قاسم اور سلیمان کی آواز بنیں 🚨
ہمارے والد کو جیل میں غیر منصفانہ اور غیر انسانی حالات میں قید رکھا گیا ہے۔ اس وقت انہیں وہاں قید ہوئے تقریباً 1000 دن ہو چکے ہیں
ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں فوری طور پر اپنے وکلاء خاندان اور ڈاکٹرز سے ملاقات کی اجازت دی جائے
آواز اٹھائیں 🚨
عمر سرفراز چیمہ نے کچھ عرصہ پہلے عدالت میں کہا تھا، یا تو ہمیں مار دیں اور یا ہمیں انصاف دیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد اتنی بیمار ہے کہ خود سے کپڑے بھی نہیں پہن سکتی۔
عمر سرفراز چیمہ اور ڈاکٹر یاسمین راشد کا کوئی مخصوص گروپ نہیں، سب آواز اٹھائیں
جس طرح کی طِبی دہشت گردی عمران خان کے ساتھ کی گئی، اور اس پر جیسے ان کے ذاتی معالجین اور فیملی کے بغیر جو عسکری رپورٹس میڈیا پر چلائی گئیں اس سے مزید تشویش ناک صورت حال جنم لے رہی ہے۔ عمران خان اس وقت ریاست کی تحویل میں ہیں جہاں مسلسل اُن کی زندگی سے کھیلا جا رہا ہے۔ آخر کس چیز کو چھپایا جا رہا ہے؟
کنٹرولڈ چیک اپ، کنٹرولڈ انفارمیشن، کنٹرولڈ میڈیا ۔ جس سے زندگی کو خطرہ ہے، جن کی وجہ سے اس نہج پر پہنچے ان ہی کی بات پر یقین کیا جائے؟
اس سے قبل عمران خان پر وزیرآباد میں قاتلانہ حملہ کروایا گیا ان کو گولیاں لگیں، اللہ نے اُن کی زندگی کی حفاظت کی لیکن اس وقت بھی بیانیے بنائے گئے، لمحوں میں آئی ایس آئی نے میڈیا کو ویڈیو بیانات بھجوانا شروع کر دئیے۔
فوجی قیادت کے کہنے پر آئی ایس آئی نے ایک افغانی کو خان صاحب کو مارنے کا ٹاسک دیا، جب میں نے پریس کانفرنس میں اس سازش کا پردہ فاش کیا تو آئی ایس آئی اسلام آباد سیکٹر نے پریس کلب میں ایک افغانی کی پریس کانفرنس رکھوائی اور شام کو پرائم ٹائم ٹی وی پروگرام میں بیانیے کے لیے بھجوایا گیا۔ میں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا، مگر یہ جانتے تھے کس کا ذکر ہورہا ہے۔
صوابی میں ہیلی کاپٹر گرانے کا پلان اکسپوز ہوا جس کے لیے ڈبل ایجنٹ ہائیر کیا گیا تھا، جو بعد میں مارا گیا۔ اس کے بعد ہیلی کاپٹر میں غلط فیول بھروایا گیا اور رپورٹ آج تک سامنے نہ آسکی۔ اٹھارہ مارچ کو ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا اور جب ناکام ہوا تو پولیس افسر کو گالیاں دی گئیں کہ عمران خان کیسے بچ کر نکل گیا۔اس کے علاوہ متعدد کوششیں ہوئیں۔
گزشتہ تین سال سے عمران خان جیل میں ہیں اور مسلسل ان کی صحت کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ عسکری خبریں چلوانے والا میڈیا یہ کیوں بُھول رہا ہے کہ آپ پاکستان کے سب سے عظیم بیٹے عمران خان کی زندگی سے کھیلنے میں حصہ دار بن رہے ہو؟ عمران خان کی صحت کے حوالے سے سوال اٹھانے کو سیاست کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟ کیوں ان کے ڈاکٹرز سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں ان کی فیملی سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں انہیں ہسپتال نہیں منتقل کیا جا رہا؟
آخر ایسا کیا گیا ہے جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
