انٹرویو کا یہ کلپ خواجہ آصف کے اس بیان کا جواب ہے کہ عدم اعتماد کے بعد حکومت کرنے پر مولانا فضل الرحمن نے مجبور کیا کیونکہ وہ میٹر چلانا چاہتے تھے اور انھوں نے میٹر چلایا بھی۔
(میٹر مطلب پیسہ بنانے چاہتے تھے)
لیکن۔۔۔پھر یہ کلمہ گھر سے نکلتے ہوئے خوف کے مارے بالٹی سر پر رکھنے اور چلتے ہوئے چاروں طرف لوہے کی چادروں کی ڈھال رکھنے والے بزدلانہ اور اور گیدڑانہ عمل سے بھی روکتا ہے۔۔۔انی دیاں۔۔۔!!!!
سسٹم کے باپ صدر آصف علی زرداری نے عمران نیازی سے کہا تھا کہ میں نے بہت نیب دیکھے ہیں۔ مجھے تمہارا غم ہے، جس دن نیب تمہیں بلائے گی، اُس دن تمہاری چیخیں سننے والا کوئی نہیں ہوگا۔
آج عمران نیازی جیل میں رو رہا ہے، لیکن اُس کی سننے والا کوئی نہیں ہے۔
@Na_hd7
درخت کے ساتھ جھولتی یہ لاش اس نظام کے مُنہ پر طمانچہ ہے جہاں غریب کی خواہشوں کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ عدل پر قائم معاشرہ ہوتا تو حکمران دہل جاتے مگر ضمیر مردہ ہیں۔ کیا وفاقی حکومت آج کی تاریخ میں اس فراڈیے کو گرفتار کر سکتی ہے؟
وزیراعظم صاحب۔لائبہ کےخواب لوٹنے والوں کونشانِ عبرت بنائیں۔غریب باپ کی عمر بھر کی کمائی ہڑپ کرنے والے فراڈیے آزاد کیوں ہیں؟بیرونِ ملک تعلیم کے نام پر فراڈ کرنے والے کنسلٹنٹس پر فوری پابندی لگائیں،ورنہ مزید کتنے لائبہ جیسےاپنے خوابوں سمیت دفن ہوں گے۔@CMShehbaz
گاڑی خراب ہو تو مالک ذمہ دار!
گاڑی فٹنس میں فیل جرمانہ مالک کا!
لیکن سڑک ٹوٹی ہو، حادثہ ہو یا گاڑی تباہ ہو جائے تو ذمہ داری کس کی؟
عوام صرف ٹیکس دینے کے لیے شہری ہیں یا محفوظ سہولتیں حاصل کرنے کے لیے بھی؟
حکومت سے مطالبہ ہے کہ گاڑیوں کی فٹنس کے ساتھ سڑکوں کی فٹنس سرٹیفکیٹ بھی دے
جب سالا سیتاوائٹ کی منجی بغیر ہیلمٹ ٹپ رہا تھا
جب سالا پلے بوائے کی زندگی گزار رہا تھا
جب سالا مراد سعیدی پٹھی ڈھولکی وجا رہا تھا
جب سالا یار کی بیوی کے ساتھ ایک ایمپائر کو کھڑا کرکے کھڑا کررہا تھا
جب سالا عائلہ ملک کے ساتھ کالا باغ سپل وے کھول رہا تھا
تب یہ مولوی کومہ میں تھا
ویلڈن عمرچیمہ، بہترین تجزیہ 👏👏
پی ٹی آئی کو چاہیے کہ دہشتگرد TTP سے اپنے اتحاد کا اعلان کردے، کل ایک پروگرام میں شفیع جان TTP کیخلاف کچھ بول نہیں سکا، ایسا لگتا ہے PTI اور TTP کا آپس میں کوئی معاہدہ ہے۔ عمران نیازی بھی دہشتگردوں کے دفاتر کا کہتا رہا ہے، اب PTI اپنے صوبے میں دفاتر کھول کر دے دے۔ دہشتگردی ختم کرنے کیلئے PTI کے پاس خود بھی کوئی پلان نہیں، دہشتگردوں نے ہمیشہ مذاکرات سے فائدہ ہی اٹھایا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے لانگ مارچ ختم کرو لانگ مارچ کے زریعے ہم بلیک میل نہیں ہوں گے۔۔وسیم بادامی
حکومتیں ہوتی ہیں بلیک میل ہونے کے لیے ہیں،راجہ ناصر عباس
لیکن خان صاحب تو کہتے تھے لاشیں دیکھ کر بلیک میل نہیں ہوں گا پہلے دفناو پھر بات کرو۔وسیم بادامی
خان صاحب غلط تھے۔راجہ ناصر
اور ریاست مدینہ بنانے کے لئے عمران خان نے بشریٰ پیرنی، فرح گوگی، شہزاد اکبر، عارف نقوی ، ملک ریاض، عثمان بزدار، پرویز الٰہی ، شیخ رشید ، مراد سعید، رمل علی اور عائلہ ملک کا ماڈل فالو کیا۔