🚨اہم ترین
5 اگست کو جب علیمہ خان لیڈر کریں گی تو ہزاروں نہیں ، لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ سڑکوں پر نکلیں گے،
اور اب کی بار واپسی نہیں ہوگی اور نا ہی ایسا ہوگا کہ گولی چلے اور لیڈر غائب ہو جائیں نہیں اب کی بار ہم پہلے گولیاں کھائیں گے، اقبال آفریدی
عاصم منیر ایک سرکاری ملازم ہے لوگ اس نام لینے سے ڈرتے ہیں کیونکہ اس کے ہاتھ میں بندوق ہے لیکن ہم اس سے نہیں ڈرتے زیادہ سے زیادہ وہ ہمیں شہید کر دے گا ہم اس کے لیے تیار ہیں
علیمہ خان
اگر یہاں کاکروچ جنتا پارٹی کا چیئرمین مال روڈ لاہور آ کر احتجاج کرے تو خدشہ ہوتا ہے کہ رات کو اس کی بوڑھی ماں کا دوپٹہ اتار دیا جائے، اس کی بہن کو اغوا کر لیا جائے اور اس کے بھائی و والد پر تشدد کیا جائے۔ اگر کوئی عدالت اس کے تحفظ کا حکم جاری کرے تو اس پر عمل درآمد کے بجائے متعلقہ جج کے رشتہ دار کو اغوا کر کے کرنٹ لگایا جائے۔
— بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی
@SalmanKNiazi1
#خان_کے_لئے_متحد
واہ بھئی واہ۔
پوری رپورٹ کردی کروڑوں درختوں لگانے کی تعریف بھی کردی۔ خیبرپختون خواہ ہرا بھرا ہوگیا یہ بھی دکھا دیا
مگر
عمران خان نے یہ کیا تھا اتنا سچ کہنے کی اخلاقی جُرات نہیں ہوئ۔
پی ٹی آئی کو بطور جماعت ایک لمحہ رک کر اپنے ان بزرگ رہنماؤں کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کے پاس تو عمر بھی ہوتی ہے اور وقت بھی، لیکن جب جوانی یا عمر جیل کی سلاخوں کے پیچھے لٹ جائے تو انسان کے پاس صرف ایک خول رہ جاتا ہے۔
روح پر کیا گزرتی ہے، یہ وہی جانتا ہے جو اس کرب سے گزر رہا ہو!
اور پھر یہ چار لوگ، جنکے نام آج ہر زبان پر ہیں، سب کی عمریں ستر برس سے زیادہ ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد ہوں یا اعجاز صاحب، سرفراز عمر چیمہ ہوں یا محمود الرشید صاحب میں واقعی انکی سیاسی قوت ارادی (Political Will) پر حیران ہوں۔ اپنے خدا کو آگے رکھ کر انہوں نے جیل کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں۔ عمران خان تو جسمانی طور پر فٹ ہیں، ایک ایتھلیٹ رہے ہیں، انکی ذہنی مضبوطی اپنی جگہ، لیکن ذرا ان لوگوں کو بھی دیکھیے جو عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں جسم خود ایک آزمائش بن جاتا ہے۔
سوچیے، ستر برس کی عمر میں گھٹنوں کے بل بیٹھنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے۔ باتھ روم تک جانا بھی ایک مشقت بن جاتا ہے۔ ایسے میں جیل کی بدترین سختیاں سہنا، اپنی آزادی کے برس قربان کرنا، اپنے بچوں، پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں سے دور رہنا، یہ کوئی معمولی بات نہیں! انہوں نے اپنی اقدار کا سودا نہیں کیا، بلکہ اپنی نشستیں، اپنی آسائشیں اور اپنی زندگی کے قیمتی ترین سال قربان کرنا قبول کیا۔
میں اکثر سوچتی ہوں کہ خدا کے ساتھ انکا تعلق کتنا مضبوط ہوگا کہ انہوں نے ہر قیمت پر اپنے ضمیر کو بچانا بہتر سمجھا۔
پی ٹی آئی، خصوصا قیادت، ISF اور ILF کو اپنے ان بزرگوں سے سیکھنے کی سخت ضرورت ہے۔ افسوس یہ ہے کہ پارٹی کے سب بااثر لوگ ان سے ملنے بھی نہیں جاتے۔ اگر قریب جا کر نہیں سیکھ سکتے تو کم از کم دور بیٹھ کر ہی انکے صبر، استقامت اور کردار سے سبق لے لیں۔
شاید پاکستان کا بھلا ہو جائے!
