لاہور ہائی کورٹ نے طلاق کے تین روز بعد ازدواجی تعلقات پر شوہر کے خلاف زیادتی کا مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیدیا، رحیم یار خان پولیس نے زیادتی کا مقدمہ درج کیا تھا۔جسٹس طارق سلیم شیخ نے قرار دیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے تحت طلاق 90 دن مکمل ہونے سے قبل قانونی طور پر مؤثر نہیں ہوتی اس لیے اس مدت کے دوران ازدواجی تعلقات کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ طلاق کے بعد 90 روز کے اندر شوہر کو طلاق منسوخ کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے اور اس مدت میں نکاح برقرار تصور کیا جاتا ہے۔زیادتی کا مقدمہ ایک سال قبل درج ہوا تھا۔
نواز شریف کے بیٹے کی 9 ارب کی جائداد ملک ریاض کو 18 میں بیچی گئی۔ برطانیہ نے اس کی تفتیش کی اور رقم پاکستان کو ملی۔۔ ظلم یہ کہ کرپشن کا مقدمہ عمران خان پر ۔۔ واہ نظام انصاف واہ
القادر یونیورسٹی بنانے کا مقصد پاکستان میں الازہر یونیورسٹی جیسا ایک اسلامی تحقیقاتی ادارہ قائم کرنا تھا
لیکن اسٹیبلشمنٹ نے بغضِ عمران میں اس خیراتی ادارے کو بھی عمران خان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی
5 اگست 2023، وہ لمحہ جب خان صاحب کو زمان پارک سے گرفتار کیا گیا۔ نا لندن بھاگا، نا رحم کی اپیل کی بلکہ شیروں کی طرح سینہ تان کے موت کی چکی میں چلا گیا
24 نومبر کو اس دن کا قرض اتارنا ہے 💔
وہ پانی کا نظام ٹھیک کر کے زراعت میں جدت لا کر آپ کا معیار زندگی بہتر بنا سکتے ہیں۔
لیکن وہ ایسا نہیں کرتے
وہ ڈیم بنا کر ، نہروں پر ٹربائن لگا کر سستی بجلی پیدا کرکے آپکو دے سکتے ہیں۔
لیکن وہ نہیں دیتے۔
وہ ایر-ان سے سستا تیل و گیس لیکر آپکی مشکلات کم کر سکتے ہیں۔
لیکن وہ نہیں کرتے۔
وہ لا این آرڈر ٹھیک کر کے آپ کو پرسکون زندگی دے سکتے ہیں۔
لیکن وہ نہیں دیتے۔
وہ ٹووارزم کو بہتر بنا کر اور امن و امان قائم کر کے پر کیپٹا انکم بڑھا سکتے ہیں۔
لیکن وہ نہیں بڑھاتے۔
وہ بہتر اور معیاری نظام تعلیم لا کر قوم کا شمار مہذب قوموں میں کر سکتے ہیں۔
لیکن وہ نہیں کرتے۔
وہ غربت اور جہالت کا خاتمہ کر کے ریاست کو خوشحال بنا سکتے ہیں
لیکن وہ نہیں بناتے۔
وہ ایسا کیوں نہیں کرتے؟
وہ ایسا اس لئے نہیں کرتے کیونکہ یہ ان کا مقصد ہی نہیں ھے ۔ ا۔ کا مقصد صرف اور صرف دولت سمیٹنا ھے جس کے لیے ضروری ھے کہ عوام کو نان نفقہ کا محتاج رکھا جائے جس میں وہ کامیاب ہیں۔ انہوں نے ہر قیمت پر تمہیں غلام ہی رکھنا ہے۔
عمران خان قید میں نہیں ہے
ہم سب قید میں ہیں۔
عوام کو ریلیف کیوں نہیں ملتا
عوام کی زندگی کیوں نہیں بدلتی
کیونکہ غلام کے اتنے ہی حقوق ہوتے ہیں جتنے ہمیں مل رہے ہیں۔
اس سے زیادہ سہولتیں آزاد قوموں کیلئے ہوتی ہیں
آپ محنت کرکے اپنا رہن سہن بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں
وہ مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر آپ کو پچھلی پوزیشن پر پہنچا دیتے ہیں
آپ مزید محنت کرتے ہیں وہ مزید ٹیکس لگاتے ہیں
آپ کو وہ مصیبتوں سے نکلنے نہیں دیتے بلکہ آئے روز مزید پریشانیاں آپکی منتظر ہوتی ہیں۔
ان سب نکات کو آپ کسی سیاسی جماعت کا سپورٹر بن کر نہیں
بلکہ ایک پاکستانی بن کر سوچیں
آپ کو سب کچھ واضع نظر آئے گا
یہاں تک کہ غلامی کا وہ طوق بھی جو آپ کے گلے میں ہے اور آپکو نظر نہیں آتا۔
منقول