ہاں تو کون پوچھ رہا تھا تمہارے باپ کا صوبہ ہے تو ہاں ہماری ہی باپ کا صوبہ ہے ہمارے ہی باپ کا پاکستان ہے ۔ ہم نے ہندوؤں کی چھوڑی جائیدادوں پر قبضے نہیں کئے ۔ ملا جواب کہ ہاں ہمارے باپ کا پاکستان ہے
( کمال بھائی نے دل گارڈن گارڈن کردیا )
یہ کلپ دیکھ کر دل سے ہر کراچی والے کو ماننا پڑے گا کہ کراچی والوں کے حقوق کی جنگ کیلئے سب سے مضبوط
اور توانا آواز اور کراچی کیلئے ٹھوک کر جواب دینے والا صرف اور صرف
سید مصطفی کمال ہے۔
آج اس کلپ میں سید مصطفی کمال کے الفاظوں نے ہم سب کراچی والوں کی ترجمانی کی ہے۔
جیو کمال ❤️❤️❤️
کراچی والوں کادل خوش کردیا❤️
#Karachi #MustafaKamal
#Pakistan #MQMPakistan #SindhWantsAsministrativeUnits
ابھی کچھ دیر پہلے Foodpanda سے گھر کا کچھ سامان منگوایا۔ ایک نوجوان آیا، بظاہر پڑھا لکھا، کراچی کا نوجوان۔ آرڈر آن لائن Paid تھا۔ اس نے سر جھکا کر سامان دیا اور جلدی سے چلا گیا۔
کچھ دیر بعد فون دیکھا تو اسی Rider کا میسج آیا ہوا تھامیسج پڑھا تو وہ منظر دوبارہ ذہن میں آگیا کہ وہ کس طرح سر جھکائے، خاموشی سے سامان دے کر فوراً چلا گیا تھا۔
یہ واقعہ شیئر کرنے کا مقصد صرف ایک Foodpanda Rider کی بات کرنا نہیں، بلکہ کراچی کے نوجوانوں کا تاریک مستقبل اور اس شہر کی شدید محرومیاں دکھانا ہے۔
یہ شہر موجودہ نظام کی وجہ سے چند ہاتھوں میں یرغمال ہے۔ چند افراد، خاندان اور ان کے رفقاء گزشتہ 18 سال میں 22 ہزار ارب روپے انہی لوگوں کی سماجی و معاشی ترقی کے نام پر لئیے، مگر چند افراد پھلتے پھولتے گئے حرام کے پیسوں سے اور کراچی کے پڑھے لکھے نوجوان کا مستقبل Foodpanda، Bykea اور inDrive تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔ محنت کرنے میں کوئی عار نہیں، ہر محنت کش قابلِ احترام ہے—لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس شہر کے نوجوانوں کے لیے ان کی تعلیم اور صلاحیت کے مطابق مواقع بھی پیدا ہوئے؟
اب وقت ہے کہ کراچی کے لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچیں، سوال کریں اور اپنےمطالبات کراچی کی انتظامی یونٹ بناؤ سامنے رکھیں اس کے لئے سڑکوں پر بھی آئیں۔
آج میرے ذہن میں بس اسی نوجوان کا جھکا ہوا سر اور اس کا ایک جملہ گھوم رہا ہے:
“Sir… wapsi k petrol k liye paisay nahi hain.”
#نظام_بدلو_انتظامی_یونٹس_بناؤ
#انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا
#Karachi
مصطفیٰ کمال نے درست کہا یہ لوگ جان دیں گے؟
جو لوگ باہر کی لڑائی میں اپنی جان بچانے کے لیے اپنی ہی گھر کی عورتوں ماں، بہن، بیٹی اور بھابھی کو کاروکاری کے نام پر قتل کر دیتے ہیں، وہ جان دیں گے ہر گز نہیں۔
کوہاٹ میں معصوم پاکستانیوں کا خون بہہ گیا، سہاگ اجڑ گئے، لیکن وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کو اتنی مہلت بھی نہ ملی کہ اپنے ہی صوبے کے مظلوموں کے جنازے میں شریک ہو کر ان کے پسماندگان کے زخموں پر مرہم رکھ پاتے۔
سہیل آفریدی !
اقتدار کی ہوس میں اپنے ہی عوام کے خون سے منہ موڑنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔
On 20 September 2026, fire exchange took place between the Security Forces convoy and Khwarij in Hangu District. Resultantly, eight Khwarij belonging to Indian-sponsored Fitna-Al-Khwarij were sent to hell due to effective engagement by own troops.
However, during the intense fire exchange, two brave officers including Captain Abuzar Farooq (Age: 23 years, resident of District Gujranwala) and Lieutenant Sheraz Babar (Age: 22 years, resident of District Chakwal), who were leading their troops from the front, fought gallantly and paid the ultimate sacrifice and embraced shahadat along with their four men.
Sanitization operation is being conducted to eliminate any other Indian sponsored Kharji found in the area, as relentless Counter Terrorism campaign under vision “Azm e Istehkam” (as approved by Federal Apex Committee on National Action Plan) by Security Forces and Law Enforcement Agencies of Pakistan will continue at full pace to wipe out the menace of foreign sponsored and supported terrorism from the country. These sacrifices of our brave soldiers further reinforce our unwavering commitment to safeguarding our nation at all costs.
سندھی ہمارے بھائی ہیں، انکی مائیں بہنیں بیٹیاں ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں ہیں...!!
پیپلزپارٹی نے اپنے 18 سالہ ظالمانہ حکمرانی، بدعنوانی اور بدانتظامی کے باعث سندھی قوم کو پورے خطے کی سب سے مظلوم قوم بنا دیا ہے...!!
#MustafaKamal#MQMPakistan#EndCorruption#SindhRights#Sindh #Karachi
EXCLUSIVE: Pakistan Army says its support for Saudi Arabia goes beyond diplomacy. “We will go to any extent,” Lt. Gen. Ahmed Sharif Chaudhry tells Arab News https://t.co/694ZY1zd6E
مکہ معاہدے میں شامل کسی ایک فریق پر حملہ ہوتا ہے تو معاہدے میں شامل ممالک لائحہ عمل طے کریں گے اور اسی پر عمل کریں گے۔
دفاعی معاہدوں پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو کبھی بھی عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا، کسی حملے کا ردعمل کیا ہوگا، تینوں ممالک لائحہ عمل طے کریں گے اور اسی کے مطابق اس پر عمل درآمد کریں گے۔
فوجی کارروائیوں اور سکیورٹی سے متعلق معلومات خفیہ ہوتی ہیں، کسی بھی کارروائی کا فیصلہ ان تینوں ممالک نے کرنا ہے۔