باجوڑ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے کا شکریہ، ہمیں کہا گیا باجوڑ نہ جائیں حالات ٹھیک نہیں ، ہمیں پتہ ہے یہاں کے لوگ مشکلات میں ہیں، بے گناہ لوگوں کی شہادتیں ہوئیں۔ جب عمران خان کی حکومت تھی یہاں امن تھا حالات ٹھیک تھے۔ ہمیں آج پھر امن و امان کے لیے عمران خان کی ضرورت ہے۔ عمران خان نے نو دفعہ پیغام بھیجا اور حل بتایا اس علاقے میں امن قائم کرنے کا، عمران خان جیل میں بیٹھ کر بھی آپ لوگوں کے لیے پریشان تھے علیمہ خان
اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے کچھ سوال:
۱) جب آپ اپنے مسلمان بھائی اور اپنے ہی ملک کے شہریوں پر گولی چلاتے ہیں، آپ کو محسوس نہیں ہوتا کہ کتنا بڑا گناہ کر رہے ہیں اور آپ دنیا اور آخرت دونوں میں رسوا ہو سکتے ہیں؟
اگلے سوال خاموش تماشائیوں کے لیے:
۲) کیا آپ اپنے بڑوں سے سوال کرتے ہیں کہ آخر اپنے شہریوں کو کیوں مارنا پڑ رہا ہے اور اس کی نوبت کیوں آئی ہے؟
۳) کیا آپ اپنے بچوں کو قتل کی روزی کھلا کر فخر محسوس کرتے ہیں؟ آپ ٹیم قتل عام نہیں ہیں؟
۴) آپ کے گھر والے مطمعین ہیں آپ کی اس نوکری سے جس سے کسی ماں کی گود اجڑ جاتی ہے اور کسی خاندان کا قیمتی شخص اپنے بچوں سے اور والدین سے ہمیشہ کے لیے دور ہوجاتا ہے۔ آپ کے بچے شاید اچھی تعلیم حاصل کر جائیں اور آپ کے والدین اچھے ہسپتال میں اپنا علاج کروا سکیں، مگر یہ ایک انتہائی خودغرض فیصلہ ہے آپ کا اور آپ کی پوری فیملی کا۔
۵) پچھلے چار سال میں کتنی بار خیال آیا کہ سوال پوچھیں قتل عام کروانے والے بڑوں سے؟ ہم نے سنا تھا فیڈبیک لی جاتی ہے ادارے میں اور میرٹ پر فیصلے ہوتے ہیں۔ پچھلے چار سالوں میں جتنا ظلم ہوا ہے وہ کس طرح پاکستان کے حق میں ہوسکتا ہے۔ برکت ہی اٹھ گئی ہے ملک سے، ہر طرف بربادی ہی بربادی نظر آرہی ہے۔
۶) جب یہ ظلم کا زمانہ ختم ہوگا اور جب آپ لوگوں میں جائیں گے تو اپنی کیا شناخت کروائیں گے؟ اور جب وہ پوچھیں گے کہ آپ نے کس طرح آواز اٹھائی ظلم کے خلاف تو کیا کوئی جواب ہوگا؟
۷) جب آپ کے بچے بڑے ہوں گے، تو وہ کس طرح آپ پر فخر کریں گے اور کیا وہ اپنی شناخت میں آپ کا ذکر کریں گے؟
۸) ڈی چوک، مرید کے، راولاکوٹ اور دیگر علاقوں کے شہداء جن کو اللہ کی فوج کے سپاہیوں نے گولیاں مار کر شہید کیا، آپ کے خواب میں اگر آکر سوال پوچھیں گے تو آپ کیا جواب دیں گے؟
فوری طور پر توبہ کرنے کا وقت ہے یہ۔ اللہ سے اور پوری قوم سے معافی مانگیں۔ بہت ہی غلط کر رہے ہیں، آخر میں پچھتاوا ہوگا اور آگے شاید معافی کے دروازے بھی بند ہوجائیں۔ دل دکھانا مقصد نہیں ہے اس تحریر کا، پاکستانیوں کی جان قیمتی ہے، یہ احساس دلانا اور ان کو بچانے کی عاجزانہ کوشش ہے!
پاکستان زندہ باد!
🚨جنوری سے ہم لوگ صرف ایک ڈیمانڈ کر رہے تھے کہ عمران خان کا علاج کروا دو 85 فیصد بہت ہوتا ہے عمران خان کو ایک آنکھ سے نظر نہیں آتا یہ عمران خان کا علاج نہیں کروا رہے ہمیں کیا پتہ یہ عمران خان کے ساتھ آگے کیا شیطانی کرنے جا رہے ہیں ان کو شیطانی سے روکنے کے لیے ہمیں دباؤ بڑھانا ہو گا ۔
باجوڑ میں علیمہ خان کا خطاب
نو ، دس مہینے کی خاموشی اور مصلحت کے بعد سہیل آفریدی چاہتا ہے کہ اسے دس مہینے پہلے والی پذیرائی ملے ۔نہیں ملے گی ۔ عمران خان کے یہ دس مہینے قید تنہائی اور سخت اذیت میں گزرے۔ سہیل آفریدی اڈیالہ تک نہ پہنچ سکا۔ شہر شہر ریلیوں کا سلسلہ ختم کردیا۔ نا ڈرون حملوں پر احتجاج کیا نا فوجی آپریشن پر۔ کبھی پی ایس ایل کے نام پر فوجی افسران کے ساتھ بیٹھا نظر آیا کبھی امیج بلڈنگ کے لیے کٹھ پتلی حکمرانوں کیساتھ۔ سہیل آفریدی اب پنکچر ہوچکا ہے۔
جب مجھے پتا چلا میرا بیٹا شہید ہو گیا ہے تو کیں نے پوچھا بتاؤ اس نے گولی کدھر کھائی ہے جب مجھے بتایا گیا کہ اس نے گولی سینے پر کھائی ہے تو میں مطمعن ہو گیا
جو اپنے حقوق کے لیے جنگ لڑتے ہوۓ جان دیتا ہے وہ شہید ہوتا ہے مجھے اپنے بچے کی شہادت پر فخر ہے
شہید رزاق کے والد کے جذبات