@TahirIqbal87 دل تو کرتا ہے گالی ،بددعاان ماؤں کو دوں جنہوں نے تم جیسے چند ٹکوں پر ،کسی عہدے پر ،جھوٹی سی ترقی کے وعدے پر بکنے والے بیشرم ،بیغیرت،ناسور پیدا کیے۔لیکن میری تربیت اجازت نہیں دیتی۔اللہ نے تمہیں قلم کی طاقت دی ۔۔۔۔شعور بھی دے
عمران خان نے پنجاب میں سات مدر چلڈرن ہسپتال بنوانے شروع کررکھے تھے ان میں سے ایک میانوالی کا تھا، بغض، عناد اور حسد کی تکلیف کی شکار مریضہ سے انکے نام کی تختی برداشت کہاں ہوسکتی ہے۔
ایسے گرے ہوئے مخالفین!!!
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی#ReleaseImranKhan
چکوال میں آسٹریلین بچی کے والد نے DPO چکوال کاشف ذوالفقار کو تحریری درخواست دی ہے انہوں نے کہا پولیس کے سب انسپکٹر احسن عبدالله نے جو FIR کاٹی واقعات کو غلط بیان کیا ہے
عدیل صاحب کہتے ہیں جب ان کو گولیاں لگی ہسپتال لے جایا گیا وہاں ایک کانسٹیبل عتیق نے بدتمیزی شروع کردی پھر سٹی پولیس اور سب انسپکٹر عبدالله نے پورا واقعہ سننے کے بعد ان پر دباؤ ڈالا پہلے سادہ کاغذ پر دستخط کریں انگوٹھے کا نشان دیں پھر ڈاکٹر کو دکھانے کی اجازت دیں گے اور زبردستی پولیس اہلکار نے سادہ کاغذ پر دستخط لئے انگوٹھے لگاۓ اور جب ڈاکٹر نے دیکھا تو کہا ان کی حالت بہت نازک ہے یہ ہے مریم نواز صاحبہ کی بنائی ہوئی فورس
اسدطور
شہباز گل بازی پلٹ گیا.... 🔥🔥🔥
شہباز گل نے اسٹیبلشمنٹ کا پورا اندرونی نیٹ ورک چاروں طرف سے گھیرے میں لیا-- مزمل اسلم پتلی گلی سے سرپلس بجٹ دینے جا رہے تھے شہباز گل کے شوہر نے کام روک لیا
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
یہ سلمان فیاض غنی لاہور کور کمانڈر تھے ان کی وردی اتنی مقدس تھی کہ اس کو لہرانے والے کو دس سال قید کی سزا ہو گئی لیکن ان کی اپنی قیمت اتنی تھوڑی ہے کہ کسی کو خبر نہیں یہ کدھر کہاں کس حال میں ہیں
اس کی جان کی قیمت اتنی سستی ہے کہ جب نو مئی کو لوگ کورکمانڈر کے گھر کی طرف بڑھ رہے تھے یہ مزید سیکورٹی کا مطالبہ کرتا رہا لیکن جو سیکورٹی اس کی حفاظت پر مامور تھی اسے بھی ہٹا دیا گیا تھا
We have received reports that Imran Khan was again taken to PIMS in the early hours of 15 June. We found out through a tweet by Barrister Gohar on the morning of 15 June.
We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail.
A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection?
We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
A full bench court order permits six family members to meet Imran Khan every Tuesday. Yet over the past eight months, the authorities have largely violated this order. My sister, Dr. Uzma Khan, has only been allowed to meet him a few times, and her last meeting took place on 2 December, 2025.
We reject the government’s continued use of isolation and deprivation as tools of pressure against Imran Khan. Today, we expect all six family members to be allowed to meet him in accordance with the court’s order.
The denial of Imran Khan’s rights is not merely a political issue; it is a clear violation of both the jail manual and High Court orders.
According to the jail manual, Imran Khan is entitled to:
1. A weekly telephone call with his sons.
2. A weekly meeting with family members.
3. A weekly meeting with his legal counsel.
4. Access to books and reading material.
5. Access to television and newspapers.
6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups.