ہاں خان صاحب نے جب جیل میں عاصم لاء اور ذہنی مریض کا ذکر کیا تو عاصم منیر نے سب کے سامنے کہا کہ عاصم لاء ہے تو ہے، اب بتاتا ہوں عاصم لاء اور ذہنی مریض کیا ہوتا ہے۔
اسی غصے میں ڈی چوک میں خون ریزی کا اقبال جرم کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بتایا تھا سنگجانی سے آگے مت بڑھو، کیا اکھاڑ لیا صرف ہم سے لوگ ہی مروائے نا۔ ”پھر کوشش کریں اسلام آباد آنے کی، اس دفعہ اٹک پل پر کھڑے ہوکر ماریں گے، ویسے بھی ڈی چوک میں مروا تو دئیے“۔
تو کیا اس غصے میں ہی کچھ ایسا کیا گیا ہے، جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
میں کسی انسان کو اس کے زبان کے بنیاد پر قتل کرنے کو گناہ سمجھتا ہوں۔
بات یہ ہے کہ سوئی گیس بلوچستان سے نکلی پاکستان کے ہر کونے میں پہنچی جس سے کارخانے چلیں لیکن مری بگٹی میں آج بھی گیس نہیں، میرے گاؤں میں گیس نہیں ہے۔
اس طرح کون چھوڑے گا آپ کو مزید exploration کیلئے؟
ایک اور بڑی گواہی آگئی 🛑
شہید مفتی منیر شاکر کے بیٹے کو تیراہ میدان جانے سے روک دیا گیا۔ ٹیلی فون پر مقامی بریگیڈ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ آپ کو ہمارے مشر (افسر) نے بلایا ہے، آپ ان سے ملاقات کریں۔ روکنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ہم نے مقامی لوگوں کو یہاں سے نکلوا کر علاقہ خالی کرا دیا ہے۔ اس پر مفتی منیر شاکر کے بیٹے نے جواب دیا کہ آپ لوگ تو خود کہتے رہے ہیں کہ تیراہ کے لوگوں کو بے دخل نہیں کیا گیا
عمران خان تک رسائی اس لئے روکی گئی ہے تاکہ جو کالک حکومت پاکستان نے اپنے چہرے پہ ملی ہے اس پہ عمران خان کا موقف نہ آجائے- ہم نہ پچھلے یزید کو مانتے ہیں نہ ہی آج کے کسی یزید و فرعون سے خوفزدہ ہیں- آج عمران خان کی صحت پہ پوری قوم کو تشویش ہے لیکن کیا کریں ملک میں عاصم لاء نافذ ہے
ٹرینڈ الرٹ 🚨
فضول بیٹھے سے بہتر ہے سب یہ ٹرینڈ #ملک_گیر_احتجاج_کی_کال_دو جوائن کریں اور لیڈرشپ پر ملک گیر احتجاج کے لئے پریشر ڈالیں
اس وقت سب سے ضروری اور سب سے اہم خان صاحب کی صحت اور زندگی ہے
میں نومبر 2024 میں عمران خان سے آخری دفعہ ملا تھا اس وقت ان کی صحت بلکل ٹھیک تھی اور آنکھوں کا کوئی مسلہ نہیں تھا۔ ڈاکٹر عاصم یوسف
یاد رہے کہ سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان پچھلے 87 دنوں سے ذہنی مریض اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی بدترین قید تنہائی میں ہیں۔
My father, Imran Khan, has now spent over 900 days in a death cell with no family visits and no access to his personal doctors. Credible reports confirm he has been diagnosed with central retinal vein occlusion, a dangerous blockage that can lead to permanent vision loss if not treated through urgent medical intervention in a proper hospital.
Yet authorities continue to block his treatment and deny him the doctors he trusts. I am even denied the right to speak to him. This is not governance. This is authoritarian cruelty.
