"اے بی سی (ABC) کی ایک صحافی کو یہ رپورٹ کرنے پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ عدالت نے ان کی برطرفی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
اپنی فتح کے بعد کی تقریر میں، انہوں نے کہا: '2023 سے، اسرائیل نے شہریوں کے خلاف بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے اور جان بوجھ کر لوگوں کو فاقہ کشی کا نشانہ بنایا ہے۔'"
یہ ہے ہمارا مستقبل۔۔۔۔💔
میرے ساتھ ہونیوالے فراڈ کامیرے والد کو نا بتانا،وہ مرجائیں گے ۔۔یہ ہے وہ آخری میسج جو اس طالبہ نے اپنے ماموں کو کیا ۔۔۔
اسلام آباد کی اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ نے گزشتہ روز مبینہ طور پر خود کشی کر لی جسکی لاش جی ٹین اتوار بازار کے قریب سے برآمد ہوئی۔۔۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ لائبہ جی ٹین میں رہائش پذیر تھی کل تقریباً 2 بجے گھر سے نکلی تھی۔۔۔اہلخانہ کہتے ہیں کہ لائبہ نے اسلامی یونیورسٹی سے گولڈ میڈل کیساتھ بی ایس کیا،مزید پڑھائی کیلئے بیرون ملک جانا چاہتی تھی ، ایک کنسلٹنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ کروانے کیلئے 70 لاکھ روپے مانگے۔۔غریب باپ موٹرسائیکل پر دودھ فروخت کرکے بچوں کو پڑھا رہا تھا۔خود کرایے کے فلیٹ پر رہنے والے والد نے پلاٹ بیچ کر 21 لاکھ کیش ایجنٹ کو دیا۔۔باقی رقم کا انتظام کرنے کیلئے طالبہ کی والدہ کا زیور بینک میں رکھوایا گیا۔۔طالبہ نےیونیورسٹی میں داخلے کے ڈاکومنٹس چیک کروائے تو سب جعلی نکلے۔۔۔
اس ایجنٹ کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کوئی اور اپنے ادھورے خوابوں اور بھاری دل کے ساتھ اس دنیا سے رخصت نہ ہو ۔۔۔
شکر گڑھ پنجاب سے ایک ضعیف اور کمزور ماں جی نے رابطہ کرکے کہا کہ
"بیٹا میرے دو بیٹے گونگے بہرے ہیں ۔ بڑا بیٹا 23 سال کی عمر میں آج سے 18 سال قبل گم ہوا تھا۔ آج تک وہ نہیں ملا ۔ میں چھوٹی سی دوکان لگاکر بچوں کی چیزیں بیچتی ہوں۔ بہت پریشان رہتی ہوں۔۔مرنے سے پہلے اس اس بچے کو گلے لگنا چاہتی ہوں"۔
ماں جی کا بیٹا بول اور سن نہیں سکتا جسکی وجہ سے شاید کہیں موجود ہو لیکن اپنا پتہ بتا نا سکتا ہوں۔ اسکی نشانی یہ ہے کہ ہونٹ پر چوٹ لگی تھی زخم کا نشان ہوگا ۔
برائے مہربانی اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ ایک بےبس ماں کو اسکے لخت جگر سے ملانے میں مدد کریں۔
آپکا ایک شئیر بہت بڑی نیکی کا سبب بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
7 oct 2026
#waliullahmaroof
🚨 بریکنگ نیوز: اگر دُنیا بے حس نہ ہوتی تو یہ ظُلم ایپسٹن فائلز سے بھی بڑا سکیمڈل بن جاتا غزہ سے واپس آنے والے ایک برطانوی سرجن کا الزام ہے کہ جب فلسطینی بچوں کی لاشیں واپس کی گئیں تو اُنکے دل، پھیپھڑے اور جگر نکالے گئے تھے (غائب تھے)۔
تکلیف صرف بمبوں کی نہیں نفسیاتی تکلیف اُس سے بھی بڑی ہے جو آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں !غزہ کے فلسطینی قیدی شادی ابو سیدہ کو بتایا کہ اس کے اہل خانہ اور بچے بمباری میں مارے گئے ہیں۔تاہم، رہائی کے بعد اس نے اپنے اہل خانہ اور بچوں کو زندہ پایا۔وہ برسوں تک ان کی موت کی خبر اٹھائے زندہ رہا؛جب اسے آزادی ملی تو اس نے انہیں اپنے سامنے کھڑا پایا تو اسکی حالت پاگلوں جیسی ہو گئی ! غزہ کی جنگ میں لوگوں کو پہنچنے والا درد صرف بموں تک محدود نہیں ہے۔