7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out.
In addition, High Court full bench orders provide that:
1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone.
2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday.
3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
@Rehan_Ahmad_97@SHABAZGIL کچھ بھی نیا نہیں ہے جب بھی جرنیلوں کی دم پر پاؤں آتا ہے ان کی ناجائز اولاد ایسے ہی تڑپتی ہے ناجائز اولاد بین ڈالتی ہے مائیں جرنیلی حرم تازہ دم کرتی ہیں 😜😜😜😜
جب تک خانصاحب کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا ، بہنوں سے ملاقات نہیں کروائی جاتی:
1- آپ نے سر پلس بجٹ پاس نہیں کرنا
2- اربوں روپے جنرلز کو نہیں دینے
3- بجٹ ایک یا مہینے سے زیادہ پاس نہیں کروانا
سب باتیں چھوڑ کر اس ایک بات پر فوکس کرنا ہے ہم سب نے۔
مزمل اسلم جس کی اپنی کوئی کریڈیبلٹی نہیں وہ ان ڈاکٹر شہباز گل پر حملہ آور ہے جو نہ صرف اپنے مخصوص سٹائل میں باجی پائن اور چھوٹے چھوٹے بھگوانوں سب کی بینڈ بجاتے ہیں بلکہ PTI کے وہ پہلے فرد ہیں جن پر وحشیانہ تشدد ہوا۔ انہوں نے کوئی پریس کانفرنس نہیں کی بلکہ شروع سے آخر تک ڈٹے رہے
ان پر مزمل اسلم جیسے چبڑھ ٹاوں ٹاؤں کر کے صرف اپنی اصلیت ظاہر کر رہے ہیں
قاسم اور سلیمان کی آواز بنیں 🚨
ہمارے والد کو جیل میں غیر منصفانہ اور غیر انسانی حالات میں قید رکھا گیا ہے۔ اس وقت انہیں وہاں قید ہوئے تقریباً 1000 دن ہو چکے ہیں
ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں فوری طور پر اپنے وکلاء خاندان اور ڈاکٹرز سے ملاقات کی اجازت دی جائے
اپریل 2022 میں وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے معاملے پر میری جانب سے بیرونی مداخلت (سائفر) پر پیش تحریکِ عدم اعتماد کو آئین کے منافی قرار دے کر مسترد کرنے اور صدرِ مملکت کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کے اقدام پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے اس کا از خود نوٹس لیا تھا، تحریکِ عدم اعتماد پر پہلے تو سپریم کورٹ نے اپنی حدود سے تجاوز کر کے پارلیمنٹ جو کہ ایک سپریم ادارہ ہے اس میں مداخلت کی اور پاکستان کے خلاف ہونے والی بیرونی و اندرونی سازش کو روکنے کے لیے دی گئی میری رولنگ کو غیر قانونی قرار دیا، اس کے بعد 12 اپریل، 2022 سے آج ( 4 سال سے زائد وقت) تک پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس کے پاس میری بطورِ قائم مقام سپیکر بھیجی ہوئی سائفر کی سربمہر کاپی تحقیقات کے لیے پڑی ہے جو کہ ان کے سیکرٹری نے آفیشلی وصول کر کے سائن بھی کیے لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے سائفر اور بیرونی مداخلت کی بڑی سہولت کاری کرتے ہوئے اس پر آج تک تحقیقات نہیں کیں، پاکستانی کی بربادی میں حصہ ڈالنے پر سپریم کورٹ کے یہ تمام ججز بھی آرٹیکل 6 کے حقدار ہیں۔
#سائفر_ایک_حقیقت
دنیا کا سب سے بڑا اور معاشی طاقتور ملک چین ، اور سپرپاور دعوی کرنے والا امریکہ، ٹرمپ پروٹوکول پر ٹریفک رواں دواں ، لوگوں کی گاڑیاں بھی کھڑی ہیں اور سب کچھ معمول کے مطابق، انہوں نے نائب صدر کے لیے اسلام آباد میں ۳ ہفتے کرفیو لگادیا اردلیوں نے۔