I call on every defender of human rights to act before it is too late. The world must see that in Pakistan today, democracy is hollow and basic human rights are being crushed.
حمید لطیف ہسپتال کے مایہ ناز آئی سرجن اور Vitreo Retina
سپیشلسٹ ڈاکٹر خرم مرزا کی ڈاکٹر عاصم کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو:
“میں معائنے کے لیے اپنا پورا سامان ساتھ لایا ہوں لیکن جو بیماری خان صاحب کی آنکھ کے حوالے سے بتائی جارہی ہے اس کا علاج جیل کے اندر ممکن نہیں اس کے لیے باقاعدہ آپریشن تھیٹر لے جانا ضروری ہوتا ہے۔ میں نے چونکہ ابھی معائنہ نہیں کیا میں اس کی کنڈیشن یا پمز ہسپتال میں ان کا جو علاج ہوا ہے اس حوالے سے کچھ نہیں بتا سکتا۔ دوسرا یہاں سے معائنہ کرکے اندازہ ہی لگایا جا سکتا باقی جو باقاعدہ معائنے کی مشینری ہوتی وہ ہسپتال میں ہی ہوتی ہے اس کو یہاں لانا ممکن نہیں”
انہوں نے مجھے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی لیکن میں اپنی جگہ پر کھڑا ہوں۔ کوئی مجھے میرے موقف سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ انہوں نے مجھے خراب کرنے کے لیے تیراہ میں زبردستی انخلاء کیا مگر میں تیراہ گیا تو وہاں لوگوں نے مجھے پیار دیا، سہیل آفریدی
جسٹس محسن اختر کیانی کا خطاب سب لوگ ضرور سنیں اور Repost کریں 🔥🔥
ایک غلط آدمی جب سسٹم میں appoint ہو جائے جسکی integrity پر سوالات ہیں اور جو جج کمپرومائزڈ ہو اور ٹاوٹ ہو تو یہی ہوگا جو آج ہو رہا ہے
ایگزیکٹو کا کردار بہت خوفناک حد تک بڑھ گیا ہے جوڈیشری میں 26ویں اور 27ویں ترمیم کی گئی جس سے آئین کا سٹرکچر ہی تبدیل کردیا گیا اب 28ویں بھی لائی جا رہی ہے۔ آپ سب کو اصل والی تاریخ ضرور پڑھنی چاہیے اور تاریخ یہی بتاتی ہے جن ججز نے ایگزیکٹو کو انکار کیا انکو عبرت کا نشان بنایا جاتا رہا۔
جسٹس صفدر شاہ نے بھٹو کو پھانسی دینے سے انکار کیا تھا انکی میٹرک کی ڈگری جعلی نکلوا دی گئی تھی انکو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی انکو پشاور سے افغانستان جا کر پناہ لینی پڑی انہوں نے بغیر پنشن کی زندگی گزاری اور کینسر سے وفات پاگئے۔ 40 سال بعد اسی سپریم کورٹ نے یہ بھٹو کی پھانسی والا فیصلہ غلط قرار دیا ۔ لیکن جسٹس صفدر شاہ صاحب کے ساتھ سلوک کا کیا مداوا ہوا؟
وفاقی حکومت نے بہت گھٹیا کھیل کھیلا ہے اس لئے سہیل آفریدی فوری طور پر تمام نقلی مکانی والے غریب لوگوں کو واپس تیراہ بیجھ دے
ان غریب لوگوں کے لئے سب آواز اٹھائیں 💔
یہ بکاؤ میڈیا کبھی بھی نہیں دکھائے گا، خیبر پختون خواہ ریسکیو ادارے نے وادی تیراہ میں تین روز میں برف میں پھنسے 3010 افراد کو بحفاظت نکالا گیا جبکہ 942 گاڑیوں کو برف سے نکال کر ٹریفک بحال کی۔
اس ویڈیو کو ہر جگہ پھیلا دیں 🔥