عمران خان کی حکومت گرا کر، تین سال عمران خان کو بدترین قید میں ڈال کر پاکستان کے چپے چپے میں جو آگ لگا دی گئی ہے۔ کوئٹہ سے کشمیر تک، اسلام آباد سے مریدکے تک جیسے اپنے لوگوں پر انہی کی حفاظت کے لیے مہیا کی گئی بندوقوں سے، انہی کے پیسوں سے خریدی گئی گولیوں سے، انہی کا خون بہا کر، انہی کے دیس کو لہولہان کیا جارہا ہے۔ جیسے خیبر پختونخواہ سے بلوچستان تک کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے آگ کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ صرف اور صرف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ رجیم چینج کی سازش صرف عمران خان کو ہٹانے کی سازش نہیں تھی یہ ملک توڑنے کا سودا تھا۔ عاصم منیر اور اس کے ماتحت ٹولے نے پاکستان کو جس آگ میں جھونک دیا ہے پاکستانی قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے ایک ایک کرکے اپنی باری کا انتظار کرنا ہے یا ایک ہی بار اور متحد ہوکر اس عفریت سے نجات کے لیے تگ و دو کرنی ہے۔ شاید ہمارے پاس ایسا کرنے کے لیے زیادہ وقت نہ بچا ہو۔
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
سب جانتے ہیں کہ عمران خان کی بہنوں کی یہ کوشش سیاست کے لیے نہیں بلکہ اپنے بھائی کی زندگی کے لیے اور اسکے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف ہے۔ مگر منافقین اسے سیاست قرار دیں گے۔
یہ کام عمران خان کے نام پر ووٹ اکٹھے کرکے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والوں کو خود کرنا چاہیے تھا۔
وہ لمحہ جب آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی پر عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر اور معروف رہنما شوکت نواز میر اور دیگر قائدین چکوٹھی ایل او سی یعنی خونی لکیر پر جا کر افواجِ پاکستان کو مبارک باد دی اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔اور آج اسی شوکت نواز میر کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔
وقت بدل سکتا ہے، لیکن تاریخ اپنے حقائق محفوظ رکھتی ہے المختصر سب یاد رکھا جاۓ گا۔
The Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa Sohail Afridi, along with the entire provincial cabinet, parliamentary leadership, members of National Assembly and members of the Punjab assembly was heading toward Adiala Jail to stand in solidarity with their leader, Imran Khan.
For the past seven months, Imran Khan has been unlawfully subjected to solitary confinement in prison, isolated from his family, denied basic rights, and deliberately cut off from the people of Pakistan. For the last eight months, he has also been denied proper medical treatment despite repeated concerns regarding his health. These actions are not only inhumane, but a blatant violation of constitutional, legal, and fundamental human rights.
After exhausting every democratic and legal avenue, we are left with no choice but to exercise our constitutional right to peaceful assembly in order to raise our voice against this illegitimate, stolen-mandate government and its continued political victimization of Pakistan’s most popular leader.
Our gathering point was nearly one kilometer away from Adiala Jail. Yet despite this peaceful and lawful intention, the police moved to block Imran Khan’s family, the elected representatives of the people, the entire Khyber Pakhtunkhwa cabinet, and the sitting Chief Minister immediately after they exited the motorway en route to Adiala through Rawalpindi. The blocking of an elected Chief Minister and his cabinet is not just an attack on one political party, it is an attack on democracy itself, an insult to the mandate of millions of Pakistanis.
میرا رب سچ کا خُدا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیشہ حق اور سچ پر رہنے والوں کا ساتھ دیتا ہے۔ آج سائفر کی حقیقت سامنے آگئی۔ عمران خان صاحب نے ہمیشہ سچ بولا ہے۔ ہمیشہ حق بات کی ہے۔
عمران خان صاحب نے ہمیشہ پاکستان اور پاکستانیوں کی سالمیت اور خودمختاری کی بات کی ہے۔ اپنی قوم کی عزت نفس کا خیال رکھا ہے۔ غلامی قبول نہیں کی۔ وہ ایک آزاد شخص ہے اور اپنی قوم کو بھی آزاد دیکھنا ان کا خواب ہے۔ جو ہر صورت پورا ہوگا انشاء اللّٰہ
اڈیالہ کی دیواریں کچھ وقت کے لئے انہیں قید تو رکھ سکتی ہے لیکن دیواروں کے پیچھے بھی وہ ایک آزاد شخص ہیں۔ انشاء اللّٰہ یہ دیواریں ایک آزاد شخص کو زیادہ دیر قید نہیں رکھ پائینگی۔ ناجائز طریقے سے کرسیوں پر بیٹھے بیرونی غلام آزاد ہو کر بھی غلام ہیں۔
پاکستانیوں کا مینڈیٹ چوری کر کے نااہلوں کو ملک پر مسلط کیا گیا ہے۔ اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ عوام پر قرضوں، مہنگائی اور بیروزگاری کے پہاڑ توڑے گئے ہیں۔ پاکستان دن بدن تباہی کی طرف جا رہا ہے لیکن کچھ لوگوں کا مفاد اور مقصد عمران خان صاحب کو جُھکانا اور پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنا ہی ہے اور یہ خواب انشاء اللّٰہ کبھی پورا نہیں ہوگا۔
یہ نااہلوں کا ٹولہ اب مزید ملک پر اور مُلک پر مسلط کرنے والوں پر بوجھ بن گیا ہے۔ عمران خان صاحب واحد شخص ہے جو پاکستان کو بچا سکتا ہے۔ جو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بیرونی طاقتوں سے پاکستان کے لیے فیصلے کر سکتا ہے۔ بیرونی غلامی کو Absolutely Notبول سکتا ہے۔ معیشت بہتر کر سکتا ہے۔ قوم کو اکٹھا کر سکتا ہے۔ قوم کو صرف اس پر اعتماد ہے۔ عمران خان صاحب نے اب آنا ہے۔ یہ قوم کی ضد ہے اور ملک کی ضرورت۔
Long after Imran Khan said there is proof of #US meddling in #Pakistan's affairs, the cables documenting this interference are now out for public records. https://t.co/fKF7KIyQ0R