالوجی کی وزیر بننے والی
اگر مجھے نوٹس آئے کہ چلو اپنا گھر خالی کرو ہم نے یہاں ٹاور لگانا ہے، تو میں اپنی کلاشنکوف نکال کر سب کو بھون دوں گا،
مجھے سب سے زیادہ غصہ شزا فاطمہ پر ہے جو خواجہ آصف کی کچھ لگتی ہے،
یہ سفارشی ہے میں اسے پڑھی لکھی خاتون سمجھتا تھا، اس کی جانب سے ایسا بل پیش کرنے کی توقع نا تھی، نجم سیٹھی
غزہ میں ہماری معصوم بچی، اپنے باپ کی لاش سے لپٹ کر رو رہی ہے. انہیں جگانے کی کوشش کر رہی ہے.
قیامت کے دن اس بچی کے ہاتھ میں ان تمام خود غرض مسلمانوں کے گریبان ہونگے. شاید ان کے جہنم میں پھینکنے کا فیصلہ بھی میرا الله ان بچیوں کے ہاتھ میں دے.
ذرا تصور کیجیےجب صحافیوں کو ان کے کیمروں کے سامنے پولیس تشدد کا نشانہ بنا رہی اُن علاقوں میں عام شہریوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہوگا جہاں انٹرنیٹ موبائل سروسز تک بند ہوں دنیا کی نگاہ وہاں نہ پہنچ سکے
صحافی رخسار قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے کشمیر کمیونٹی کے احتجاج کی کوریج کی
عوام کی زندگی اور اشرافیہ کی زندگی دیکھیں تو یہ ملک اشرافیہ کے لیے چلایا جا رہا ہے۔ سارا ٹیکس کا نظام، حکومتی اخراجات کا نظام انہی کے لیے ہے۔ بڑی بڑی سڑکوں پر جو قرض لیا گیا، یو ٹرن کے قرضے، یہ کس لیے تھا؟ کہ گاڑی والوں کو آسانی ہو، ٹریفک تیز چلے۔ لیکن پیدل چلنے والے، سکول کے بچے، عورتیں، وہ کھڑے انتظار کرتے رہتے ہیں کیونکہ گاڑی رکتی نہیں، کراس کیسے کریں؟ یہ بنیادی طور پر عوام دشمن نظام بنایا گیا ہے۔
قیصر بنگالی
پٹواریوں کے " کھرب پتی " دادا جان میاں شریف کے نیشنلائزیشن سے قبل ٹوٹل اثاثے 10 لاکھ روپے کے تھے جبکہ اس زمانے میں داؤد گروپ کے اثاثے 550 ملین سے زیادہ کے تھے ! شہزاد اقبال ۔۔۔
ویسے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں 96 میں اس ارب پتہ خاندان 477 روپے کا ٹیکس دیا تھا اور وہ بھی یکمشت ۔۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی زمین جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر ہو گا۔
(صحیح بخاری ، ١١٩٦)
#خاتم_النبیین_محمدﷺ
#خاتم_النبیین_رَحۡمَةًلِّلۡعَٰالَمِينَ_محمّدﷺّ
انتہائی اہم🚨غزہ میں اوسط عمر 75 سال سے کم ہو کر 35 سال رہ گئی ہے۔طبی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ محض رائے نہیں بلکہ سائنسی حقیقت ہے۔
بمباری، براہِ راست ہلاکتیں، صحت کی سہولیات سے محرومی، زخمیوں کا خون بہہ جانے سے مر جانا، انفیکشنز اور بمباری سے ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث اموات، نیز نمونیا، دل کے دورے، فالج، ذیابیطس اور حمل جیسی عام طبی حالتوں میں ضروری علاج نہ ملنے سے ہونے والی قبل از وقت اموات۔ یہ سب عوامل مل کر اس تباہ کن صورتحال کا سبب بنے ہیں۔
پانی، خوراک اور تحفظ کی کمی نے بحران کو مزیدسنگین بنا دیا ہے۔ان تمام اثرات کو یکجا کیا جائے تو نتیجہ اوسط عمر میں اس غیر معمولی اور ہولناک کمی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
مقرر کے مطابق، یہ سب انسانوں کے بنائے ہوئے حالات کا نتیجہ ہے، جو مکمل منصوبہ بندی اور دانستہ اقدامات کے تحت اسرائیل کی جانب سے انجام دیے گئے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ وزیرتعلیم پنجاب ایک استاد کے لیے 20 ہزار کی تنخواہ اور وزیراعلی کے لیے 11 ارب کے طیارے کو بیک وقت ڈیفنڈ کررہے ہیں اگر وزیراعلی کے لیے امریکی صدر والی سہولیات ہیں تو پنجاب کے استاد کے لیے امریکی ٹیچرز والی تنخواہ اور سہولیات کیوں نہیں؟سوال کرنے پر الجھ پڑے۔۔۔
شزا فاطمہ کی توجیہات کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہیں. انڈرگراؤنڈ فائبر ہر جگہ بچھائی جا رہی ہیں، وہ کوئی پرائیویٹ سوسائیٹی ہو یا حکومتی جگہ ہو.
ہماری سوسائیٹی میں سٹارم فائبر کی فائبر آپٹک بچھی ہوئی ہے اور وہ فائبر آپٹک کا ہم سے ہر مہینے 150 روپے سوسائیٹی کیلئے بل میں شامل کرتے ہیں.
معاملہ یہ ہے کہ اگر میں اپنے گھر پر ٹاور نہیں لگوانا چاہتا تو ٹیلی کام کمپنی مجھے دھمکائے گی کہ مان جاؤ ورنہ ہم ٹاور بھی لگائیں گے اور پانچ کروڑ روپے جرمانہ بھی حکومت سے کروائیں گے.
ایسا فضول اور غیرآئینی بل خواجہ آصف کی بھانجی نے منظور کروایا ہے اور ساری اسمبلی نے اسے پاس کردیا ہے. یہی وہ اراکین اسمبلی ہیں جو کہتے ہے کہ انہیں عوام کے ٹیکس سے دس دس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ دی جائے تاکہ یہ عوام کے گھروں کو تڑوائیں اور انہیں پانچ کروڑ روپے جرمانہ بھی کریں.
حیرت ہے اتنے دن گزرنے کے باوجود بھی خواجہ آصف نے اس بل پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کیونکہ وہ خود بھی اس بل کو پاس کرنے والوں میں شامل ہیں.
یہ بل عوام کے حقوق پر دن دیہاڑے ڈاکہ ہے. اسے فوراً منسوخ کرنا چاہئے اور شزا فاطمہ سمیت جنہوں نے بھی یہ بنایا ہے انہیں عہدوں سے فارغ کر دینا چاہئے.
یہ ہے آم کا جوس، مینگو جوس کے نام پر کیمیکل ملا گند بیچا جا رہا ہے ۔
لاری اڈوں سرکاری ہسپتالوں اور سرکاری سکولوں کے باہر یہ ریڑھیوں والے کھڑے ہوتے ہیں ۔ آم صرف دکھانے کے لئے رکھے ہوتے ہیں ۔ باقی سب کیمیکل ہوتا ہے۔
فوڈ اتھارٹی والے ستو پی کر سوئے ہوتے ہیں !
آج وزیراعظم نے پیٹرول کی قیمت کے لیے کمیٹی بنا دی ہے تو یاد کروا دوں دو ڈھائی مہینے پہلے الیٹ کے ان غیر قانونی اپارٹمنٹ پر بھی کمیٹی بٹھائی تھی اور آج تک وہ کمیٹی لاپتہ ہے